ویانا میں خاتون کا ٹوائلٹ فیس پر شہری انتظامیہ کے خلاف مقدمہ
ویانا: (ویب ڈیسک) آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کی ایک خاتون نے پبلک ٹوائلٹس کے استعمال میں امتیازی سلوک کے الزام پر شہری انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
خاتون کا مؤقف ہے کہ خواتین کو ٹوائلٹ کے کیبن استعمال کرنے کے لیے فیس ادا کرنا پڑتی ہے، جبکہ مرد پیشاب کرنے کے لیے مفت یورینل استعمال کر سکتے ہیں۔
27 سالہ میلانی گراڈک نے ویانا کے آگارٹن پارک میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میں ایک دوست کے ساتھ پارک میں تھی اور ہم دونوں کو ٹوائلٹ جانے کی ضرورت تھی، وہ مفت میں جا سکتا تھا، لیکن مجھے 50 سینٹ ادا کرنا پڑے، میں نے سوچا کہ ایسا کیسے ممکن ہے؟
انہوں نے شہری انتظامیہ کے خلاف قانونی شکایت دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پبلک ٹوائلٹ کے استعمال کے لیے صرف خواتین سے فیس وصول کرنا شہر کے امتیازی سلوک کے خلاف قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
ویانا میں اس وقت عوامی انتظام کے تحت 168 ٹوائلٹ موجود ہیں، جن میں سے 29 ٹوائلٹس میں فیس اس لیے لی جاتی ہے کیونکہ وہاں ٹوائلٹ کی نگرانی کے لیے ملازم تعینات ہیں۔
شہری انتظامیہ کی ترجمان سینڈرا ہولزنگر نے کہا کہ ان 29 ٹوائلٹس میں تمام جنسوں کے شہریوں کو کیبن استعمال کرنے کے لیے 50 سینٹ فیس ادا کرنا ہوتی ہے، یورینل بھی فراہم کیے گئے ہیں تاکہ عوامی مقامات پر پیشاب کرنے سے پیدا ہونے والی گندگی کو روکا جا سکے۔
یونیورسٹی آف انسبرک کی قانون کی پروفیسر اینا گیمپر کے مطابق اس نظام سے مساوات کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں، خواتین کو اپنی جسمانی ساخت یا مثال کے طور پر اس وجہ سے مالی طور پر نقصان نہیں اٹھانا چاہئے کہ انہیں حفاظتی وجوہات کی بنا پر کیبن استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ویانا کی حکمرانی کے لیے سوشل ڈیموکریٹس اور لبرلز کے درمیان طے پانے والے اتحادی معاہدے میں پبلک ٹوائلٹس کی تعداد بڑھانے اور اس بات کا جائزہ لینے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے کہ آیا انہیں سب کے لیے مفت کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments