وزراء کی کارکردگی رپورٹ تیار، کوئی نکلے گا؟
وفاق اور پنجاب کیلئے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف بے شک نئی ہے لیکن خیبرپختونخوا میں اس جماعت کی حکمرانی کو سات سال ہوچکے ہیں، ان سات برسوں میں پی ٹی آئی کے کریڈٹ میں تین بڑے منصوبے ہیں۔
بی آرٹی ،بلین ٹری سونامی اور سوات ایکسپریس وے ۔ پی ٹی آئی کی کارکردگی ماضی کی حکومتوں سے بہتر لگتی ہے اگرچہ یہ جماعت عام آدمی کا معیار زندگی بلند کرنے ،کرپشن کے خاتمے ، سخت احتساب اورمیرٹ کی بالادستی جیسے نعروں کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی لیکن ان میں سے بہت سے نعرے محض دعوے ثابت ہوئے ہیں ۔میرٹ کی خلاف ورزیاں اب بھی جاری ہیں جبکہ سرکاری اداروں میں سخت احتساب کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا باقی ہے ،عام آ دمی کا معیار زندگی بلند ہونے کی بجائے پست ہو گیا ہے۔ رہی سہی کسر کورونا وباء نے پوری کردی ہے۔
مہنگائی عروج پر ہے ،آٹے کی قیمتیں سنچری کے قریب ہیں جبکہ چینی سنچری کر چکی ہے۔اچھنبے کی بات یہ ہے کہ دیگر صوبوں کی بہ نسبت خیبرپختونخوا میں چینی سب سے زیادہ مہنگی فروخت ہورہی ہے ۔ سرکاری ادارہ شماریات کے مطابق خیبرپختونخوا میں چینی کی قیمت 110روپے فی کلو گرام ہے اسی طرح آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 1300 روپے سے تجاوز کرگیا ہے اور روٹی کی قیمت20 روپے تک پہنچ گئی ہے۔آٹا ،چینی اور روٹی عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہوگئے ہیں ،سرکاری اعدادوشمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں گندم کی پیداوار 11 لاکھ80 ہزار میٹرک ٹن ہے جو رواں سال میںکم ہوئی ہے ۔5 لاکھ میٹرک ٹن گندم بارانی زمین جبکہ 6 لاکھ ٹن گندم سیرابی زمین سے حاصل کی جاتی ہے ۔صوبے کی گندم کی ضرورت47لاکھ میٹرک ٹن ہے لیکن صوبائی حکومت صرف 19ہزار میٹرک ٹن ہی خرید سکی ہے اتنی کم خریداری کیوں کی گئی یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ؟
وزیراعلیٰ کو مختلف محکموں کی کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی گئی ہے جس میں حیرت انگیز طورپر محکمہ زراعت کی کارکردگی کو سب سے بہتر قراردیاگیا ہے ،محکمہ بلدیات کا دوسرا نمبر جبکہ آبپاشی کا تیسرا نمبر ہے ،ذرائع کے مطابق خراب کارکردگی والے محکموں کووزیراعلیٰ نے ریڈ لیٹر جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔کچھ ایسا ہی فیصلہ ایک سال قبل وزیراعلیٰ کی زیرصدارت کابینہ اجلاس میں بھی کیاگیا تھا ،عاطف خان اور شہرام ترکئی کو کابینہ سے نکالنے کے بعد وزیراعلیٰ نے تمام وزراء کی کارکردگی مانیٹرکرنے کی ہدایت کی تھی ،انہوں نے اگلے تین ماہ کے دوران کارکردگی کی بنیاد پر وزراء کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا عندیہ دیاتھا ،یعنی کون نکلے گا، تاہم اس اعلان پر عملدرآمد نہیںہوسکا ،کہا جاتا ہے کہ کئی محکموں کی کارکردگی خراب ہے ،لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکی ۔بعض لوگوں کو وزیراعلیٰ کے سخت فیصلوں کا انتظار ہے ،وزیراعظم کی تائید بھی انہیں حاصل ہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بی آرٹی کے دوسرے فیز کا بھی افتتاح کردیا ہے جس میں حیات آباد کے فیڈر روٹس پر بی آرٹی کی بسیں چلیں گی پچیس بسیں تین فیڈر روٹس پر چلائی جائیں گی جو مسافروں کو مرکزی کوریڈور تک لائیں گی، چار مزید روٹس کا افتتاح بھی جلد کیاجائے گا ،اس میں کوئی شک نہیں کہ بی آرٹی ایک میگا پراجیکٹ ہے جس کی لاگت تو انتہائی زیادہ آئی ہے لیکن اس عوامی منصوبے کی حفاظت ہم سب کا فرض ہے۔ گزشتہ روز بھی لوڈشیڈنگ کے دوران بعض شرپسندوں نے بی آرٹی کے سٹیشن پر پتھراو کیا لیکن پولیس کی بروقت کارروائی کے باعث مظاہرین منتشر ہوگئے اور سٹیشن نقصان سے بچ گیا ۔ لوڈشیڈنگ ملک بھر کا مسئلہ ہے، ماضی میں پی ٹی آئی کے چیئرمین کی حیثیت سے عمران خان وفاقی حکومت سے یہ مطالبہ کرتے رہے تھے کہ بجلی کی ترسیل کا نظام انہیں سونپ دیاجائے وہ چند ماہ میں ہی اسے درست کردیں گے۔ اب وفاق میں پی ٹی آئی کی ہی حکومت ہے اور عمران خان وزیراعظم ہیں لیکن دو سال گزرنے کے باوجود بجلی کی ترسیل کا نظام ٹھیک نہیں کیاجاسکا ۔توانائی کی کمپنیوں کا قبلہ بھی درست نہیں کیاجاسکا ۔تحریک انصاف کے منتخب عوامی نمائندوں پر بھی اس حوالے سے کافی دبائو ہے۔ گزشتہ روز جب آدھے سے زائد پشاور کی بجلی بند تھی تو یہ عوامی نمائندے بھی عوام کے ڈر سے غائب ہوگئے تھے۔ ماضی میں بات بات پر پیسکو ہیڈکوارٹر پر چڑھ دوڑنے والے وزراء اور ایم پی اے بھی کہیں نظر نہیں آرہے ۔بجلی کے بھاری بلوں نے بھی عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ،رواں ماہ بھی صارفین کو بھاری بل بھیج دیئے گئے ہیں۔اپوزیشن جماعتیں ان عوامی مشکلات سے غافل ہیں ، اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ان عوامی معاملات پر آواز اٹھانے کا کوئی ارادہ نظر نہیں آتا۔