نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- 2022میں گروپ آف 77 کی سربراہی پاکستان کرےگا
  • بریکنگ :- اجلاس میں جمہوریہ گنی گروپ کی سربراہی پاکستان کےحوالےکرےگا
  • بریکنگ :- اجلاس سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی خطاب کریں گے
  • بریکنگ :- پاکستان گروپ آف 77 کابانی رکن ہے اور 3 بارگروپ کی سربراہی کر چکا ہے
  • بریکنگ :- اقوام متحدہ میں گروپ آف 77 کاورچوئل اجلاس منعقدکرنےکافیصلہ
Coronavirus Updates

تم لوگوں کو معاف کردو اللہ تمہیں معاف کردے گا، عفوودر گزر: خدائی صفت

خصوصی ایڈیشن

تحریر : مفتی محمد اویس اسماعیل


’’اگر تم معاف کردو، درگزر کرو اور چشم پوشی سے کام لو پس بے شک اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے‘‘۔ (التغابن : 14)، عفوو درگزر ایک ایسا وصف ہے کہ جس کی وجہ سے دشمنی دوستی میں بدل جاتی ہے۔ باہمی تعلقات کی خوبی ہی یہ ہے کہ وہ لچک، نرمی اور درگزر سے پنپتے ہیں اور پروان چڑھتے ہیں۔ غلطیاں یقینا ً انسانوں ہی سے ہوتی ہیں لیکن اپنی غلطی کو تسلیم کر کے اس پر معافی مانگ لینا اور متاثرہ شخص کا اسے معاف کر دینا یہی بڑا پن ہے اور خدا کو بہت پسند بھی ہے۔

معاف کرنا خدائی صفت

دوسروں کے قصور اور ان کی غلطیاں معاف کر دینا یہ خدا کی صفت ہے۔ یہی صفت خدا اپنے بندوں میں بھی دیکھنا چاہتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کو اہلِ ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے یوں ذکر کیا ہے کہ ’’پس معاف کردو اور درگزر کرو کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے، اور اللہ تو بخشنے والا رحم کرنے والا ہے‘‘۔ (النور:22)، آیت مبارکہ میں اللہ نے دوسروں کے قصور معاف کر دینے پر ابھارا ہے اور اس کیلئے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ معاف کر دینے والے کو اللہ بھی معاف کر دیتا ہے۔ اس کی مزید وضاحت نبی کریمﷺ کے اس ارشاد سے ہوتی ہے کہ’’تم مخلوق پر رحم کرو تو تم پر رحم کیا جائے گا اور تم لوگوں کو معاف کر دو اللہ تمہیں معاف کر دے گا‘‘۔ (مسند احمد:7041)، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کہ قرآنِ مجید میں مومنوں کو انفاق پر ابھارا گیا ہے اور انفاق کرنے والوں سے کئی گنا کرکے واپس لوٹانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اب جو جتنا لوگوں کو معاف کرے گا اتنا ہی اللہ تعالیٰ اسے بھی معاف کریں گے۔ 

اللہ تعالیٰ کے اسما الحسنی میں سے ایک نام ’’العفو‘‘ ہے، اس کا مطلب ہے درگزر کرنے والا اور یہ صفت خدا کی مخلوق میں سے جس میں بھی ہوگی اللہ تعالیٰ اسے پسند کرتے ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے اوصاف کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’(وہ) لوگوں کو معاف کردینے والے (ہوتے ہیں۔) اور اللہ محسنین کو پسند کرتا ہے‘‘۔ (آلِ عمران: 134)۔اوپر خدا کی جس صفت العفو کا ذکر ہوا وہی الفاظ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اہلِ ایمان کیلئے ذکر کیے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو دوسروں کے قصور اور غلطیاں معاف کر دینے والے بہت پسند ہیں۔ جب خدا اپنی تمام تر عظمت و جلال کے باوجود انسانوں کو معاف کر دیتا ہے۔ ہر وہ شخص جو خدا سے اپنے گناہوں کی معافی کا طلب گار ہے اُسے چاہیے کہ پہلے خود دسروں کو معاف کرے کہ جو معاف کرے گا، وہ معاف کر دیا جائے گا۔

معاف کرنا سنت ِ رسول ﷺ

نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی عفو و درگزر، رحم و کرم، محبت و شفقت سے عبارت ہے اور اس کی گواہی خود قرآن نے اور آپ ﷺ کے ساتھیوں نے دی۔ اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر آپ ﷺ کے اخلاق کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کی عنایت اور رحمت سے آپﷺ ان کے لیے نرم خو ہیں، اگر آپﷺ کج خلق اور سخت مزاج ہوتے تو یہ (لوگ جو آپ کے گرد جمع ہوئے ہیں) آپﷺ کے پاس سے ہٹ جاتے۔ (آلِ عمران: 159)، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا ’’تم میں سے ایک رسول آیا ہے جس پر تمہاری تکلیف بہت شاق گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی کا خواہاں ہے اور ایمان والوں پر نہایت شفیق اور مہربان ہے۔ (التوبہ:128)

اُم المومنین حضرت عا ئشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ ’’آپ ﷺ نے کبھی کسی غلام، لونڈی، عورت، بچہ یا خادم کو نہیں مارا، سوائے جہاد فی سبیل اللہ کے اور کبھی آپﷺ نے اپنی ذات کیلئے کسی سے انتقام نہیں لیا لیکن اگر کوئی حدود اللہ کی بے حرمتی کرتا تو نبی کریم ﷺاسے برداشت نہیں کرتے اور اللہ کے لیے اس کا انتقام لیتے۔ (مسلم: 2328)

آپ ﷺ نے مکہ والوں کو معاف کردیا، طائف والوں کو معاف کردیا، حضرت عائشہ صدیقہؓ پر جھوٹا الزام لگانے والوں کو معاف کردیا۔ ’’بلاشبہ رسول اللہﷺ کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے‘‘۔ (الاحزاب: 21)

بدلہ لینے کا حکم 

اگر کوئی اپنے اوپر ہونے والے ظلم اور زیادتی کا بدلہ لینا چاہے تو شریعت نے اس کی بھی اجازت دی ہے۔ لیکن وہ بدلہ بھی اتنا ہی ہونا چاہے جتنا ظلم کیا گیا ہو۔ البتہ اس بدلے کو بھی قرآن نے ایک طرح سے برائی ہی کہا ہے۔ اس کے برعکس جو معاف کردینے کو ترجیح دیتا ہے اسے اللہ تعالیٰ نے اصلاح کرنے والا قرار دیا ہے اور اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’برائی کا اسی مقدار میں برائی سے بدلہ دیا جائے لیکن جو معاف کر دے اور اصلاح کر لے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے‘‘ (الشوری:40)۔ 

حضرت انسؓ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا ’’جب بندہ حساب کیلئے میدان حشر میں کھڑا ہوگا تو ایک منادی آواز دے گا جس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے وہ کھڑا ہو جائے اور جنت میں داخل ہو جائے، کوئی کھڑا نہ ہوگا پھر دوبارہ اعلان کیا جائے گا،فرشتہ کہے گا یہ وہ افراد ہیں جو لوگوں کو معاف کرتے تھے پس ایسے ہزاروں لوگ کھڑے ہو جائیں گے اوربغیر حساب کے جنت میں داخل ہو جائیں گے‘‘ (طبرانی:55)۔ 

ابو ہریرہؓ ایک حدیث روایت کرتے ہیں جس میں رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایاکہ  ’’حضرت موسیؑ نے رب سے پوچھا آپ کے بندوں میں سے آپ کے نزدیک سب سے معزز کون ہیں تو اللہ تعالیٰ نے جواب دیا جو بدلے کی طاقت رکھنے کے باوجود معاف کر دے‘‘۔ (شعب الایمان: 7974)

معاف کرنا عزت میں اضافے کا باعث

اگر کوئی کسی کو معاف کر دیتا ہے تو یقینا ً اس سے ضائع شدہ حقوق واپس نہیں آتے لیکن دلوں سے نفرت، کینہ، بغض اور دشمنی کے جذبات ختم ہو جاتے ہیں۔ انتقام لینے کا جذبہ ٹھنڈا پڑ جاتا ہے، باہمی تعلقات میں استحکام پیدا ہوتا ہے۔

ایک دوسرے کو معاف کر دینے کا عمل ہی دراصل تمام افرادِ معاشرہ کو درپیش انفرادی و اجتماعی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہے۔معافی کی صفت اپنانے سے انسان خود بھی پرسکون، چین و اطمینان میں رہتا ہے اور معاشرے میں بھی ایک دوسرے کو معاف کر دینے کا رجحان پروان چڑھتا ہے۔ جو طاقت رکھنے کے باوجود لوگوں کی زیادتیوں و مظالم کو معاف کر دے تو اللہ تعالی اس کی عزت میں اضافہ کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’معاف کرنے والے کی اللہ عزت بڑھا دیتے ہیں۔ (مسلم:2588)، 

 مفتی محمد اویس اسماعیل ایگزیکٹیو ڈائریکٹر، الاخوان مجلس ِ افتاء،کراچی

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

تھیٹر بحران : ذمہ دار کون ؟ تفریحی سرگرمیاں بحال کرنے کے حکومتی اعلان کے باوجود تھیٹرز آباد نہ ہوسکے

حکومت کی جانب سے لوگوں کی تفریح کیلئے تھیٹرز کھولنے کے اعلانات کے باوجود بہت سے تھیٹر تاحال بند ہیں۔ عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث جہاں دنیا بھر کی معیشت تباہ ہوئی وہیںپاکستانی تھیٹر کو بھی بے پناہ نقصان پہنچا۔ تھیٹر بند ہونے سے سٹیج ڈراموں سے وابستہ فنکار بھی معاشی مسائل کا شکار رہے۔ کورونا کی صورتحال میںبہتری کے بعد10اگست 2020 ء کو حکومت نے ایس او پیز کے تحت تھیٹر ہالز کھولنے کی اجازت دی مگر پروڈیوسرز اب تک تھیٹرز کو آباد کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ تھیٹر بزنس میں اضافہ ہونے کے بجائے کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ جدید تھیٹر ز کی تعمیر نو بھی تعطل کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ کئی چلتے ہوئے تھیٹر بند ہوگئے ہیں۔

آشیاں جل گیا، گلستان لٹ گیا، حبیب ولی محمد : ایک لاثانی گلوکار

حبیب ولی محمد کی مشہور غزلیں-1لگتا نہیں ہے دل مرا-2نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں-3یہ نہ تھی ہماری قسمت-4آج جانے کی ضد نہ کرو-5مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں-6کب میرا نشیمن اہل چمنمقبول ملی نغمات-1روشن درخشاں، نیرو تاباں-2اے نگار وطن تو سلامتِ رہے-3سوہنی دھرتی اللہ رکھے-4لُہو جو سرحد پہ بہہ چکا ہے

دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس، پاکستان میں ذیابیطس خطرناک ، پوری دنیا میں تیسرے نمبر پر آگیا،ماہرین سر جوڑ بیٹھے

ملک میں’’ خاموش قاتل ‘‘ ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں مستقل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ، عوام الناس کی جانب سے اپنے طرز زندگی میں تبدیلی نہ کرنے کی وجہ سے اعدادو شمار خطرناک ہوتے جارہے ہیں۔ماہرین امراض ذیابیطس کے مطابق ملک میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 3 کروڑ 30 لاکھ ہوگئی ہے ۔اس تشویش ناک صورتحال کے باعث ماہرین سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ماہرین ذیابیطس کا کہنا ہے کہ ہمارا ہیلتھ سسٹم اس طرح کا نہیں ہے کہ ہم کروڑوں کی تعداد میں ذیابیطس کے شکار مریضوں کا علاج کرسکیں تاہم مستقل کوششوں میں لگے ہوئے ہیں کہ لوگوں کو ذیابیطس کے موذی مرض سے بچنے کے لئے عوام آگاہی پھیلائی جائے تاکہ عوام الناس اس مرض سے بچ سکیں اور دوسروں کو اس سے بچانے کا ذریعے بھی بن سکیں۔ہر سال 14 نومبر کو ذیابیطس کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔اس حوالے سے عوامی آگاہی مہم کے ساتھ ساتھ مختلف سیمینارز ،پریس کانفرنسز ،واک اور تشہیری مہمات چلاکر ذیابیطس سے بچاؤ کے لئے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جائے۔اس سلسلے میں شہر قائد میں ڈائیبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیر انتظام عالمی سطح کی دو روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔جس میں ملک کے نامور ماہر امراض ذیابیطس نے شرکت کی جبکہ بیرون ممالک کے ماہرین نے کانفرنس میں ویڈیو کے ذریعے ذیابیطس سے بچاؤ کے حوالے سے اپنے پیغام عوام تک پہنچائے۔

11ماہ بعد رنگ میں فاتحانہ واپسی ایک اور ٹائٹل باکسر محمد وسیم کے نام قومی باکسر نے ڈبلیو بی اے فلائی ویٹ سلور بیلٹ میں کولمبیئن فائٹر کو ہرایا

مایہ ناز پاکستانی باکسر محمدوسیم نے ڈبلیو بی اے فلائی ویٹ ورلڈ کا ٹائٹل اپنے نام کر کے ایک بار پھر سبز ہلالی پرچم سر بلند کر دیا۔ قومی ہیرو نے اپنے سے کہیں زیادہ تجربہ کار کولمبین باکسر رابرٹ بریرا کو باکسنگ کے مقابلے میں شکست سے دوچار کیا اور ڈبلیو بی سی فلائی ویٹ ورلڈ سلور بیلٹ چیمپئن بن گئے۔ دبئی کے باکسنگ ایرینا میں ہونے والے مقابلے میں12رائونڈز پر مشتمل فائٹ میں ججز نے محمد وسیم کو فاتح قرار دیا۔ مقابلے میں فتح حاصل کرنے پر پاکستانی باکسر محمد وسیم نے کہاکہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں،اس فائٹ کیلئے بہت محنت کی۔محمد وسیم نے فائٹ جیتنے پر اللہ اکبر کا نعرہ بھی لگایا۔ دونوں باکسرز کے درمیان یہ بائوٹ فلائی ویٹ کیٹیگری میں ہوئی۔یہ پاکستان کے محمد وسیم نے 12 ویں فائٹ جیتی ہے جبکہ ایک میں انہیں شکست ہوئی ہے۔کولمبین باکسر، محمد وسیم سے زیادہ تجربہ کار ہیں، وہ 26 فائٹس میں حصہ لے چکے ہیں، انہوں نے 13 حریفوں کو ناک آئوٹ کیا جبکہ بریرا کو 3 میں شکست ہوئی۔

ماحولیاتی آلودگی (آخری قسط)

جن گاڑیوں میں سے کالا دھواں نکلتا ہے، پولیس والے ان گاڑیوں کو روکتے کیوں نہیں؟ ایسی گاڑیوں کا چالان ہونا چاہیے۔ ہیں نا آپا؟۔