جماعت اسلامی کا سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کیخلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع
کراچی: (دنیا نیوز) امیر جماعت اسلامی پاکستان منعم ظفر نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤن چیئرمینوں نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کیخلاف درخواست دائر کردی۔
سندھ ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے منعم ظفر کا کہنا تھا کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے اختیارات ٹاؤن اور یوسیز کو منتقل کیے جانے چاہئیں، مگر صوبائی حکومت نے گزشتہ 18 برسوں میں ماس ٹرانزٹ، ایس بی سی اے اور دیگر اداروں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے تحت سینیٹیشن ڈیپارٹمنٹ کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہر کی صورتحال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا بنیادی کام، یعنی کچرا اٹھا کر لینڈ فل سائٹس تک پہنچانا، بھی مؤثر انداز میں انجام نہیں دیا جا رہا، حکومت نہ انفراسٹرکچر بحال کر سکی اور نہ ہی صفائی کا نظام بہتر بنا سکی۔
منعم ظفر کا کہنا تھا کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو چکا ہے، جبکہ ورلڈ بینک کی فنڈنگ سے کچرے سے بجلی بنانے کے منصوبے پر 29 ارب روپے خرچ ہونے کے باوجود کوئی واضح بہتری نظر نہیں آتی، شہر میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر موجود ہیں اور لیاری ندی کے اطراف ڈمپنگ پوائنٹس قائم ہونے سے قریبی آبادیوں میں بیماریاں پھیل رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کو گزشتہ برس 12 ارب روپے اضافی گرانٹ دی گئی، جبکہ ہر یوسی پر ماہانہ ایک کروڑ روپے خرچ ہونے کے باوجود عملی طور پر کام دکھائی نہیں دیتا، شہر کو کچرا کنڈی میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور مختلف اداروں کے درمیان کرپشن کا مقابلہ جاری ہے۔
منعم ظفر نے مطالبہ کیا کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو ختم کر کے اختیارات ٹاؤن اور یوسیز کو منتقل کیے جائیں، تمام معاہدے ختم کیے جائیں اور گزشتہ 12 برسوں کا آڈٹ کیا جائے، جماعت اسلامی نے شہری حقوق کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے اور یہ تحریک جاری رہے گی۔
انہوں نے میئر کراچی کا من پسند ٹھیکیداروں کو ٹھیکے دینے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمینوں نے باقاعدہ اشتہارات کے ذریعے ٹھیکوں کا عمل مکمل کیا، ایس ایس جی سی نے بھی مختلف ترقیاتی کاموں کے لیے ٹاؤنز سے معاہدے کیے ہیں، جبکہ لانڈھی اور نیو کراچی ٹاؤنز میں ہزاروں گلیوں کی تعمیر کا کام جاری ہے۔