نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پٹرول کی قیمتوں میں اضافےکی بڑی وجہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ ہے،حسان خاور
  • بریکنگ :- حکومت کے ہاتھ میں سیلزٹیکس اورپٹرول لیوی ہےجوپہلےبہت کم ہے،حسان خاور
Coronavirus Updates

لمبی فراکس کا بدلتا فیشن ،ان دنوں شارٹ ڈریسرز کے بجائے زیادہ لمبائی والے ملبوسات ہی پسند کئے جائے ہیں

خصوصی ایڈیشن

تحریر : اسماء کفائت


یوں تو لمبی قمیضیں اور فراکس گزشتہ کئی سال سے فیشن میں’’اِن‘‘ ہیں لیکن آج کل خاص طور پرگھیر دار اور فلور لینتھ یعنی پاؤں تک آنے والے ڈریسزبھی فیشن کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔حتیٰ کہ ماڈرن ڈریسرز میں بھی ان دنوں شارٹ ڈریسرز کے بجائے زیادہ لمبائی والے ملبوسات ہی پسند کئے جا رہے ہیں۔ویسے بھی لمبی فراکس کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ جب لڑکیاں بالیاں انہیں زیب تن کرتی ہیں تو ان کی شان ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ کپڑوں کے ڈیزائن بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور زیادہ تر خواتین موسم بدلنے کے ساتھ ساتھ اپنے کپڑے پہننے کے انداز کو بھی بدلنا شروع کر دیتی ہیں تاکہ وہ بھی وقت کے ساتھ الگ نظر آئیں۔ ہر عورت کی ہمیشہ سے یہی خواہش رہی ہے کہ وہ اچھی نظر آئے۔بناؤ سنگھار کرنا، اپنی جلد کا خیال رکھنا،اچھے کپڑے پہننا کس عورت کو پسند نہیں ہوتا۔ زمانہ چاہے کوئی بھی ہو نیا یا پرانا ۔ہر زمانے کے ساتھ کپڑوں کے نئے اور جدید کٹس فیشن میں آتے رہتے ہیں ۔

پاجامے

،غرارے،شرارے،اسکرٹس،ساڑھیاں  پٹیالہ شلوار، گھیر والے ٹراؤزر، لمبی قمیضیں،کھلی فراکس،آگے کچھ پرنٹ تو پیچھے قمیض میں کوئی اور پرنٹ وغیرہ وغیرہ، ہمیں عام نظرآ تے ہیں ۔ہر کوئی زمانے کے حساب سے ہی کپڑے بنواتا ہے تاکہ وہ دنیا کے ساتھ چلتا ہوا لگے۔ اورلوگ اسے  دقیانوسی نہ سمجھیں۔ ایک زمانہ تھا  جب عورتیں اپنے کپڑوں پر طرح طرح کی کڑھائی کرواتی تھیں ۔ پہلے بازاروں میں چکر لگا کر اچھا کپڑا ڈھونڈنا ایک مشکل کام تھا۔ پھر زمانہ تھوڑا بدلا، بازاروں سے عورتوں نے کڑھائی کئے ہوئے کپڑے خریدنا شروع کئے، دکاندار سے پیسوں پر لمبی چوڑی بحث ہوتی اور درزی کو کپڑے سلنے دے دیئے۔ نہ الگ سے کپڑا خریدنے کا جھنجھٹ نہ کڑھائی والے کے پاس جاکر گھنٹوں کھڑے ہونے کا مسئلہ۔

پھر بوتیکس کھلنا شروع ہوئے، آہستہ آہستہ عورتوں نے بوتیکس جانا شروع کیا ۔خاص طور پر وہ عورتیں جو منفرد کپڑے پہننے کی شوقین ہوتی تھیں اور اتنے پیسے والی بھی کہ دکاندار سے بحث کئے بغیر کپڑے خرید لیں کیونکہ عام خیال ہے کہ  بوتیک پر جو کپڑا جتنے کا ہے اُتنے میں ہی ملتا  ہے۔اگر کبھی سال میں سیل لگتی بھی تو وہی چند خواتین سیل پر سے کپڑے خریدتی نظر آتیں۔ ان بوتیکس پر زیادہ رش ہوتا نہ دھکم پیل ۔ پھر آہستہ آہستہ کچھ لوگوں نے اپنے نام کے برانڈ متعارف کروائے اور آج تک یہ سلسلہ چل رہا ہے اورروزانہ کی بنیاد پر نئے نئے برانڈ سامنے آرہے ہیں۔

 لمبی فراک کا فیشن

 آج ہم آپ کو فیشن اور موسم کے لحاظ سے چند ایسے ڈیزائنز کے بارے میں بھی بتائیں گے جو نہ صرف دیکھنے میں اچھے ہیں بلکہ پہننے کے لحاظ سے بھی مناسب ہوں گے۔ آج کل لمبی فراکس کا فیشن چل رہا ہے جس میں پرنٹڈ اور سادہ فراک دونوں ہی فیشن میں اِن ہیں۔

یہ سٹائل خواتین کو بہت متاثر کر رہا ہے ، بڑے فیشن ڈیزائنر بھی اس قسم کے فراک متعارف کروا رہے ہیں۔ شیشہ ورک کے لباس جب مارکیٹ میں آئے تو خواتین  نے ہاتھوں ہاتھ لیا جس کے بعد ان کپڑوں کا رجحان خواتین میں عام ہو گیا۔ اب مختلف قسم کے نئے ڈیزائن مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ان میں فراک،قمیض،شلوار اور ٹراؤزر بھی الگ الگ ورائٹی میں شامل ہیں۔ 

رنگ برنگی کرتیاں اور رنگ برنگی قمیضوں کا فیشن کبھی ختم نہیں ہوتا ،اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ کالی اور سفید شلوار کے ساتھ آسانی سے استعمال کر لی جاتی ہیں۔ جس کے باعث خواتین صرف کْرتی خریدنا پسند کرتی ہیں۔

کڑھائی والے کپڑے

آج کل کپڑوں کے گلے  اوردامن میں کڑھائی کا فیشن زیادہ دیکھا جا رہا ہے کیونکہ ان کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ ان کو کسی چھوٹی تقریب میں بھی پہنا جا سکتا ہے اور ان میں بھی کئی قسم کی ورائٹی موجود ہوتی ہیں۔ 

آرگنزا اور ویلوٹ

 اب آرگنزا اور ویلوٹ کا فیشن بھی بہت مقبول ہے کیونکہ یہ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے علاوہ بھی پہنا جا رہا ہے۔جس کے باعث اس کے بھی کئی ڈیزائن مارکیٹ میں موجود ہیں۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

شہید ملت لیاقت علی خان،عظیم رہنما،صاحب فراست حکمراں

آپؒ نے تمام معاشی پالیسیوں کا رخ امیروں سے دولت لے کر غریبوں کی طرف منعطف کردیا تھا،بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے بعد تحریک پاکستان میں دوسرا بڑا نام لیاقت علی خانؒ کا ہے

قائد ملتؒ، مسلم قومیت کے نقیب ،لیاقت علی خان ؒ کا مکا قومی اتحاد کی علامت بن گیا

’’لیاقت علی خانؒ نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں دن رات ا یک کر دئیے وہ اگرچہ نوابزادہ ہیں لیکن وہ عام افراد کی طرح کام کرتے ہیں ،میں دوسرے نوابوں کو بھی مشورہ دوں گا کہ ان سے سبق حاصل کریں‘‘:قائد اعظمؒ

نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا معاشرے کے ہر فرد کا فرض ہے، اسلامی معاشرہ اور ہماری ذمہ داریاں ،اسلام نے ہر فرد کو آداب و اطوار کے ساتھ زندگی گزارنے کا پابندکیا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، لہٰذا نہ خود اس پر ظلم و زیادتی کرے نہ دوسروں کو ظالم بننے کے لیے اس کو بے یارو مددگار چھوڑے، نہ اس کی تحقیر کرے۔ آپصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تین مرتبہ سینے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ’’تقویٰ یہاں ہوتا ہے‘‘۔ کسی شخص کے لیے یہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے اور اس کی تحقیر کرے، ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان کے لیے حرام ہے اس کا خون، اس کا مال اور اس کی آبرو‘‘(مسلم شریف)۔

محبت اور دشمنی صرف اللہ کیلئے ،ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ ’’جس نے اللہ کے لیے کسی سے محبت کی اور اللہ ہی کے لیے دشمنی رکھی اور اللہ ہی کے لیے دیا (جس کسی کو کچھ دیا) اور اللہ ہی کے لیے منع کیا اور نہ دیا تو اس نے اپنے ایمان کی تکمیل کر لی‘‘(ابوداؤد)۔ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ اس لیے مسلمان کی کوشش اپنے ہر قول و فعل سے یہی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فرمان سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کام کرنے کی وجہ سے ایمان کامل ہوتا ہے یعنی جس شخص نے اپنی حرکات و سکنات، اپنے جذبات اور احساسات اس طرح اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع کر دیئے کہ وہ جس سے تعلق جوڑتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہی جوڑتا ہے اور جس سے تعلقات توڑتا ہے اللہ تعالیٰ ہی کے لیے توڑتا ہے۔ جس کو کچھ دیتا ہے اللہ ہی کے لیے دیتا ہے اور جس کو دینے سے ہاتھ روکتا ہے صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود ہوتی ہے۔

اسلام میں تجارت کا تصور،نبی کریمﷺ نے تجارت میں بددیانتی کو سخت نا پسند فرمایاہے

اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے تاجر پر لازم ہے کہ وہ شے کی کوالٹی کے متعلق صحیح معلومات خریدار کو بتا دے اور کسی چیز کے کسی بھی نقص کو مت چھپائے۔ اگر چیز میں کوئی نقص پڑ گیا ہو تو وہ خریدار کو سودا طے کرنے سے پہلے آگاہ کر دے۔ اسلامی تاریخ میں ہمیں کاروباری دیانت کی سیکڑوں مثالیں ملتی ہیں۔ سودا طے ہوتے وقت فروخت کار خریدار کو مال میں موجود نقص کے متعلق بتانا بھول گیا یا دانستہ چھپا گیا۔ بعد میں جب فروخت کار کو یاد آیا تو وہ میلوں خریدار کے پیچھے مارا مارا پھرا اور غیر مسلم، مسلم تاجر کی اس دیانت داری کو دیکھ کر اسلام لے آیا۔ انڈونیشیا کے باشندے دیانتدارمسلم تاجروں کے ذریعے ہی حلقہ بگوش اسلام ہوئے تھے۔

مسائل اور ان کا حل

بیٹے کی وراثت میں ماں کا حصہ ؟سوال:کیا بیٹے کی پراپرٹی میں ماں کا حصہ ہوتا ہے جبکہ بیٹے کی اولاد میں بیٹے کے آگے4 بیٹے ہیں بیٹی کوئی نہیں نیز بیٹے کی وفات ہو چکی ہے۔(سعد شیخ، لاہور)جواب: جی ہاں !سگے بیٹے کی جائیداد میں ماں کا شرعی حصہ وراثت ہے جو بہر صورت ماں کو دیا جانا شرعاً ضروری ہے اور مذکورہ صورت میں ماں کو کل مال کا چھٹا حصہ ملے گا کیونکہ بیٹے کی اولاد موجود ہے ۔