آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت ملے گی: رانا ثناء اللہ

اسلام آباد: (دنیا نیوز) مشیر سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں عوام نے مسلم لیگ ن پر اعتماد کا اظہار کیا اور امید ہے کہ پارٹی آزاد کشمیر اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کرے گی۔

لیگی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ایل اے 14 میں مسلم لیگ ن کی جانب سے راجہ فیصل اعزاز میدان میں اترے، تاہم حلقے کے عوام کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایل اے 14 سے ساجد اقبال بھی ہماری ٹیم کا حصہ بن گئے ہیں اور انہوں نے حلقے کی تعمیر و ترقی کے لیے مسلم لیگ ن کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے، راجہ فیصل اعزاز اور ساجد اقبال دونوں بھائیوں کی طرح مل کر حلقے کی ترقی میں کردار ادا کریں گے۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی کی ضرورت ہے، مظفرآباد اور میرپور کے عوام نے مسلم لیگ ن پر اعتماد کیا ہے جس پر وہ آزاد کشمیر کے عوام کے شکر گزار ہیں، عوام نے اچھے نمائندوں کا انتخاب کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے مسائل کا حل صاف اور شفاف انتخابات ہیں، عوام نے انتخابات میں بھرپور حصہ لیا اور مجموعی طور پر 56 فیصد ووٹنگ ہوئی۔

مشیر سیاسی امور کا کہنا تھا کہ دھرنے میں بیٹھے افراد کو بھی اپنا بھائی سمجھتے ہیں اور ان میں سے 99 فیصد لوگ محب وطن ہیں، کشمیری بھائیوں کا بھی پاکستان پر اتنا ہی حق ہے جتنا ملک کے دیگر شہریوں کا ہے۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابی نتائج پر اعتراضات کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ الزامات لگانے کے بجائے قانونی طریقہ اختیار کیا جائے، الیکشن کمیشن اور قانون موجود ہیں، آئین و قانون کے مطابق فیصلے کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے دیے گئے مینڈیٹ کو تبدیل کرنا ان کے اختیار میں نہیں، آزاد کشمیر کے عوام کا مینڈیٹ صاف اور شفاف ہے اور نئی اسمبلی آئین و قانون کے مطابق وجود میں آئے گی۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اسمبلی بن چکی ہے اور نئی حکومت بااختیار ہوگی، وہ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے فیصلے کرے گی، نئے صوبوں کے معاملے پر سوال کے جواب میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس معاملے پر تفصیلی جواب پریس کانفرنس میں دیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مسلم لیگ ن کے رہنما امیر مقام طبیعت کی خرابی کے باعث آج کی پریس کانفرنس میں شریک نہیں ہوسکے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ قومی اسمبلی میں کسی رکن کے بیک وقت دو نشستوں پر کامیاب ہونے کی صورت میں ایک نشست پر ضمنی انتخاب کرایا جاتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...