نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- این اے 133ضمنی الیکشن،مسلم لیگ (ن) نےمیدان مارلیا
  • بریکنگ :- لاہور:تمام 254پولنگ اسٹیشنزکےغیرحتمی غیرسرکاری نتائج
  • بریکنگ :- مسلم لیگ(ن)کی شائستہ پرویزملک 46 ہزار811 ووٹ لےکرکامیاب
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی کےاسلم گل 32 ہزار313 ووٹ لےکردوسرےنمبرپررہے
  • بریکنگ :- شائستہ پرویزملک نے 14ہزار498ووٹوں سے اسلم گل کو شکست دی
  • بریکنگ :- 4لاکھ 40ہزار485ووٹوں میں سے 80ہزار997ووٹ کاسٹ ہوئے
  • بریکنگ :- لاہور:این اے 133 میں ٹرن آؤٹ 18.59 فیصدرہا
  • بریکنگ :- 50ہزار936مرداور30ہزار959خواتین نےووٹ کاسٹ کیا،898ووٹ مسترد
  • بریکنگ :- لاہور:9امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں
  • بریکنگ :- نشست (ن)لیگ کےپرویزملک کی وفات کےباعث خالی ہوئی تھی
Coronavirus Updates

ایک بھوکا لکھ پتی

خصوصی ایڈیشن

تحریر : تنویر اسلم


واٹسن نامی لکھ پتی سوداگر ایک دن صبح کے وقت کہیں جانے کو تیار تھا ۔ نوکر ناشتے کی میز لگائے منتظر کھڑے تھے۔ ایک فقیر نے دروازے پرآکر سوال کیا۔سوداگر صاحب! میں تین دن سے بھوکا ہوں، کچھ کھانا ہو تو خدا کی راہ میں دے دو تاکہ میں بھی پیٹ کے دورخ کو بھر لوں۔

 واٹسن نے نہایت کراہت سے کہا ’’ احمق بوڑھے! یہ فلاحی ادارہ نہیں‘‘۔

 بو ڑھے نے کہا، کچھ پیسے دے دیں ، میں بازار سے روٹی خرید لوں۔

واٹسن بولا: ’’ بس اب تقریر بازی ختم کر کے فورا ً چلے جاؤ یہاں سے ورنہ ابھی کتا مزاج پرسی کرے گا‘‘۔

غریب خاموش ہوکر نہایت بے دلی کے ساتھ چلا گیالیکن واٹسن جوں ہی میز پر بیٹھاتو معلوم ہوا کہ کسی بے احتیاطی سے چائے،مکھن اور میوے کو مٹی کا تیل لگ گیا ہے اور سب چیزوں سے تیل کی بو آ رہی ہے۔وہ کام کی جلدی میں فوراًاٹھ کھڑا ہوا اور نوکر کو ایک بجے کھانا لانے کی تاکید کر کے چلا گیا۔تین بج گئے لیکن نوکر نہ آیا۔واٹسن بھوک سے بے تاب ہو رہاتھا کہ اس کے ایک دوست نے آ کر کہا ’’آپ کا نوکرکھانا لے کر آرہا تھاکہ اتفاقاً میری گاڑی سے ٹکر لگ گئی۔ کھانا تو برتنوں سمیت گِرا ہی تھا،افسوس نوکر کو بھی سخت چوٹ آئی ہے، جسے میں شفاخانے سے  مرہم پٹی کروا لایا ہوں۔ ڈاکٹر کہتا ہے نوکر چند دن میں اچھا ہو جائے گا۔ میں اس حادثے کے لئے معافی چاہتا ہوں‘‘۔

واٹسن دوست کو رخصت کر کے مکان پر آیا اور باورچی کو رات کا کھانا معمول سے قدرے پہلے تیار کرنے کا حکم دیا۔ باورچی نے سر جھکا کے عرض کیا ’’ میں کھانا پکا کر ایک معمولی کام کے لیے باہر نکلا تھا،واپس آکر جو دیکھتاہوں تو آپ کے کتے نے سب کھانا خراب کر دیا ہے‘‘۔ صاحب سخت جھنجھلائے مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔ پھل جو منگوائے تو وہ بھی بدبو دار معلوم ہوئے ،ناچار بھوکا سونا پڑا۔ دوسرے دن صبح اٹھ کر چائے تیار ہوئی تو اس کی بھی وہی حالت پائی اور ایک بجے کا کھانا بھی کسی وجہ سے یوںہی برباد ہو گیا۔آخرواٹسن کو خیال آیا کہ ’’ ہو نہ ہو اسی بوڑھے کی بد دعا کا نتیجہ ہے‘‘۔

 ناچار وہ اپنے ایک دوست کے ہاں کھانا کھانے چلا گیا، جونہی دوست کے ساتھ کھانے کو بیٹھا، میز پر کھانا رکھتے ہوئے نوکر کا پاؤں پھسل گیا، میز واٹسن پر آ پڑی اور یہ اس دوست پر جا گرا۔اس کے گرنے سے دونوں کو چوٹ آئی اور کھا نا بھی سب کا سب تہہ و بالا ہو گیا۔ واٹسن شرمندہ ہو کر یہ کہتا ہوا اٹھ آیا کہ ’’ میں اپنی بد نصیبی میں تمہیں بھی ناحق شریک کرنا نہیں چاہتا‘‘۔

اب یہ دوسری رات تھی جو اسے فاقے سے بسر کرنی پڑی۔صبح بھوک کے مارے اس کی حالت سخت ابتر ہو رہی تھی اور یہ حیران بیٹھا سوچ رہا تھا کہ کیا کروں اور کیا نہ کروں۔ اتنے میں اتفاقاً پھر اسی بوڑھے فقیر کا ادھر سے گذرہوا۔ واٹسن نے دیکھتے ہی اسے آواز دے کر اپنے پاس بلا لیا اور سب حال کہہ سنایا۔اس نے کہا ’’ صاحب ! بے شک تمہاری بے رخی دیکھ کر میں نے ہی پرسوں دعا مانگی تھی کہ الٰہی تیرا یہ دولت مند بندا فاقے کی مصیبت کو بالکل نہیں جانتا جو تیرے بھوکے بندوں پر گزرتی ہے، اس کے بعد مجھے تو فوراً ایک جگہ سے کچھ رقم مل گئی مگر ادھر خدا نے تمہیں بھی اس بے پرواہی کا مزاہ چکھا دیا۔خیر اب تم چل کر میرے ساتھ کھانا کھاؤ شائد وہ تمہارا گناہ معاف کر دے‘‘۔

بوڑھے کی بات سنتے ہی وہ لکھ پتی بھوکا فوراً ساتھ ہو لیا اور اس کی پرانی سی جھونپڑی میں جا کر خوب پیٹ بھر کر بسکٹ کھائے اور چائے پینے کے بعد عہد کر لیا کہ ’’آئندہ میں کسی فقیر کا سوال رد نہیں کروں گا‘‘۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔

شریر چوہا

جمیلہ کا گھر ایک خوبصورت باغ کے درمیان تھا۔اطراف میں رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں لگی تھیں۔ ان کے علاوہ اس میں آم، امرود، کیلے، چیکو اور ناریل وغیرہ کے درخت بھی تھے۔ جمیلہ بڑی اچھی لڑکی تھی۔ صبح سویرے اٹھتی نماز اور قرآن پڑھتی اور پھر باغ کی سیر کو نکل جاتی۔ گھر آکر اپنی امی کا ہاتھ بٹاتی اور پھر سکول چلی جاتی۔ اس کی استانیاں اس سے بہت خوش رہتی تھیں، کیوں کہ وہ ماں باپ کی طرح ان کا کہنا بھی مانتی تھی اور خوب جی لگا کر پڑھتی تھی۔ جمیلہ کے کمرے میں کتابوں اور کھلونوں کی الماریاں خوب سجی ہوئی تھیں۔ فرصت کے اوقات میں وہ کتابیں پڑھتی اور کبھی نت نئے کھلونوں سے بھی کھیلتی۔

چرواہے کا احسان

انگریز جب ہندوستان آئے تو اپنے ساتھ مشینیں بھی لائے۔ اس وقت تک یورپ میں ریل اور دوسری مشینیں ایجاد ہو گئی تھیں۔ انگریزوں نے ہندوستان میں ریلوں کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں ریل کی پہلی لائن بمبئی سے تھانے تک پہنچائی گئی۔ اس کے بعد مختلف حصوں میں پٹریاں بچھائی جانے لگیں۔ پہاڑی علاقوں میں پٹریوں کا بچھانا ایک بے حد مشکل کام تھا۔ انجینئروں نے پہاڑوں میں سرنگیں کھود کر لائنوں کو گزارا۔ ہمارے ہاں کوئٹہ لائن اس کی ایک شاندار مثال ہے۔

پہیلیاں

گونج گرج جیسے طوفان،چلتے پھرتے چند مکانجن کے اندر ایک جہان،پہنچے پنڈی سے ملتان(ریل گاڑی)