دہشتگردوں کی پشت پناہی کے باعث افغان طالبان رجیم عالمی سطح پرتنہائی کا شکار

کابل: (دنیا نیوز) دہشت گردوں کی پشت پناہی کے باعث افغان طالبان رجیم عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے۔

دہشتگردی، منشیات سمگلنگ اور دیگر مجرمانہ نیٹ ورکس سے مبینہ روابط کے باعث افغان طالبان رجیم پر عالمی برادری کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔

ایک نئی رپورٹ میں افغان طالبان کے حکومتی ڈھانچے کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں، جن میں ان کے مبینہ تعلقات اور سرگرمیوں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔

امریکی تحقیقاتی ادارے مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے تقریباً 55 ارکان اور عہدیداروں کے القاعدہ کے ساتھ براہِ راست اور بالواسطہ روابط اب بھی قائم ہیں، افغان طالبان کے 20 فیصد سے زائد رہنما بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے ماسٹر مائنڈ رہ چکے ہیں۔

افغان میڈیا ادارے افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق طالبان کی 33 رکنی کابینہ میں سے 13 سے 14 ارکان اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں، افغان عبوری وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند اور نائب وزیراعظم کے نام بھی عالمی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

اسی طرح افغان عبوری وزیر داخلہ سراج الدین حقانی، وزیر خارجہ امیر خان متقی اور دیگر کئی وزراء بھی پابندیوں کی فہرست کا حصہ ہیں، افغان میڈیا کے مطابق ان رہنماؤں کے اثاثے منجمد کئے جا چکے ہیں جبکہ ان پر سفری اور اسلحہ کی خریداری سے متعلق پابندیاں بھی عائد ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پابندیوں کی موجودہ فہرست میں طالبان سے وابستہ مجموعی طور پر 135 افراد اور 5 اداروں کے نام شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق عالمی دہشت گردوں سے روابط اور ان کی مبینہ پشت پناہی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ افغان طالبان اب بھی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں، جس کے باعث انہیں عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں