ٹرمپ انتظامیہ نے یمن جنگ سے متعلق خفیہ منصوبہ غلطی سے صحافی کو بھیج دیا

واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یمن جنگ سے متعلق اپنا خفیہ منصوبہ غلطی سے امریکی جریدے کے سینئرصحافی کو بھیج دیا۔
اس بات کا دعویٰ اٹلانٹک میگزین کے ایڈیٹر ان چیف جیفری گولڈبرگ نے کیا ہے۔
جیفری گولڈبرگ کا کہنا ہے کہ دنیا کو تو یمن پر امریکی بمباری کا 15 مارچ کو امریکا کے ایسٹرن ٹائم 2 بجے دوپہر معلوم ہوا تاہم انہیں یہ اطلاع 2 گھنٹے پہلے ہی مل گئی تھی کہ ممکنہ طورپر حملے کیے جارہے ہیں۔
امریکی وزیر دفاع نے جنگ کا منصوبہ غلطی سے بھیج دیا تھا: گولڈبرگ
جیفری گولڈبرگ نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے 11 بج کر 44 منٹ پر مجھے بھی جنگ کا تمام ترمنصوبہ ٹیکسٹ پیغام میں غلطی سے بھیج دیا تھا، اس منصوبے میں ہتھیاروں کی نوعیت، اہداف اور حملے کا وقت بھی درج تھا۔
صحافی نے بتایا کہ 11 مارچ کو انہیں میسیجنگ سروس سے متعلق سگنل ایپلی کیشن پر مائیکل والز نامی شخص کی جانب سے کنکشن کی ریکویسٹ ملی تھی، وہ یہ سمجھے کہ مائیکل والز صدر ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر ہیں تاہم انہیں یقین نہیں تھا کہ یہ صدارتی مشیر ہی ہوں گے، وہ مائیکل والز سے ماضی میں مل تو چکے ہیں تاہم انہیں زرا غیرمعمولی لگا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ان سے رابطہ کیا ہے کیونکہ صدر ٹرمپ کا ان سے ماضی میں رویہ بعض اوقات سرد مہری پر مبنی رہا ہے۔
جیفری گولڈبرگ نے کہا کہ اس لیے میں یہ سمجھا کہ شاید کوئی مجھے پھنسانے کیلئے والز کا بہروپ اختیار کیے ہوئے ہے تاہم درخواست اس امید سے قبول کر لی کہ شاید اصل صدارتی مشیران سے یوکرین، ایران یا کسی اور اہم معاملے پر چیٹ کریں گے۔