قابل دست اندازی جرم کی اطلاع ملتے ہی فوری مقدمہ درج کیا جائے: سپریم کورٹ

اسلام آباد: (دنیا نیوز) سپریم کورٹ نے قابل دست اندازی جرم کی اطلاع ملتے ہی فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے قرار دیا کہ اندراج مقدمہ میں تاخیر کو صرف بے قاعدگی کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔

سپریم کورٹ کے مطابق اندراج مقدمہ میں تاخیر میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے، اندراج میں تاخیر پر ٹرائل کورٹ نوٹس لے کر قانونی کارروائی کرسکتی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ دستاویزات سے اندراج مقدمہ میں تاخیر ثابت ہونے پر معاملہ محکمانہ کارروائی کیلئے آئی جی کو بھی بھیجا جاسکتا ہے، مقدمات کے اندراج میں تاخیر پر آئی جی، ایس پی انویسٹی گیشن اور ڈی پی او کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو یکم جنوری 2025 سے آج تک کے قتل مقدمات کی تفصیلات جمع کرانے کی ہدایت کردی، ایسے مقدمات کی تفصیلات بھی فراہم کرنے کا حکم دیا گیا جن میں 24 گھنٹوں سے زائد کی تاخیر سے مقدمہ درج ہوا ہو۔

عدالت نے ہدایت کی کہ دو ماہ کے اندر ضلع کے حساب سے مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں، آج کے بعد سپریم کورٹ کے محمد بخش کیس کے احکامات پر عمل نہ کرنے والے اعلیٰ افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔

سپریم کورٹ نے محمد بخش کیس کا سندھی ترجمہ کرکے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کی ہدایت بھی کردی۔

عدالت نے فیصلہ مجرم علی رضا کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سنایا، مجرم علی رضا پر 2012 میں دادو میں ایک قتل کا الزام تھا، قتل کیس کا معلوم ہونے کے باوجود پولیس نے تاخیر سے مقدمہ درج کیا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے مجرم کو عمر قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی، ہائیکورٹ نے بھی سزا کو برقرار رکھا تھا، سات صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...