کراچی میں جرائم کی شرح کم ہوئی، امن پر سمجھوتہ نہیں ہوگا: وزیر داخلہ سندھ
کراچی: (دنیا نیوز) وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا ہے کہ کراچی میں اس وقت جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے اور حکومت امن و امان کے قیام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
سندھ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ ماضی میں کراچی کے حالات دانستہ طور پر غیر یقینی بنائے گئے۔
ضیا الحسن لنجار نے 1992 اور 1998 کے ادوار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ادوار میں بھی شہر کو بدامنی کا سامنا رہا، جبکہ حکیم سعید کے قتل جیسے افسوسناک واقعات بھی پیش آئے۔
انہوں نے کہا کہ اسمبلی عوام کی منتخب نمائندہ ہے اور یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا بعض عناصر کراچی کو دوبارہ 1992 جیسے حالات میں لے جانا چاہتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ آج کراچی کی سیاسی نمائندگی مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔
وزیر داخلہ سندھ نے واضح کیا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والے ہر شخص کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی کی جائے گی، انہوں نے بجٹ تقریر کے دوران نفرت انگیز تقاریر پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس قسم کی سیاست سے گریز کیا جانا چاہیے۔
ضیا الحسن لنجار نے سندھ پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور آئی جی سندھ پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ جرائم کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں موٹرسائیکل چوری کے واقعات زیادہ ہیں، اس لیے نئی موٹرسائیکلوں میں کمپنی سے نکلنے سے پہلے ٹریکر نصب کرنا لازمی بنایا جائے گا تاکہ چوری کی وارداتوں پر قابو پایا جا سکے۔
وزیر داخلہ سندھ کے مطابق ای چالان نظام کے نفاذ سے ٹریفک حادثات میں تقریباً 50 فیصد کمی آئی ہے، اب تک 17 لاکھ سے زائد ای چالان ٹکٹ جاری کیے جا چکے ہیں، کراچی میں تقریباً 3 ارب روپے کے ای چالان جرمانے عائد اور ایک ارب روپے سے زائد جرمانے وصول کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ٹریفک مینجمنٹ کمپنی قائم کر رہی ہے، جس کا مقصد شہر میں ٹریفک نظام کو مزید مؤثر اور جدید بنانا ہے۔