پردہ پوشی : اعلیٰ ایمانی وصف

تحریر : مفتی محمد وقاص رفیع


جو شخص دنیا میں کسی کے عیب چھپائے گا قیامت کے دن اللہ اس کے عیب چھپائے گا ۔ (صحیح مسلم : 6490)

موجودہ دور میں ہماری اخلاقی برائیوں میں سے ایک برائی یہ بھی ہے کہ ہم لوگ ہمہ وقت دوسروں کے عیوب و نقائص اور اُن کی کمیوں اور کوتاہیوں کے ٹٹولنے کے درپے لگے رہتے ہیں۔ جوں ہی کسی کی کوئی برائی یا عیب ہمارے ہاتھ لگتا ہے ہم اسے پھیلانے میں لگ جاتے ہیں اور دوسرے کی تضحیک و استہزاء سے اپنے نفس کو سکون مہیا کرتے ہیں۔ یہ انتہائی گھٹیا اور رذیل صفت ہے جو ہمارے معاشرے میں بڑی تیزی کے ساتھ سرایت کرتی جارہی ہے۔ اسلام نے مسلمان بھائی کے عیب و نقص اور اُس کی کمی و کوتاہی کو چھپانے اور اس سے چشم پوشی کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کو ظاہر کرنے اور اس کی پردہ دری سے شدید نفرت اور سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ 

حضورِ اقدس ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ دری کرتا ہے تواللہ تعالیٰ اس کی پردہ دری فرماتا ہے، یہاں تک گھر بیٹھے اُس کو ذلیل و رُسوا کر دیتا ہے۔(سنن ابن ماجہ: 2546)

پردہ پوشی صفتِ الٰہی ہے نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: اللہ عزوجل انتہائی حیاء والا اور پردہ پوش ہے، حیاء اور پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے(صحیح ابو دائود: 4011)

اسی لئے پردہ پوشی کی متعدد فضیلت احادیث میں آئی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے جو بندہ دنیا میں کسی بندے کے عیب چھپائے گا قیامت کے دن اللہ اس کے عیب چھپائے گا۔ (صحیح مسلم : 6490)

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ’’اگر تم لوگوں (مسلمانوں) کی پوشیدہ (چھپی) باتوں کے پیچھے پڑو گے، تو تم ان میں فساد پیدا کر دو گے یا فساد کے قریب قریب کے حالات پیدا کر دوگے‘‘۔ (صحیح ابو دائود : 4888)

حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ میری ایک بیٹی تھی جسے میں زمانۂ جاہلیت میں ایک دفعہ تو زندہ قبر میں دفن کردیا تھا، لیکن پھر مرنے سے پہلے اسے باہر نکال لیا تھا، پھر اُس نے ہمارے ساتھ اسلام کا زمانہ پایا اور مسلمان ہو گئی، پھر اُس سے ایسا گناہ سرزد ہوگیا جس پر شرعی سزاء لازم آتی ہے، اِس پر اُس نے بڑی چھری سے خود کو ذبح کرنے کی کوشش کی، ہم لوگ موقع پر پہنچ گئے اور اسے بچا لیا۔ اس کے بعد اُس نے توبہ کی اور اُس کی دینی حالت بہت اچھی ہوگئی۔ اب ایک قوم کے لوگ اس کی شادی کا پیغام دے رہے ہیں، میں اُنہیں اس کی ساری بات بتا دوں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ نے تو اس کا عیب چھپایا تھا، تم اسے ظاہر کرنا چاہتے ہو۔ اللہ کی قسم! اگر تم نے کسی کو اس لڑکی کی کوئی بات بتائی تو میں تمہیں ایسی سزا دوں گا جس سے تمام شہریوں کو عبرت ہو گی۔ اس کی شادی اس طرح کرو جس طرح ایک پاک دامن مسلمان عورت کی کی جاتی ہے۔ (کنز العمال: 8605)

حضرت بلال بن سعد اشعری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کو خط میں لکھا کہ دمشق کے بدمعاشوں کے نام لکھ کر میرے پاس بھیجو تو حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرا دمشق کے بدمعاشوں سے کیا تعلق؟ اورمجھے ان کا پتہ کہاں سے چلے گا؟  اس پر ان کے بیٹے حضرت بلال نے کہا کہ میں ان کے نام لکھ دیتا ہوں اور ان کے نام لکھ کر دے دیئے۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہیں ان کا پتہ کہاں سے چلا ہے؟ تمہیں ان کا پتہ اس وجہ سے چلا ہے کہ تم بھی ان میں سے ہو! اس لئے ان کے ناموں کی فہرست اپنے نام سے شروع کرو! اور ان کے نام حضرت معاویہؓ کو نہ بھیجے! (الادب المفرد:1290)

 حضرت شعبی ؒکہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک گھر میں تھے۔ ان کے ساتھ حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ (اِتنے میں کسی کی ہوا خارج ہوگئی جس کی) بدبو حضرت عمرؓ نے محسوس کی تو فرمایا کہ میں تاکید کرتا ہوں کہ جس آدمی کی ہوا خارج ہوئی ہے وہ کھڑا ہو جائے اور جاکر وضو کرے۔ اس پر حضرت جریرؓ نے عرض کیا کہ اے امیر المؤمنین! کیا تمام لوگ وضو نہ کر لیں؟ اِس سے مقصد بھی حاصل ہو جائے گا اور جس کی ہوا خارج ہوئی ہے اس کے عیب پر پردہ بھی پڑا رہے گا! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ آپ رحم فرمائے! آپ جاہلیت میں بھی بہت اچھے سردار تھے اور اسلام میں بھی بہت اچھے سردار ہیں (کہ پردو پوشی کی کیسی اچھی اور عمدہ ترکیب آپ نے بتائی ہے) (کنز العمال: 8608)

یقینابندۂ مؤمن کا ایمانی و اخلاقی یہ ہی وصف ہونا چاہئے کہ وہ دوسروں کے عیوب و نقائص کو ٹٹولے اور ان کی کمیوں و کوتاہیوں کو آشکارا کرنے کے بجائے اپنے عیوب و نقائص کو ٹٹولے اور اپنی کمیوں و کوتاہیوں کو آشکارا کرے اور اُن کی اصلاح و ہدایت کی کوشش و فکر کرے اور دوسرے لوگوں کے عیوب و نقائص پر پردہ ڈالے اور ان کی کمیوں و کوتاہیوں سے چشم پوشی برتے کہ اس سے جہاں دوسرے مسلمانوں کی پردہ پوشی ہوگی اور ان کی عزت نفس کا سامان ہوگا تو وہیں اس عمدہ اور نیک صفت کی بدولت اللہ تعالیٰ اس شخص کی بھی دنیا و آخرت میں پردہ پوشی فرمائیں گے اور اس کی بھی عزت نفس کی حفاظت فرمائیں گے۔

مفتی محمد وقاص رفیع اسلامک ریسرچ اسکالر ’’الندوہ‘‘ ایجوکیشنل ٹرسٹ اسلام آباد ہیں

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

بانو قدسیہ اور ہماری اقدار

ان کے خیال میں تہذیبی ، اخلاقی اورمذہبی اقدار ہی کسی شخص، قوم اور معاشرے کی شناخت ہوا کرتی ہیں:بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ ہر معاشرتی گروہ اور تہذیب کا اپنا تشخص ہوتا ہے‘ اگر وہ اپنی اقدار کوچھوڑ کردوسرے نظام اقدار کو اپناتا ہے تو وہ اپنی شناخت کھو دیتا ہے جو متعدد مسائل کا باعث بنتا ہےوہ روحانی ، اخلاقی اور مادی اقدار کا موازنہ کرکے انسانی شخصیت اور اس کی ذہنی وجذباتی زندگی پر ان کے اثرات کا جائزہ لیتی ہیں‘ ان کے نزدیک انسان مادی اقدارکے حوالے سے احساسِ کمتری کا شکار ہو رہا ہے

سعادت حسن منٹو:سماجی حقیقت نگاری کا اوجِ کمال

سعادت حسن منٹو نے افسانہ نگاری کا آغاز سیاسی موضوعات سے کیا۔ ان کا اولین مجموعہ ’’آتش پارے‘‘(1934ء) مکمل سیاسی رحجان کی غمازی کرتا ہے۔ ایک مبتدی کی اس اولین کاوش میں واضح سیاسی اور سماجی شعور جھلکتاہے۔

پاکستان سپرلیگ سیزن11کرکٹ سٹارز کی نیلامی کامرحلہ

آکشن سے قبل ہر فرنچائز کو 5 کھلاڑیوں کو ری ٹین کرنے کی اجازت ہو گی:پلیئرز آکشن 11 فروری کو ہو گی،پی ایس ایل کا گیارہواں سیزن 26 مارچ سے 3 مئی تک چلے گا، 8 فرنچائزز حصہ لیں گی،ٹاپ کیٹیگری میں بیس پرائس 4 کروڑ 20 لاکھ روپے رکھی گئی ہے، دیگر میں 2 کروڑ 20 لاکھ، 1 کروڑ 10 لاکھ اور 60 لاکھ روپے ہے

کھیلتا پنجاب پنک گیمز2026ء

خواتین کھیلوں کاسب سے بڑا مقابلہ:پنجاب کے ہر ڈویژن سے 21سال سے کم عمرخواتین کھلاڑی 16مختلف کھیلوں میں11تا 15فروری لاہور میں شرکت کریں گی

جنت کا متلاشی (دوسری قسط )

یہ جلیل القدر صحابی عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ تھے۔ آپؓ کا تعلق قبیلہ بنوسہم سے تھا۔ اس کا شمار مکہ کے معزز ترین خاندانوں میں ہوتا تھا۔

ہوشیار مرغی

کسی جنگل کے کنارے لکڑی کے چھوٹے سے دڑبے میں ایک مرغی اکیلی رہتی تھی۔ وہ بہت ہنس مکھ تھی۔ ہر ایک کے کام آتی اور اپنے کام خود کرتی تھی۔