مارک کمٹ نے ایران کی نئی سکیورٹی حکمت عملی کو ایک خطرناک مثال قرار دیدیا

واشنگٹن: (دنیا نیوز) سابق امریکی عہدیدار نے خلیج میں ایران کی نئی سکیورٹی حکمت عملی پر سوالات اٹھاتے ہوئے اسے عالمی سطح پر ایک خطرناک مثال قرار دیا ہے۔

امریکہ کے سابق معاون وزیرِ خارجہ برائے سیاسی و عسکری امور مارک کمٹ نے کہا ایران کی جانب سے خلیجی علاقے میں نئی سکیورٹی ساخت کا اعلان تشویشناک ہے۔

مارک کمٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ایران نے حد بندیاں قائم کر دی ہیں اور عمان اور متحدہ عرب امارات کے علاقائی پانیوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، وہ وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے مراعات اور ادائیگیاں بھی وصول کریں گے، بڑی تیل کمپنیاں شاید یہ برداشت کر لیں لیکن یہ دنیا بھر کے لئے ایک نہایت خطرناک مثال قائم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ کیا آبنائے ملاکا، جبرالٹر یا انگلش چینل کو بھی ٹول پلازہ بنا دیا جائے گا؟ مجھے نہیں لگتا کہ دنیا اس کو قبول کرے گی، کوئی ملک یا بین الاقوامی تنظیم حتی کہ اقوام متحدہ بھی اس عمل کی حمایت نہیں کر رہی۔

مارک کمٹ کا مزید کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اٹھائیس فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کو اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی قرار دیا تھا لیکن ساتھ ہی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کی بھی مذمت کی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں