ایران مخالف امریکی بحرینی قرارداد میں کوئی مثبت امکان نظر نہیں آتا: روس

ماسکو: (شاہد گھمن) روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران سے متعلق امریکا اور بحرین کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کی حمایت سے انکار کرتے ہوئے اس مسودے کو واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔

روسی نائب وزیر خارجہ الیگزینڈر علیموف نے کہا ہے کہ ماسکو کو امریکی-بحرینی قرارداد میں کوئی مثبت امکان نظر نہیں آتا، اسی لیے روس اس کی حمایت نہیں کرے گا۔

روسی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روس امریکا اور بحرین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس قرارداد کو واپس لیں اور اس حوالے سے جلد بازی سے گریز کریں۔

الیگزینڈر علیموف نے بتایا کہ روس اور چین کی جانب سے تیار کردہ متبادل قرارداد اب بھی مذاکراتی میز پر موجود ہے، جس میں جنگ کے خاتمے، طاقت کے استعمال سے گریز اور مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روسی-چینی مسودے میں خلیجی خطے میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کی اہمیت کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس قرارداد پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

روسی نائب وزیر خارجہ نے ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو ہمیشہ تشدد کے غیر مشروط خاتمے اور سیاسی و سفارتی حل کی حمایت کرتا آیا ہے۔

ان کے مطابق روس کو امید ہے کہ مذاکراتی عمل بالآخر مثبت نتائج دے گا اور واشنگٹن و تہران کے درمیان دیرپا معاہدے کی راہ ہموار ہوگی۔

روسی حکام نے خبردار کیا کہ کوئی بھی ایسا اقدام جو سفارتی کوششوں میں رکاوٹ ڈالے، خطے کے امن و استحکام کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں