امت مسلمہ کو فرقہ واریت سے بچانے کیلئے علماء مشترکہ لائحہ عمل بنائیں: حافظ نعیم
استنبول: (دنیا نیوز) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ امت کو انتہاپسندی، تکفیر اور فرقہ واریت سے بچانے کے لیے علماء مشترکہ لائحہ عمل مرتب کریں۔
حافظ نعیم الرحمان نے استنبول میں اتحاد العالمی للعلما المسلمین کے زیراہتمام دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین و کشمیر کے تنازعات پر قرآن و سنت کی روشنی میں واضح پالیسی کی ضرورت ہے، مسلم اقلیتوں کے لیے عالمی پلیٹ فارم قائم کیا جائے، تاہم اسلامی ممالک کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ باہمی تعاون اور مشترکہ مفادات کے تحفظ سے ہی ممکن ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ صیہونیت امت مسلمہ کے اختلافات سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا چاہتی ہے، لہذا ہمیں مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی دشمن کی سازش کو ناکام بنانا ہوگا، مسلمان سکالرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلم عوام اور حکمرانوں کو مشکلات سے نکالنے کے لیے واضح لائحہ عمل دیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ملی یکجہتی کونسل کا 70نکاتی ضابطۂ اخلاق ثابت کرتا ہے کہ مکالمے سے بڑے اختلافات حل ہو سکتے ہیں، مسلم ممالک کو اپنے وسائل تعلیم، انصاف، معاشی خوشحالی اور ٹیکنالوجی پر خرچ کرنے چاہئیں، دنیا میں دو ارب مسلمانوں میں ایک ارب خواتین ہیں، ان کے مسائل کا حل عصری تقاضوں کے مطابق تلاش کرنا ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ملازمت پیشہ خواتین کو موجودہ حالات میں گھروں تک محدود نہیں کیا جا سکتا، کرپٹو کرنسی سمیت جدید معاشی و مالیاتی معاملات پر قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی ضروری ہے، جنریشن زی کو سمجھے بغیر فیصلے کیے تو آنے والی پوری نسل کو کھو دیں گے، نوجوانوں کے سوالات کے جوابات روایتی طریقے سے دینا ممکن نہیں، نئی حکمتِ عملی درکار ہے۔
انہوں نے ہندوستان سمیت دنیا بھر میں آباد مسلم اقلیتوں کے مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اہم عالمی و علاقائی چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے کانفرنس کے تحت ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی جانی چاہئیں۔
کانفرنس میں ترکی، سوڈان، موریطانیہ، اردن، انڈونیشیا اور لیبیا سمیت مختلف ممالک سے 200 سے زائد مسلم اسکالرز شریک ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments