اربوں ڈالر کے دفاعی اخراجات کے باوجود سعودی عرب کو حوثی حملے روکنے میں مشکلات

ریاض: (دنیا نیوز) سعودی عرب کی جانب سے دفاعی شعبے پر بھاری اخراجات اور جدید فضائی دفاعی نظاموں کی موجودگی کے باوجود حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنا ایک بڑا سکیورٹی چیلنج بنا ہوا ہے، بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کے بیک وقت استعمال سے سعودی دفاعی نظام پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق سعودی عرب نے گزشتہ سال دفاعی شعبے پر 83 ارب ڈالر خرچ کیے، ملک کے دفاعی نظام میں پیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے جدید امریکی ساختہ نظام شامل ہیں، تاہم ان کی موجودگی کے باوجود ہوائی اڈوں، توانائی کے مراکز اور دیگر اہم تنصیبات کو ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنا ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔

سعودی عرب کو ایران، ایران نواز مسلح گروہوں اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے مختلف نوعیت کے سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے، میزائلوں اور ڈرونز کے مختلف سمتوں سے یا بیک وقت حملوں کی صورت میں دفاعی نظام کو اہداف کی نشاندہی، ترجیحات کے تعین اور فوری ردعمل جیسے چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں۔

ملک کا وسیع جغرافیائی رقبہ اور مختلف علاقوں میں پھیلی اہم تنصیبات کا تحفظ بھی دفاعی منصوبہ بندی کو مشکل بناتا ہے، اس کے علاوہ، علاقائی کشیدگی کے دوران امریکی دفاعی ذخائر اور اسلحے کی رسد پر بڑھتا دباؤ سعودی عرب کی دفاعی ضروریات پوری کرنے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق فضائی دفاع کی مؤثریت کا انحصار صرف دفاعی اخراجات یا جدید ہتھیاروں پر نہیں، بلکہ نگرانی کے نظام، مختلف دفاعی پلیٹ فارمز کے باہمی رابطے، دستیاب گولہ بارود اور مسلسل بدلتے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت پر بھی ہوتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...