چین، روس کے درمیان ایرانی افزودہ یورینیم کو محفوظ بنانے کیلئے مذاکرات کا امکان

واشنگٹن: (دنیا نیوز) چین اور روس ایران کے افزودہ یورینیم کو محفوظ بنانے کے لیے مذاکرات کر سکتے ہیں۔

امریکا کے محکمہ خارجہ میں ایرانی امور کے سابق قائم مقام سربراہ جوئی ہڈ کا کہنا ہے کہ ایران کا انتہائی افزودہ یورینیم امریکا کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے میں سب سے اہم معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس موجود 441 کلوگرام یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کیا گیا ہے جس کا کوئی حقیقی شہری استعمال نہیں بلکہ یہ صرف فوجی مقاصد کے لئے استعمال ہو سکتا ہے۔

جوئی ہڈ نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا آخرکار روس اور چین بھی اس بات پر متفق ہوں گے کہ اس مواد کو ہٹایا جائے اور محفوظ بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس ہفتے ہونے والی ملاقاتوں میں ممکنہ طور پر ایران کے یورینیم کو محفوظ رکھنے اور ذخیرہ کرنے کے معاملے پر بھی بات چیت کی ہوگی۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ بیجنگ میں اس حساس معاملے پر خاموش سفارتی گفتگو ہوئی ہو اور شاید چینی حکام ایرانی قیادت سے بھی رابطے میں ہوں، مستقبل میں اس حوالے سے پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں