بی آر ٹی، پیپلز بس، تھر کول منصوبے عوامی خدمت کی مثال ہیں: شرجیل میمن

کراچی: (دنیا نیوز) سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ معاشی مشکلات کے باعث تمام صوبوں کو ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کرنا پڑی، تاہم سندھ حکومت نے ہمیشہ ملکی مفاد کو ترجیح دی اور عوامی فلاح کے منصوبے جاری رکھے۔

سندھ اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ پہلا صوبہ ہے جہاں صحافیوں کے تحفظ کے لیے جرنلسٹ پروٹیکشن کمیشن اور سندھ انفارمیشن کمیشن قائم کیا گیا، انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو جتنی آزادی سندھ میں حاصل ہے، اتنی ملک کے کسی اور حصے میں نہیں، تاہم حکومت سندھ کو بھی تنقید کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے، انہوں نے زور دیا کہ خبروں کی اشاعت سے قبل تصدیق ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت میڈیا مانیٹرنگ کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کر رہی ہے، جبکہ فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کے فروغ کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں، ان کے مطابق سندھ حکومت کی پہلی فلم  میر الیاری  بین الاقوامی سطح پر نمائش کے بعد ایک نجی ٹی وی چینل نے بھی خریدی، صوبے کی ثقافت اور سیاحت کو اجاگر کرنے کے لیے دستاویزی فلمیں بھی تیار کی جا رہی ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے آغاز کردہ  آئی ورک فار سندھ  پلیٹ فارم کو 48 لاکھ سے زائد افراد وزٹ کر چکے ہیں، ایک لاکھ 13 ہزار سے زیادہ افراد رجسٹر ہو چکے ہیں، انہوں نے بتایا کہ اس پلیٹ فارم پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے خودکار سی وی بنانے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

ٹرانسپورٹ کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ییلو لائن اور ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبوں پر کام جاری ہے، اورنج لائن بی آر ٹی سندھ حکومت نے مکمل کی، ان کا کہنا تھا کہ گرین لائن بی آر ٹی کی ذمہ داری ملنے کے بعد تین ماہ میں اس کی روزانہ مسافروں کی تعداد 53 ہزار سے بڑھا کر 78 ہزار کر دی گئی، اورنج لائن کی یومیہ رائیڈرشپ 1800 سے بڑھ کر 8500 ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز بس سروس سے روزانہ ایک لاکھ 25 ہزار سے زائد شہری مستفید ہو رہے ہیں اور یہ سروس کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، لاڑکانہ، شکارپور، خیرپور اور ٹنڈوالہیار تک پھیل چکی ہے، انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی پہلی الیکٹرک (ای وی) بس سندھ حکومت نے متعارف کرائی، جبکہ ای وی ٹیکسی اور خواتین کے لیے پنک ٹیکسی منصوبہ بھی جلد شروع کیا جائے گا۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے پنک سکوٹی سکیم متعارف کرائی گئی، ان کے مطابق منصوبے کے آغاز پر صرف 150 خواتین کے پاس موٹرسائیکل چلانے کا لائسنس تھا، جبکہ اب 25 ہزار خواتین لائسنس حاصل کر چکی ہیں اور مستقبل میں ایک لاکھ خواتین کو لائسنس فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

انہوں نے سندھ ریونیو بورڈ (ایس آر بی) کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایس آر بی کی گروتھ 24 فیصد ہے جو ایف بی آر کی 10 فیصد گروتھ سے کہیں زیادہ ہے، صرف 368 ملازمین کے ساتھ ایس آر بی اپنے محصولات کے اہداف حاصل کر رہا ہے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت نے 3 ہزار 114 کلومیٹر سڑکیں تعمیر کی ہیں، 97 ہزار اساتذہ میرٹ پر بھرتی کیے گئے اور ان بھرتیوں پر سفارش یا بے ضابطگی کا ایک بھی الزام سامنے نہیں آیا، انہوں نے سندھ پولیس کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آج سندھ میں کوئی مغوی موجود نہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ تھر کول منصوبہ پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اس وقت 3960 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی جا رہی ہے، ان کے مطابق سندھ حکومت نے اس منصوبے پر ایک ارب ڈالر خرچ کیے جو پورے پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لیے 21 لاکھ گھروں کی تعمیر دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ منصوبہ ہے، جس سے سندھ کی تقریباً 22 فیصد آبادی مستفید ہوگی، ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے آڈٹ اور شفافیت کو ورلڈ بینک، پاک فوج اور مختلف بین الاقوامی ڈونر ادارے بھی تسلیم کر چکے ہیں۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں علاج کے لیے کسی مریض سے شناختی کارڈ یا رہائش کا امتیاز نہیں برتا جاتا، انہوں نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی میں لاکھوں مریض پورے پاکستان سے علاج کے لیے آ رہے ہیں، جن میں پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے شہری بھی شامل ہیں، گمبٹ ہسپتال میں بھی پنجاب سمیت دیگر صوبوں سے بڑی تعداد میں مریض علاج کرا رہے ہیں۔

خطاب کے اختتام پر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ کی ترقی کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہونا ہوگا کیونکہ مضبوط اور ترقی یافتہ سندھ ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں