حالات کو خود پر سوار نہ کریں فراغت کے لمحات کو بامقصد بنائیں
دنیا فورم
شرکاء:مولاناڈاکٹر ساجد جمیل، معروف عالم دین اور منسلک شعبہ ایم ڈی ایم وفاقی وزارت تعلیم ،ڈاکٹر سلیم مغل ماہر تعلیم اور ایڈیٹر ماہنامہ نونہال۔ ڈاکٹر سلمان شہزاد، ایسوسی ایٹ پروفیسر انسٹیٹیوٹ آف کلینیکل سائیکالوجی جامعہ کراچی ۔ ڈاکٹر سیدہ فرحانہ سرفراز، اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ سوشل ورک جامعہ کراچی،
تنہائی میں نفلی عبادات سے ہمت ملے گی ، اللہ رزاق ہے اس پریقین رکھیں:ڈاکٹر مولانا ساجد جمیل
بچوں کیساتھ کھیلیں،کہانیاں پڑھیں،گھر کا ماحول خوشگوار رکھیں، مدافعتی نظام مضبوط ہوگا :ڈاکٹر سلیم مغل
مرد حضرات بیویوں کو بھی وقت دے کر ان کی شکایت دور کریں،بچوں سے بامقصد گفتگو کریں:ڈاکٹر فرحانہ سرفراز
والدین بچوں پر توجہ دیں،بلاوجہ کی خبریں نہ سنیں :ڈاکٹر سلمان شہزاد
موضوع:''آفت اور جنگ کے ماحول میں ذہنی دبائو سے کیسے بچاجاسکتا ہے
واقعی جب انسان کام کرنا چاہے تو راستے نکل ہی آتے ہیں،دنیا فورم معاشرے اور دنیا میں ہونے والے حالات اور واقعات پر خاموش نہیں رہ سکتا،ہمارا کام ہی اپنے قارئین کی رہنمائی ہے،ایک ذمہ دار صحافی ہوتے ہوئے یہ ممکن نہیں تھا کہ ہم اس سماجی فاصلے کی ضرورت کو اپناتے ہوئے اپنے قارئین کو اتنے مشکل حالات میں تنہا چھوڑ دیں ،اللہ نے ہماری رہنمائی کی اور ہم نے آن لائن دنیا فورم کا اہتمام کیا ،ادارہ اپنے تمام معزز مہمانوں کا مشکور ہے جنہوں نے اپنے قیمتی وقت میں سے قارئین کیلئے وقت نکالا اور آن لائن دنیا فورم میں شرکت کرکے ہماری اور قارئین کی رہنمائی کی۔ دنیا فورم میں دینی اسکالر،ماہر نفسیات ،تعلیم اور سماجی بہبود نے بہترین مشوروں سے نوازتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ پاکستانی قوم اللہ پر یقین کیساتھ کورونا جیسی وباء کا بھی مقابلہ کرلے گی۔ماہرین نے مشورہ دیا کہ یہ موقع بہت اہم ہے اسے ضائع نہ کریں،اللہ سے اپنا تعلق مضبوط بناتے ہوئے گھرپر توجہ دیں،اپنی معلومات میں اضافہ کریں،بچوں کی تربیت کریں،شوہر بیوی کی شکایت دور کرے اور گھر میں رہ کر ان کا ہاتھ بٹا ئیں ،اولاد والدین کو زیادہ سے زیادہ وقت دیں،انٹرنیٹ کا درست استعمال کرتے ہوئے بامقصد کتابوں کا مطالعہ کریں ،اپنی دینی اور دنیاوی صلاحیت میں اضافہ کریں ،ہنسی مذاق کا ماحول پیدا کریں،لطیفے سنائیں اور سنیں،سبق آموز کہانیاں پڑھیں ،نماز کی پابندی کیساتھ کوشش کریں کہ رات کی تنہائی میں اللہ کو پکاریں ،فلاحی کاموں کے ذریعے خود کو مضبوط بنائیں،ہمیں امید ہے کہ دنیا فورم کی کوششیں قارئین کوپسند آرہی ہونگی ،ہمارا مقصد قارئین کی تربیت کے ساتھ مشکل حالات میں ان کو حوصلہ فراہم کرنا بھی ہے۔آپ کی تجاویز اور رائے کا انتظار رہے گا۔(مصطفیٰ حبیب صدیقی ،ایڈیٹر فورم )
دنیا: عوام کا گھروں میں رہنا دشوار ہورہا ہے، ایسے حالات میں دین کیا تعلیمات دیتا ہے؟
مولانا ڈاکٹر جمیل ساجد: قرآن پاک میں انسان کا ذکر ہے ،ہمیں اپنا ذکر پڑھنا چاہیے، گھروں میں رہتے ہوئے قرآن کا مطالعہ کریں ، یہ وقت خود کو اللہ کے قریب کرنے کا ہے ،اللہ نے غصہ برداشت کرنا پسند کیا ہے،جو لوگ غصہ پی جاتے ہیں،دوسروں کو معاف کردیتے ہیں وہ لوگ اللہ کے پسندیدہ ہیں۔ شیطان اللہ سے دور کرنے کیلئے خوف اور غم پیدا کرتاہے ،مومن کو نفس سے مطمئن ہونا اورخوف او رغم سے آزاد ہونا چاہیے، انسانی زندگی میں تحریک ہمیشہ مقصود کے حوالے سے ہوتی ہے ،اپنی روحانی طاقت میں اضافہ کرکے موجودہ حالات کا مقابلہ ممکن ہے،روٹی کپڑا اور مکان انسانی زندگی کا ایک بڑا مسئلہ ہے ، کاروبار اور نوکری جس میں پوری زندگی لگادی جاتی ہے جس سے انسان خوش اور متحرک رہتا ہے۔مگر جیسے ہی ساری محنت کے باوجود دولت حاصل نہ ہو تودباؤ میں آجاتاہے اور کاروبار یانوکری ختم ہوجائے توذہنی مریض بن جاتا ہے، قرآن نے انسانی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ خوف اور غم بتایاہے،قرآن کے احکامات اور ہدایت پر عمل کرکے ہی خوف اور غم سے نکلا جاسکتا ہے،بحیثیت مسلمان ہمیں ہر وقت مقصودکے حصول کیلئے متحرک رہنا چاہیے،اکیلے میں نفلی عبادات اور وظیفے کریں تاکہ اور ہمت آئے ،ذہنی دباؤ سے نکلنے کیلئے ہر وقت اصل مقصود کو ذہن میں حاضررکھنا ہوگا،اپنے حال پر مطمئن ہونا اور اللہ نے جو رزق کے وعدے کیے ہیں اس پر یقین کرنا ہوگا،گھر میں رہ کر صبر کرنا،دوسرے کی تکلیف دورکرنا،بچوں کی اپنے کردارکے ذریعے تربیت کرنا،اشراق اور دیگر نو افل کا اہتمام کرناان چیزوں سے ذہنی دباؤ ضرور کم ہوگا،آپ ﷺ ہر کسی کی بات سنتے اور اس کے دکھ اور پریشانی کو محسوس کرتے اورمسئلے کا حل نکالتے ،ہم کیسے ان کے غلام ہیں کہ ہم ان کی یہ ادا نہیں اپناتے؟،ہم حضور ﷺ کی سیر ت گھر میں اپنائیں سکون آئے گا،ذہنی دباؤ ختم ہوجائے گا،اسلام بے غرضی کا نام ہے سب کچھ اللہ کی خاطر کرنا ہے،گھروں میں احکام خداوندی نہ ہونا بے چینی پیدا کرتا ہے، انسان تبدیل اپنے فیصلوں سے ہوتاہے،خواتین گھروں میں بی بی فاطمہ ؓ کو یاد رکھیں کہ وہ کس طرح رہتی تھی ، انہوں نے کیا کام کیے تھے جو جنت میں خواتین کی سردار بنیں،انسان پریشان اس وقت ہوتا ہے جب وہ مال اور نفس کو اہمیت دیتاہے، اللہ فرماتاہے اپنے نفس اور مال سے جہاد کرو،شیطا ن اسی کے ذریعے انسان کو بگاڑتا ہے، ان چیزوں کا شعور آجائے تو ہمارا گھر میں بیٹھنا ، باتیں کرنا اور دیگر کام کرنا سب اللہ کی عباد ت میں شامل ہو جائیں ، حدیث قدسی ہے مخلوق میرا خاندان او ر جس نے میرے خاندان کا خیال کیا وہ بہت اعلیٰ انسان ہے،اللہ کی مخلوق کا خیال رکھنا بہت عظیم کام ہے ایک اور حدیث کا مفہوم ہے اپنے بھائی کیلئے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرو۔مسلم کی تعریف ہے مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرامسلمان محفوظ رہے، انسان ہروقت اللہ کو یاد کرے تو ذہنی دباؤ سے باہر نکال سکتاہے۔
ڈاکٹر سلیم مغل : گھروں میں بچوں کیساتھ کھیلیں،خود کو توانا محسوس کریں گے،بچوں کو کہانیاں پڑھنے کو دیں اس سے ان کے اندر سوچنے کی صلاحیت پیدا ہوگی، کورونا سے لڑنے کیلئے سب سے اہم ہے کہ اسے تسلیم کرلیں جب آپ تسلیم کرلیتے ہیں تو مقابلہ بھی آسان ہوجاتا ہے ،ہمارا مدافعتی نظام بہت بہتر ہے ،ہماری خوراک میں ہلدی ،مرچیں اور دیگر مصالحہ جات کا استعمال عام ہے ،عموماً کھانسی نزلے میں بھی ہم اکثر مختلف گھریلو ٹوٹکے اختیار کرتے رہتے ہیں ،اس لئے ہمارا مدافعتی نظام کافی مضبوط ہے۔خود کو گھروں میں مختلف کاموں میں مصروف رکھیں ،کتابیں پڑھیں ،انٹرنیٹ پر بہت بامقصد کہانیاں مل جائیں گی وہ بچوں کو سنائیں، لطیفے سنائیں، مذاق کریں،رشتہ داروں سے فون یا سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے کریں اور بہت سے موضوعات ہیں جن سے ذہن بہتر ہوتا ہے ،ان پر بات چیت کریں،ضروری نہیں کہ ہر وقت کورونا پر ہی بات کی جائے،کافی باتیں ہیں جن سے خود کو ہلکا کیاجاسکتا ہے،کئی رشتہ دار ایسے ہونگے جن سے کئی کئی ماہ سے رابطہ نہیں ہوا ہوگا انہیں فون کریں ،دلوں کو صاف کریں،سکون ملے گا۔
دنیا:گھروں میں رہتے ہوئے سماجی کام کیسے کرسکتے ہیں؟
ڈاکٹر فرحانہ سرفراز: دنیا میں سماجی بہبود کے حوالے دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں، رضاکارانہ سماجی بہبو د ،یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو بچپن سے سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اورکچھ لوگ اپنی پسند سے سماجی کارکن بنتے ہیں،گزشتہ ایک ماہ سے جس بحرانی کیفیت سے عوام سے گزررہے ہیں وہ کافی تکلیف دہ عمل ہے،جس کی ایک شعر کے ذریعے مثال دینا چاہوں گی
عجیب تری مسیحائی ہے کہ یہاں اپنے
بھی اپنوں کو چھولیں گے تومرجائیں گے
یہ حال ہمارا ہوگیاہے،چاروں طرف بے یقینی کی صورت حال ہے،بہت سے ایسے مریض بھی ہوں گے جو کئی امراض میں مبتلا ہوں گے اور عمر بھی زیادہ ہے وہ میڈیا خاص طورپر سوشل میڈیا پر ایسی خبروں کو سننے اور دیکھنے سے پرہیز کریں،کورونا کی بگڑتی صورت حال کی وجہ سے ان پر نفیساتی طورپر دباؤ بڑھ جائے گا، سوشل میڈیا میں کورونا کی خبروں کی بھرمار کی وجہ سے عوام بہت زیادہ نفسیاتی طورپر مسائل کاشکار ہو رہے ہیں،عوام احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے جتنا ممکن ہو گھروں میں رہیں،صفائی کا خیال رکھیں،ہاتھ منہ دھوتے رہیں،مجمع کے قریب نہ جائیں ، لوگوں سے فاصلہ رکھیں۔
دنیا: ذہنی دباؤ سے باہر نکلنے کیلئے نوجوان سڑکوں اور گلیوں میں کھیل کو د میں مصروف ہیں انہیں کس طرح روکیں ؟
ڈاکٹر فرحانہ سرفراز: میڈیا کو مثبت کردار ادا کرتے ہوے ایسے پروگرام دکھانے چاہیے تاکہ لوگ گھروں میں رہتے ہوئے تفریح کریں اور رہنمائی ملے، بلدیاتی یا سیاسی نظام میں سیاسی جماعتوں کا اپنا ایک نیٹ ورک ہے جسے استعمال کرتے ہوئے لوگوں کی رہنمائی اور مدد کی جاسکتی تھی بدقسمتی جو نہیں کی جارہی،موجودہ نظام میں ان کو کنٹرول یا استعمال کرنے کیلئے کچھ نہیں جس کے باعث مسائل مزید گھمبیر ہوتے جارہے ہیں، سڑکوں اور گلیوں میں آج بھی سیوریج بہہ رہاہے ، کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جس سے تعفن اور بیماریاں پھیل رہی ہیں کیا اس ماحول میں ہم بیماریوں سے بچ سکتے ہیں ،ان اداروں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا گیاہے کہ جس کا جود ل چاہے کرے۔ایسے حالات میں حکومت کو اسٹیک ہولڈرزاورتعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر ایک پالیسی بنانی چاہتے تھی جس کو فالو کیاجاسکتا تھا تاکہ کورونا کے ساتھ دیگر مسائل پر قابو پایا جاسکے جو بدقسمتی سے نظر نہیں آرہا،لاک ڈاؤن تو اب ہو ا ہے 26فروری کو کیس آیا تھا بہت وقت تھا اگر منصوبہ بندی کرتے تو صورت حال کنٹرول میں ہوتی ،اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی مثبت اقدامات کی وجہ سے ہم بڑی تباہی سے بچے ہوئے ہیں ،ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کہیں ہم کسی سماجی المیہ کی طرف تو نہیں بڑھ رہے ؟ ،یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ بحیثیت پاکستانی ہم کیا کردار اداکرسکتے ہیں،موجودہ صورت حال میں مذہبی ،سیاسی اور اکابرین کو اعتماد میں لینا ضروری ہے تاکہ حالات کو بروقت کنٹرول کیا جاسکے۔ سماجی کام خود کو توانا رکھنے میں کافی معاون ہوسکتے ہیں،سوشل میڈیاکی خبروںپر توجہ نہ دیں،ورزش کریں، وقت گزارنے کیلئے اپنے کام ترتیب دیں، نمازوں کا اہتمام کریں،وقت پر کھانا کھائیں، وقت پر سوئیں،والدین کو وقت دیں،یہ موقع ہے کہ مرد حضرات بیویوں کو بھی وقت دیں،عموماً بیگمات کو شکایت ہوتی ہے کہ مرد گھرمیں نہیں رہتے ،یہ بہترین وقت ہے ،اس سے فائدہ اٹھائیں،بچوں سے دوری دور کریں، ان کیساتھ بامقصد گفتگو کریں۔
ڈاکٹر سلمان شہزاد :ایسی خبریں سنیں جو آپ کو اچھی لگیں ،ہر وقت کورونا کے بارے میں جاننے کی کوشش نہ کریں،سو چ کو مثبت رکھیں،جیسے بھی مشکل حالات ہوں ہمیں ان سے سیکھناچاہیے اور یقین رکھنا چاہیے کہ وقت بدل جاتے ہیں۔ بامقصد زندگی گزاریں،بلاوجہ باہر نہ گھومیں ،سماجی فاصلہ حالات کو جلد بہتر بناسکتا ہے۔
دنیا: ڈاکٹر سلیم مغل آپ نے بتایا تھا کہ عمرے سے واپس آنے کے بعد احتیاطاً آپ ،آپ کی اہلیہ اور صاحبزدی 14دن کیلئے الگ الگ کمروں میں قرنطائن ہوگئے تھے ،آپ کی مصروفیات کیاتھیں ان دنوں؟
ڈاکٹرسلیم مغل:موجودہ صورت حال میں سوشل میڈیا کی وجہ سے بہت مدد ملی ،عزیز رشتے دار اور دوست احباب سے رابطے میں رہے ایک دوسرے کو خیریت بتاتے رہے،دو بچے ملک سے باہر ہیں ان سے بھی رابطے میں رہے،اس صورت حال میں اگر بچوں سے رابطہ ہی نہ ہوتا تو کتنی پریشانی ہوتی؟،سوشل میڈیا سے بڑی آسانیا ں ہوئیں۔آئسو لیشن کے دوران گھر کے کام بھی کرتے رہے،تین ہفتے گزرنے کے بعد ہم اللہ کے فضل سے بہتر ،صحت مند اور خوش ہیں۔ خدانخواستہ کوئی شخص کورونا کی زد میں آبھی گیا اور بیماری بڑھ جائے تو ہمارا مدافعتی نظام ہی اس سے لڑسکتاہے،مدافعتی نظام جتنا مضبوط ہوگا اس وائرس کو شکست دینے کے امکانات زیادہ ہوں گے،بنیادی طورپرکچھ چیزیں امیون سسٹم کو مضبوط رکھتی ہیں جس میں توانائی سے بھرپور غذائیں ،ذہنی کیفیت ،نفسیاطی طوپر اپنے آپ کو مضبوط رکھنا،اللہ پر بھروسہ رکھیں کہ اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا، نمازیں پڑھیں اللہ سے دعاکرتے رہیں انشاء اللہ محفوظ رہیں گے اور گھر کا ماحول خوشگوار رکھنا ہے جس سے بھی بیماری پر کنٹرول کیاجاسکتا ہے ،خوش رہنے سے مدافعتی نظام مضبوط رہتاہے،ان چیزوں پر عمل کرنے سے ہم کورونا سمیت کئی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
دنیا: گھرمیں رہتے ہوئے خود کوجسمانی اور ذہنی طورپر کیسے مضبوط رکھا جا سکتا ہے؟
ڈاکٹر سلمان شہزاد: انسان کو صحت مندرکھنے کیلئے مدافعتی نظام کا مضبوط ہونا بہت ضروری ہے،امیون سسٹم کو مضبوط رکھنے کیلئے 4 چیزیں بہت اہم ہوتی ہیں،ایک کوئی بھی فرد جس معاشرے میں رہتا ہے وہ معاشرے کی اقدار پر عمل کرتاہے یا نہیں،دوسراجہاں وہ کام کررہاہے وہاں اپنی ذمہ داریاں پوری طرح انجام دے رہاہے،تیسرا کسی بیماری یا ذہنی دباؤ میں تو نہیں ہے اور چوتھا وہ معاشرے میں ذمہ داری سے اپنے کام انجام دے رہا ہے یا غیر ذمہ داری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر کو نظر انداز تو نہیں کررہا،ان چیزوں پر عمل کرنے سے ہم اس وباء سے محفوظ رہ سکتے ہیں،بیماری کی علامات سے آگہی بھی ہونی چاہیے،ہمیں سوسائٹی میں رہتے ہوئے ارد گردکے ماحول پر نظررکھنے ،خود اعتمادی پیدا کرنے ،دوسروں پر مثبت انداز میں جذبات کا اظہار کرنے ، موجودہ صورت حال میں جذبات ،خیالات اور رہنے کے طور طریقے بھی بہت اہم کہ ہمارا طرز زندگی کیا ہے،اگر ہم ذہنی طورپر مضبوط اور صحت مند ہیں تو اس وباء کا آسانی سے مقابلہ کرسکتے ہیں،کوئی بھی بیماری یا وباء اچانک نہیں آتی ،آہستہ آہستہ حالات سامنے آتے ہیں ہمارے ساتھ المیہ ہے ہم مسائل آنے سے پہلے خود کو تیار نہیں کرتے ،مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اچانک نہیں آتی اور نہ ہی پیدائشی ہوتی ہے یہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہے،اس موقع پر ایڈیٹر فورم نے کہاکہ مشکل حالات سے نمٹنا بھی تو تربیت ہے،پاکستانی قوم میں ترقی یافتہ ممالک کی نسبت مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے کیایہ بات درست ہے جس کی تائید کرتے ہوئے ڈاکٹر سلمان شہزاد نے کہا کہ حقیقت میں حالات ہمیں بہت کچھ سکھاتے ہیں،ہمیں ان چیزوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے،موجودہ حالات کو سمجھتے ہوئے ان کا مقابلہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
دنیا: لوگ سوشل ورک کیسے کرسکتے ہیں؟کیا سماجی کام انسان کو مضبوط بناتے ہیں؟کیا احتیاط کی جاسکتی ہیں؟
ڈاکٹر فرحانہ :سائنسی اور مختلف تجربات سے یہ بات ثابت ہے کہ جب لوگ اپنی حدود اور دائرے سے باہر نکلتے ہوئے دوسروں کی مدد کرتے ہیں تو انسان کی شخصیت پر اس کے دوررس نتائج سامنے آتے ہیں،ہمیں اپنے مسائل درست طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ،گھروں میں سادہ کھانے استعمال کریں، بچوں کو وقت دیں ان کو سمجھیں ،ان کیساتھ کھیلیں اگر کوئی بچہ خاموش اور چڑ چڑا رہتاہے اس کی وجوہات کو جانیں اور حل کرنے کی کوشش کریں یہ بہت اچھا وقت ہے آپ چیزوں کو اچھے طریقے سے ترتیب دے کر حل نکال سکتے ہیں،جب انسان دوسروں کیلئے کام کرتا ہے تو قدرتی طورپر اسے روحانی تقویت ملتی ہے اوریہ طاقت ذہنی دباؤ کو کم اور انسان کو توانا رکھتی ہے، اس کے ساتھ رضاکاروں کو اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں یہ سرگرمیاں وباء پھیلنے کا سبب نہ بنیں احتیاطی تدابیر کے ساتھ سارے کام کیئے جائیں۔
دنیا: طلباء کیسے وقت گزاریں، تعلیم کو کس طرح بہتر کیاجاسکتاہے؟
ڈاکٹر سلیم مغل:والدین بچوں کی رہنمائی کی ساتھ ایجوکیشن کوفوکس کرتے ہوئے منصوبہ بندی کریں ،کئی تعلیمی اداروں نے آن لائن کلاسز کا آغاز کردیا ہے جس سے پڑھا ئی کا کسی حد تک نقصان کورہورہاہے،بچے گھروں میں کہانیاں ،کتابیں پڑھیں اس سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی اور اردو بھی بہتر ہوتی ہے،سوشل میڈیا پر دنیا بھرکا مواد موجود ہے اپنی ضرورت کے مطابق پڑھیں، اپنی صلاحیت کو بڑھانے کا بہترین وقت ہے۔ وقت کی منصوبہ بندی کرنا بچوں سے زیادہ والدین کا کام ہے،بچوں سے پہلیاں پوچھیں، سوالات کریں ،لڈو کھیلیں اوربھی کئی سرگرمیاں کی جاسکتی ہیں،موجودہ صورت حال میں خوف اور ذہنی دباؤ ہونے کے باوجود بچوں کے ساتھ خوش رہیں اور گھر کا ماحول اچھارکھیں تاکہ اس صورت حال کا بہتر مقابلہ کرسکیں۔میری معلومات کے مطابق فلو یورپ کا پرانا ایشو ہے اس سے کروڑوں لوگ مرچکے ہیں،آج بھی کسی کو فلو ہو توفوری طور پر ڈاکٹر کے پاس جاتاہے کہ کہیں کچھ نہ ہوجائے جبکہ ہمارے خطے میں آج تک لوگ فلو سے مرتے نہیں ہیں،ہم لوگ ان چھوٹی چھوٹی بیماریوں کے عادی ہیں ،اللہ کے فضل سے ہمیں ترقیافتہ ممالک کی نسبت زیادہ نقصان نہیں ہو گا۔ہمارے کھانوں میں مصالے زیادہ ہوتے جس سے ہمارا مدافعتی نظام بھی مضبوط ہوتاہے،اللہ نے چاہا توہم جلد اس وباء سے باہر نکل آئیں گے۔ میڈیا ا یسی ہی باتیں اجاگر کرے جس سے حوصلہ پیداہو۔اس موقع پر ڈاکٹرسلیم مغل نے اس شعرکے ساتھ اپنی گفتگو مکمل کی
میں نے یوں خود کو کرلیا محفوظ
اپنے بچوں میں بٹ گیاہوں میں
سب اپنے بچوں میں بٹ جائیں ۔
ڈاکٹر سلمان شہزاد: بعض مرتبہ ایسے حالات میں بہت سے بچے جو جذباتی ہوتے ہیں وہ پریشان ہو جاتے ہیں، خدا نخواستہ اگر کوئی بچہ نفسیاتی مریض ہے تو والدین کو اس کو زیادہ وقت دینے اور تربیت کی اشد ضرورت ہے،مستقبل میں ایسے بچے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں،کلینک میں کئی مریض ایسے بھی آتے ہیں جن کی خواہش ہوتی ہے کہ کوئی انسان ہو جوان کی باتین سن لیں، میری والدین سے درخواست ہے دیگر مصروفیات کے ساتھ بچوں کو وقت دیں اور تربیت کریں۔ہمیں اپنی اولاد کو سپورٹ کرنے کیلئے اس کے رویئے کو برداشت کرتے ہوئے تربیت کرنی ہوگی اورتربیت کیلئے یہ وقت بہترین ہے۔
آن لائن دنیا فورم کے دوران ماہر تعلیم ڈاکٹر سلیم مغل نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ میں ،اہلیہ اور بیٹی فروری میں ہی عمرے سے واپس آئے ،جہاز میں ہی ہم سے فارم بھروایاگیا اور گھر پہنچتے ہوئے حکومت کے پیغامات آگئے کہ خود کو14دن کیلئے تنہا کرلیں،ہم تینوں نے فوری طور پر تین کمروں میں خود کو الگ الگ کرلیا،سب کے برتن الگ کرلیے،ہر کوئی خود کمرے سے باہر نکلتا ،کھانا نکالتا، کھاتا اور برتن دھوکر رکھتا،ہم سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں رہتے ،اتفاق سے اس عرصے میں اہلیہ کو کھانسی شروع ہوگئی جس سے ہم لوگ پریشان ہوگئے کہ کہیں کورونا تو نہیں ہوگیا ،سفر بھی کرکے آئے تھے اور ڈرے ہوئے بھی تھے ،بہرحال ان کو لے کر آغا خان اسپتال گئے اللہ کے فضل سے ٹیسٹ منفی آیالیکن وہ دو دن جو ٹیسٹ رپورٹ کے انتظار میں گزرے وہ کس خوف اور تکلیف میں گزرے یہ اللہ ہی جانتا ہے،بیرون ملک مقیم بچوں سے بھی بات چیت ہوتی رہتی ہے لیکن ہم نے سماجی فاصلہ برقرار رکھا۔الحمد اللہ ہمارا کورونا ٹیسٹ منفی آیا۔دنیا فورم کے توسط سے عوام سے کہنا چاہوں گاکہ ہم سب اللہ کے فضل اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے بالکل ٹھیک ہیں،ہمارے ذہنوں میں یہ بات سمجھ میں آگئی تھی کہ کورونا کی لڑائی کیسے لڑنی ہے جو ہم لڑتے رہے،ہمیں معلوم تھا یہ وائرس سانس لینے کے نظام پر حملہ کرتاہے،ابتداء میں گلے میں تکلیف شروع ہوتی ہے اس کو اسی وقت احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے کنٹرول کرنا ہے جو کنٹرول ہوجاتا ہے،اگر کنٹرول نہ کیا جائے تو پھیپڑوں اور دیگر اعضاء پر حملہ کرتا ہے جس سے مدافعتی نظام خراب ہوجاتاہے اور تکلیف بڑھتی چلی جاتی ہے نتیجہ انسان وینٹی لیٹر پر چلا جاتاہے۔ ہم بحیثیت مسلمان بہت خوش نصیب ہیں کہ ہمیں یقین ہے کہ ہم اللہ سے دعاکریں گے اور وہ ہماری دعا ضرور قبو ل کریگا،یہ یقین ہمارے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے ۔
فورم میں شرکاء نے بار بار یہ بات دہرائی کہ میڈیا مثبت کردار ادا کرے،کورونا کے حوالے سے لوگوں کو آگاہی کے ساتھ حوصلہ بھی دے، ڈاکٹر سلیم مغل نے کہا کہ میڈیا ان حالات کے بعد دوبارہ کھڑے ہونے کیلئے اپنا کردار ادا کرے،ڈاکٹر فرحانہ کا کہنا تھا کہ میڈیا سنسنی خیزی نہ پھیلائے بلکہ لوگوں کو حوصلہ دے، اکثر اوقات خبریں بھی خوف زدہ کردیتی ہیں۔
٭٭٭
