نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 8 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 28 ہزار 761 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 431 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 47 ہزار 84 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 0.91 فیصدرہی،این سی اوسی
Coronavirus Updates

چہرے کے مطابق میک اپ خوبصورتی کا راز ، گول، لمبے ، اور کتابی چہروں پر میک اپ کے انداز بھی مختلف ہوتے ہیں

خصوصی ایڈیشن

تحریر : فاطمہ نعیم


اچھا میک اپ تب ہی ہو سکتا ہے اگر آپ چہرے کو مدنظر رکھ کر میک اپ کریں۔ بناوٹ کے لحاظ سے چہروں کی کئی اقسام ہیں مثلاً گول چہرہ،لمبا چہرہ، پتلا چہرہ اور کتابی چہرہ۔ ان مختلف چہروں پر میک اپ کے انداز بھی مختلف ہوتے ہیں۔

گول چہرہ خوبصورت اور حسین سمجھا جاتا ہے لیکن اس پر میک اپ کے لئے احتیاط کی ضرورت ہے ، میک اپ کے لئے بالوں کے اسٹائل سے بہت مدد ملتی ہے۔ اس لئے بالوں کو ڈھیلا رکھیں اور کھینچ کر نہ باندھیں بالوں کی لٹیں دونوں طرف تھوڑی تھوڑی نکال لیں۔ اگر مانگ چوڑی ہے تو اوپر کی طرف بال بنائیں۔ اگر گردن لمبی ہے تو سیدھی مانگ نہ نکالیں۔ ناک چھوٹی یا چپٹی ہے تو ناک کے اوپر کی ہڈی پر ہلکا ہلکا پاؤڈر لگا کر اسے ذرا نمایاں کریں۔ناک کے دونوں اطراف پر ڈارک شیڈ میں پاؤڈر لگا دیں۔اس طرح نا ک اونچی نظر آئے گی،اگر آپ چہرے کی گولائی کو کم کرنے کی خواہاں ہیں تو اس کے لئے آپ کو تھوڑی سی محنت کرنی پڑے گی۔یعنی میک اپ سے پہلے چہرے کے کناروں یعنی جبڑوں کے درمیان شیڈ دینا ہوگا۔چہرے کی کنٹورنگ کریں ، اس طرح چہرے کا گول حصہ قدرے دب جائے گا۔ یہ کام آسان نہیں اس کے لئے کافی پریکٹس کرنے کی ضرورت ہے تب کہیں جا کر آپ اپنے گول چہرے کی گولائی کم کرنے میں کامیاب ہو سکیں گی۔ اس کے علاوہ بلشر بھی رخساروں کی ہڈی سے نیچے کی طرف لمبائی میں لگائیں۔اس طرح ٹھوڑی پر بلشر چوڑائی میں لگائیں گول فریم کا چشمہ ہرگز نہ لگائیں بلکہ چوڑا اور اوپر کو اٹھا ہو فریم استعمال کریں۔

تکون چہرے کے ساتھ کشادہ پیشانی اور ٹھوڑی خوبصورت سمجھی جاتی ہے ، چہرے پر معمولی بنیادی میک اپ کریں۔پھر پیشانی کو ذرا گہرا کریں تاکہ اس کی چوڑائی کم معلوم ہواور جبڑوں کی لائن پر تیز میک اپ کریں چہرے کے تنگ حصے اور چوڑی پیشانی کو برابر رکھنے کے لیے بالوں کا ایک گچھا ماتھے پر ڈالنے سے بھی پیشانی کی چوڑائی کم معلوم ہوگی۔مانگ سیدھی نہ نکالیں بلکہ ٹیڑھی نکالیں اور جبڑوں کی لائن کو نمایاں کریں۔ اگر آپ کی آنکھیں چھوٹی ہیں تو بھنوؤں کو ذرا نیچے کی طرف جھکا دیں آنکھوں کے گرد کاجل یا پنسل سے لائن اور صرف پلکوں کی نوکوں پر مسکارا لگائیں۔چشمہ کے لئے فریم بھاری اور بڑا نہ لیں بلکہ ہلکا سا نازک فریم لگائیں۔بھنویں جیسی ہیں ویسی ہی رہنے دیں رخساروں کے ابھاروں پر شیڈ لگائیں۔ اوپر کے ہونٹ کو ذرا سا خم دے کر لپ اسٹک لگائیں۔ نیچے کے ہونٹ پر بھی اس طرح لگائیں اگر ٹھوڑی بہت چھوٹی ہے توچہرے کے نچلے حصے کو ذرا گہرا کر دیں اگر بلش آن آنکھوں کے حلقوں کے نیچے سے ناک کے نتھنے کی طرف قدرے گولائی میں لگائیں تو اس طرح چہرے کا تکون پن بھی کم ہو جائے گا۔

لمبوترہ چہرہ لمبا اور دبلا ہوتا ہے۔ چہرے کی لمبائی اور نقوش کو نمایاں کرنے کے لیے کچھ نہ کریں، سر کے بال اوپر سے دبے ہوئے اور اطراف سے پھولے ہوئے ہوں۔ مانگ سیدھی نکالیں کانوں کے اوپر کھلے ہوئے بال نہ بنائیں۔بھنویں خم والی بنائیں۔ ہونٹوں پر قدرتی شکل میں ہی لپ اسٹک لگائیں۔اگر آپ اپنے لمبے چہرے کو کم کر کے چوڑا کرنا چاہتی ہیں تو اپنے دونوں رخساروں اور جبڑے کے باہر کی طرف ہلکے شیڈ کی فاؤنڈیشن لگائیں۔اس کے بعد بلشر لگائیں اس میک اپ سے آپ کا لمبا چہرہ قدرے چوڑا ہو جائے گا۔آپ آئینے میں دیکھ کر اندازہ لگائیں کہ آپ کا چہرہ درمیان میں سے چوڑا دکھائی دے گا۔

چوکور چہرہ بھی خوبصورتی کی علامت سمجھاجاتاہے اور دنیا کی بعض حسین ترین شخصیات اسی چہرے کی مالک ہیں ۔بالوں کاصحیح سٹائل چہرے کے اس چوکور پن کو کسی حد تک کم کر دیتا ہے او ر چہرے کو بیضوی شکل دے سکتا ہے اس لئے بال پیچھے کی طرف پھولے ہوئے اور اونچے بنائیں۔بالوں کو سیدھا پیچھے کی طرف برش کریں اور پھر انہیں ہاتھ سے دبا کر اونچا کریں۔مانگ نہ نکالیں اگر آپ دبلی ہیں تو بہت اچھی بات ہے ۔بھنویں بڑی اور محراب نما بنائیں انہیں زیادہ اونچی نہ بنائیں۔ جبڑے کے ابھاروں کے اوپر اور نیچے بلشر لگائیں اور مسکرانے سے جو حصہ رخساروں کا ابھرتا ہو اس پر بلشر ذرا گہرا لگائیں۔ ہونٹوں پر لپ اسٹک لگائیں۔ اس طرح آپ کے چہرے کے چوڑے پن میں کمی آ جائے گی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔

شریر چوہا

جمیلہ کا گھر ایک خوبصورت باغ کے درمیان تھا۔اطراف میں رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں لگی تھیں۔ ان کے علاوہ اس میں آم، امرود، کیلے، چیکو اور ناریل وغیرہ کے درخت بھی تھے۔ جمیلہ بڑی اچھی لڑکی تھی۔ صبح سویرے اٹھتی نماز اور قرآن پڑھتی اور پھر باغ کی سیر کو نکل جاتی۔ گھر آکر اپنی امی کا ہاتھ بٹاتی اور پھر سکول چلی جاتی۔ اس کی استانیاں اس سے بہت خوش رہتی تھیں، کیوں کہ وہ ماں باپ کی طرح ان کا کہنا بھی مانتی تھی اور خوب جی لگا کر پڑھتی تھی۔ جمیلہ کے کمرے میں کتابوں اور کھلونوں کی الماریاں خوب سجی ہوئی تھیں۔ فرصت کے اوقات میں وہ کتابیں پڑھتی اور کبھی نت نئے کھلونوں سے بھی کھیلتی۔

چرواہے کا احسان

انگریز جب ہندوستان آئے تو اپنے ساتھ مشینیں بھی لائے۔ اس وقت تک یورپ میں ریل اور دوسری مشینیں ایجاد ہو گئی تھیں۔ انگریزوں نے ہندوستان میں ریلوں کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں ریل کی پہلی لائن بمبئی سے تھانے تک پہنچائی گئی۔ اس کے بعد مختلف حصوں میں پٹریاں بچھائی جانے لگیں۔ پہاڑی علاقوں میں پٹریوں کا بچھانا ایک بے حد مشکل کام تھا۔ انجینئروں نے پہاڑوں میں سرنگیں کھود کر لائنوں کو گزارا۔ ہمارے ہاں کوئٹہ لائن اس کی ایک شاندار مثال ہے۔

پہیلیاں

گونج گرج جیسے طوفان،چلتے پھرتے چند مکانجن کے اندر ایک جہان،پہنچے پنڈی سے ملتان(ریل گاڑی)

اسوئہ حسنہ کی روشنی میں فلاح معاشرہ میں خاندانی زندگی کا کردار ،گھریلو زندگی میں صلح جو ہونے کا براہ راست اثر معاشرے پر پڑتا ہے

نبی اکرم ﷺ نے ہجرت مدینہ کے بعد ایک معتدل، انسان دوست اور مستحکم معاشرہ کی بنیاد رکھی۔ معاشرہ کی ترقی و خوش حالی کا انحصار افراد کے رویوں پر ہے۔ افراد کے رویے حکومت سازی، اداروں کے استحکام بقائے باہمی اور دیگر معاملات کی سمت، ضابطے اور منزل کا تعین کرتے ہیں۔ افراد کے فکری اور اخلاقی رویوں کی تشکیل کا بنیادی محرک عائلی زندگی ہے۔ عائلی زندگی کو اسلام میں بنیادی تربیتی ادارہ کی حیثیت حاصل ہے۔ نبی اکرمﷺ نے عائلی زندگی کے جو مقاصد اور حقوق و فرائض متعین فرمائے ان کی اساس اور جامع اثر فلاح معاشرہ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اماتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو، امانت داری ،ایمان کی علامت ، جب امانت ضائع کی جائے تو قیامت کا انتظار کرو

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ ’’بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو‘‘ (سورۃ النساء:آیت 58)۔ دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے کہ ’’اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے دغا نہ کرو، اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت کرو‘‘ (سورۃ الانفال :آیت 27)، تاجدار ختم نبوت ﷺ کا ارشاد ہے’’تین باتیں ایسی ہیں کہ جس میں ہوں گی وہ منافق ہو گا اگرچہ نماز، روزہ کا پابند ہی ہو۔ (۱)جب بات کرے تو جھوٹ بولے، (۲)جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، (۳)جب امانت اس کے سپرد کی جائے تو خیانت کرے۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، رقم 59)