نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 10 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 28 ہزار 777 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 42 ہزار 944 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 336 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 0.78 فیصدرہی،این سی اوسی
Coronavirus Updates

اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا،احمد راہی کے اردو نغمات بھی لاجواب

خصوصی ایڈیشن

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ احمد راہی نے اعلیٰ درجے کی پنجابی شاعری کے علاوہ بہت خوبصورت پنجابی نغمات لکھے۔ سب سے زیادہ ذکر ان کی جن پنجابی فلموں کا کیا جاتا ہے ان میں ’’یکے والی‘‘، ’’مرزا جٹ‘‘ اور ’’ہیر رانجھا‘‘ شامل ہیں۔ پنجابی نظموں کی ان کی کتاب ’’ترنجن‘‘ اب تک مقبول ہے۔

اس طرف شاید کسی کا دھیان نہیں جاتا کہ احمد راہی نے نہ صرف اردو شاعری کی بلکہ کئی اردو فلموں کیلئے نغمات بھی لکھے اور ان میں سے کئی نغمات سپر ہٹ ہوئے بلکہ آج تک ان کی مقبولیت برقرار ہے۔ احمد راہی کو اپنی زندگی میں بھی اس بات کا قلق تھا کہ ان کی اردو شاعری کے بارے میں بات نہیں کی جاتی۔ بہرحال ہم اس مضمون میں احمد راہی کے بے مثل اردو نغمات کے بارے میں اپنے قارئین کو بتائیں گے۔

1960ء میں خلیل قیصر کی فلم ’’کلرک‘‘ ریلیز ہوئی جس کے ہدایت کار بھی وہ خود تھے۔ اس میں ایک گیت کے علاوہ باقی تمام گیت احمد راہی کے زور قلم کا نتیجہ تھے۔ اس کے دو گیت ’’بھٹک رہے ہیں ہم جہاں‘‘ اور ’’خالی پیٹ کسے دکھائیں‘‘ تو بہت اثر انگیز تھے۔ 

نجم نقوی کی فلم ’’دل ناداں‘‘ کے گیت احمد راہی اور طفیل ہوشیارپوری نے تحریر کیے۔ بابا جی اے چشتی کی موسیقی بہت معیاری تھی۔ اس میں احمد راہی کا لکھا ہوا ایک نغمہ ’’دولت کے گن گانے والو، دل جو نہیں تو کچھ بھی نہیں‘‘ بہت پسند کیا گیا۔اسی طرح فلم ’’خیبر میل‘‘ کیلئے ان کا گیت ’’اے چاند تو بتا‘‘ بھی بہت پسند کیا گیا۔فلم ’’سلطنت‘‘ کیلئے ان کا ایک گیت ’’بہکی بہکی ہوا جاری جا‘‘ ناہید نیازی نے گایا اور اس گیت کو بہت سراہا گیا۔فلم ’’عجب خان‘‘ کا مشہور گیت ’’کوئی مخمور نظر، یوں گئی دل سے گزر‘‘ بھی احمد راہی نے تخلیق کیا اور اسے بھی ناہید نیازی نے گایا۔

1963ء میںایس سلیمان کی فلم ’’باجی‘‘ کے تمام نغمات احمد راہی کے زرخیز ذہن کی پیداوار تھے۔ احمد راہی نے اس فلم کے مکالمے بھی لکھے تھے۔ اس فلم کے نغمات ’’اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آئے گا‘‘، ’’دل کے افسانے نگاہوں سے زباں تک پہنچے‘‘،’’چندا توری چاندنی میں جیا جلا جائے رے‘‘، ’’سجن لاگی توری، لگن من ما‘‘ نے زبردست مقبولیت حاصل کی۔اگرچہ ’’باجی‘‘ باکس آفس پر اتنی زیادہ کامیاب نہیں ہوئی لیکن اس کے نغمات آج بھی دل کے تاروں کو چھو لیتے ہیں۔

1968ء میں ہدایت کار لقمان کی فلم ’’پاکیزہ‘‘ کو نمائش کیلئے پیش کیا گیا۔ اس فلم میں احمد راہی کا لکھا ہوا گیت ’’لوٹ آئو میرے پردیسی بہار آئی ہے‘‘ بہت مقبول ہوا۔ 1979ء میں مسعود پرویز کی فلم ’’خاک اور خون‘‘ میں احمد راہی کے دو گیت ’’علم تو ہے پردہ تقدیر میں‘‘ اور ’’میں تیری یاد کو دل سے بھلاتا ہوں‘‘ شامل تھے۔فلم ’’آزاد‘‘ کے نغمات نے کافی مقبولیت حاصل کی۔ احمد راہی نے اس فلم کے دو نغمات تخلیق کیے، جن میں سے ’’میں وہ دیوانہ ہوں جس پر کوئی ہنستا بھی نہیں‘‘ بہت مقبول ہوا۔

نیلو اور یوسف خان کی فلم ’’رقاصہ‘‘ ایک ناکام فلم تھی لیکن ماسٹر رفیق علی کی موسیقی میں تمام گلوکاروں نے اس کے گیت بڑے خوبصورت انداز میں گائے۔ اس فلم کے سات نغمات میں سے چھ نغمات مشیر کاظمی نے تحریر کیے جبکہ احمد راہی نے صرف ایک گیت ’’رو رہی ہے شام غم، جلنے لگی تنہائیاں‘‘ لکھا، جسے بہت پسند کیا گیا۔

انور کمال پاشا کی فلم ’’گمراہ‘‘ کا ذکر بھی ضروری ہے۔ فلم کے آٹھ گیتوں میں سے دو قتیل شفائی نے لکھے جبکہ چھ گیت احمد راہی نے تحریر کیے۔ احمد راہی کے جن نغمات کو شہرت ملی ان میں ’’آئے کوئی کارواں‘‘، ’’لو ہو گئے ہم تیرے‘‘، ’’رہی نہ میرے بس کی بات‘‘ شامل ہیں۔ فلم ’’بدل گیا انسان‘‘ میں احمد راہی کا لکھا ہوا گیت ’’دل بے قرار کو قرار آگیا ہے‘‘ کو بہت پسند کیا گیا۔

مذکورہ بالا نغمات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ احمد راہی نے صرف پنجابی فلموں کیلئے ہی لازوال گیت نہیں لکھے بلکہ ان کے اردو گیتوں کا بھی جواب نہیں۔ ان کا گلہ جائز تھا کہ ان کے اردو گیتوں کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جو دینی چاہیے تھی۔ جو بھی ہو راہی صاحب کے اردو گیت بھی یاد رکھے جائیں گے۔

(عبدالحفیظ ظفر سینئر صحافی ہیں اور انہوں نے اردو کے افسانوی ادب کا گہرا مطالعہ کر رکھا ہے، 2 کتابوں کے مصنف بھی ہیں)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔

شریر چوہا

جمیلہ کا گھر ایک خوبصورت باغ کے درمیان تھا۔اطراف میں رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں لگی تھیں۔ ان کے علاوہ اس میں آم، امرود، کیلے، چیکو اور ناریل وغیرہ کے درخت بھی تھے۔ جمیلہ بڑی اچھی لڑکی تھی۔ صبح سویرے اٹھتی نماز اور قرآن پڑھتی اور پھر باغ کی سیر کو نکل جاتی۔ گھر آکر اپنی امی کا ہاتھ بٹاتی اور پھر سکول چلی جاتی۔ اس کی استانیاں اس سے بہت خوش رہتی تھیں، کیوں کہ وہ ماں باپ کی طرح ان کا کہنا بھی مانتی تھی اور خوب جی لگا کر پڑھتی تھی۔ جمیلہ کے کمرے میں کتابوں اور کھلونوں کی الماریاں خوب سجی ہوئی تھیں۔ فرصت کے اوقات میں وہ کتابیں پڑھتی اور کبھی نت نئے کھلونوں سے بھی کھیلتی۔

چرواہے کا احسان

انگریز جب ہندوستان آئے تو اپنے ساتھ مشینیں بھی لائے۔ اس وقت تک یورپ میں ریل اور دوسری مشینیں ایجاد ہو گئی تھیں۔ انگریزوں نے ہندوستان میں ریلوں کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں ریل کی پہلی لائن بمبئی سے تھانے تک پہنچائی گئی۔ اس کے بعد مختلف حصوں میں پٹریاں بچھائی جانے لگیں۔ پہاڑی علاقوں میں پٹریوں کا بچھانا ایک بے حد مشکل کام تھا۔ انجینئروں نے پہاڑوں میں سرنگیں کھود کر لائنوں کو گزارا۔ ہمارے ہاں کوئٹہ لائن اس کی ایک شاندار مثال ہے۔

پہیلیاں

گونج گرج جیسے طوفان،چلتے پھرتے چند مکانجن کے اندر ایک جہان،پہنچے پنڈی سے ملتان(ریل گاڑی)