آزاد جموں و کشمیر ہائیکورٹ ‎نے ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز پر پوائنٹ آف سیل کا نفاذ روک دیا

‎مظفرآباد: (دنیا نیوز) آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ ‎نے محکمہ ان لینڈ ریونیو کی جانب سے ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز پر پوائنٹ آف سیل لگانے کے اقدام کو معطل کرتے ہوئے اسے نافذ کرنے سے روک دیا۔

یہ حکم جسٹس شاہد بہار نے آزاد کشمیر ہوٹلز و گیسٹ ہاؤسز ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیا۔

‎درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر کامران الیاس راجہ نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ آزاد کشمیر میں ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز کو تاحال انڈسٹری کا درجہ حاصل نہیں، اس لیے ان پر پوائنٹ آف سیل سسٹم کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے استدلال کیا کہ پوائنٹ آف سیل کا نظام بنیادی طور پر فیکٹریوں، گوداموں اور اُن کاروباروں کے لیے ہوتا ہے جہاں قابلِ ٹیکس اشیا تیار یا فروخت کی جاتی ہیں جبکہ ہوٹل، گیسٹ ہاؤسز اور ریسٹورنٹس خدمات فراہم کرنے والے ادارے ہیں۔

‎وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہوٹل اور مہمان نوازی کے شعبے پر متعلقہ قوانین کے تحت ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے، تاہم انکم ٹیکس اور سروس سیکٹر سے متعلق قوانین کے تحت آزاد کشمیر میں ان اداروں پر پوائنٹ آف سیل سسٹم لاگو نہیں ہوتا۔

‎درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر راجہ کامران الیاس کے مطابق ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز قابلِ ٹیکس اشیا کی تیاری یا فروخت نہیں کرتے بلکہ مہمان نوازی اور رہائشی سہولیات فراہم کرتے ہیں، اس لیے انہیں صنعتی یا تجارتی گوداموں کے زمرے میں نہیں لایا جا سکتا۔

‎عدالت نے درخواست گزاروں کے وکیل کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد محکمہ ان لینڈ ریونیو کے ان احکامات کو معطل کر دیا جن کے تحت ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کو ‎پوائنٹ آف سیل سسٹم نصب کرنے کا پابند بنایا گیا تھا۔

ادھر آزاد جموں و کشمیر ہوٹلز اینڈ گیسٹ ہاؤسز ایسوسی ایشن کے چیرمین راجہ الیاس خان نے آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسے ہوٹلز سے جڑے کاروباری لوگوں کے حوصلے بلند ہوئے اور وہ مزید محنت کر کے آمدن بڑھا کر خزانے میں پوائنٹ آف سیل سے ہٹ ٹیکس جمع کرایں گے۔

انہوں نے عدالت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ اس وقت آیا جب سیاحت کا سیزن شروع ہو چکا ہے اور اس اہم فیصلہ کے بعد ہو ٹل و گیسٹ ہاؤسز کے مالکان اپنے کاروبار پر توجہ دے کر حکومت کو زیادہ سے زیادہ ٹیکس دیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں