میررضا قتل کیس، جس کا بھی جرم ہے اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہئے: مرتضیٰ وہاب

کراچی: (دنیا نیوز) میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ میررضا قتل کیس کے بارے میں صحافیوں کو آگاہ کرنا ہے، مشکل گھڑی میں میررضا کے اہلخانہ کے ساتھ کھڑے ہیں، اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ میررضا کیس میں جس کا بھی جرم ہے اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے، میررضا کے اہل خانہ کو مطمئن کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ 28 جولائی کو واقعہ ہوا اور 29 جولائی کو منظرعام پر آیا، ایڈیشنل آئی جی کراچی نے پانچ رکنی انویسٹی گیشن ٹیم بنائی، جناح ہسپتال کی میڈیکل رپورٹ پولیس کے ساتھ شیئر کی گئی، رپورٹ کے بعد سرجن صاحبہ نے کچھ اور محرکات بتائے۔

میئر کراچی نے کہا کہ ایڈیشنل آئی جی نے ایس پی کی سربراہی میں انویسٹی گیشن ٹیم کو ختم کردیا، اس کیس میں اتنے شکوک و شبہات آگئے تھے، پہلی تفتیشی ٹیم کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن قائم

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ 9 اگست کو جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا، میررضا کے والدین کے سامنے ہم نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کیا، میررضا کی والدہ نے شکایات کیں کہ پولیس معاملے کو خودکشی کی طرف لے جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے میررضا کی والدہ کو کہا آپ کو انصاف دلائیں گے، رات کو مرحوم کی والدہ نے میسج کیا کہ ابھی جوڈیشل کمیشن تشکیل نہ دیں۔

میئر کراچی کے مطابق میررضا کی والدہ نے کہا نئی انویسٹی گیشن ٹیم سے مطمئن ہیں، وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر داخلہ سے بات کی تو انہوں نے کہا جیسے ان کی والدہ کہتی ہیں ویسے کریں، ہم نے جوڈیشل کمیشن کو مؤخر کردیا۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ 19 اگست کو میررضا کے وکیل نے وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھا، وکیل نے خط میں کہا وزیر داخلہ اور آئی جی سندھ مکمل طور پر فیل ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے 21 اگست کو میٹنگ بلائی، میٹنگ میں پولیس سے خط سے متعلق پوچھا، وزیراعلیٰ سندھ نے مناسب سمجھا کہ معاملے کو جوڈیشل کمیشن بھیجا جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...