راستہ بھٹکے اشعار وہ اشعار جو خالقوں کے بجائے دوسروں کے نام سے مشہور ہوئے

تحریر : امجد محمود چشتی


اردو شعر و ادب کے ساتھ ساتھ کچھ شعراء کرام کی بھی بے ادبی ہوئی جب ان کے کہے شہرہ آفاق شعروں کو ظالم سماج نے کسی اور کے نام کر دیا اور ایسا کیا کہ پتھر پر لکیر ہوئے۔

 یہ امر حقوق العباد اور حقوق الادب کے یکسر متصادم ہے لہٰذا ان بھٹکے ہوئے اشعار کو ان کے خالقوں اور وارثوں تک پہنچانا ہمارا ادبی فریضہ ہے وگرنہ ہم بھی اردو بے ادبی کی تاریخ کا حصہ شمار ہوں گے۔ 

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں

جو کسی کے کام نہ آسکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں 

اک طویل مدت سے یہ مشہور غزل بہادر شاہ ظفر سے منسوب چلی آرہی ہے لیکن اس کے خالق مضطر خیر آبادی ہیں۔اردو کی درسی کتب میں بھی یہ بہادر شاہ ظفر سے منسوب ہے۔

تندی بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کیلئے

اقبال کے نام پر مشہور یہ شعر ضلع سیالکوٹ کے ہی شاعر صادق حسین کاظمی کا ہے۔ اور ان کے مزار (واقع شکر گڑھ) کے کتبے پر کندہ ہے۔ انہوں نے اس کا مقدمہ تک لڑا اور اپنی کتاب ’’برگِ سبز‘‘ کا انتساب بھی ان لوگوں کے نام کر دیا جنہوں نے اسے اقبال کا بنایا اور سمجھے رکھا۔

عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن

دو آرزو میں کٹ  گئے دو انتظار میں

زبان زدِ عام شعر ہے اور یہ بھی شہنشاہ ِہند بہادر شاہ ظفر کے نام لگا ہے۔ حقیقی وارث سیماب اکبر آبادی ہیں۔ اتفاق یہ ہوا کہ اسی بحر میں ایک غزل بہادر شاہ ظفر نے بھی لکھی  جس کا مقطع تھا!

کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کیلئے

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

مگر یار لوگوں نے سیماب کے مذکورہ شعر کو بہلا پھسلا کر شاہ کی غزل میں دھکیل دیا۔

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

بہت سے احباب مولانا  ظفر علی خان کے اس شعر کو علامہ اقبال کا شعر سمجھتے ہیں۔

ناحق کیلئے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ

شمشیر تو کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ

ان مصرعوں کو بھی اقبال کے اسلوب کے قریب سمجھ کر اقبال کی ہی تخلیق ثابت کیا جاتا ہے مگر کیا کریں یہ اشعار ہرگز علامہ کے نہیں بلکہ ہندوستانی شاعر سرفراز بزمی کے ہیں۔

جب غزل میر کی پڑھتا ہے پڑوسی میرا

اک نمی سی میری دیوار میں آجاتی ہے

یہ شعر میر تقی میر کا نہیں بلکہ اتُل اجنبی (انڈیا) کا ہے۔

مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے

وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے

مشہور ہے کہ یہ ضرب الامثالی شعر حشر کاشمیری نے کہا۔ ایسا ہے بھی اور نہیں بھی۔ مرزا رضا برق المعروف برق لکھنوی کے دیوان میں ان کا یہ شعر ان الفاظ میں درج ہے۔

اے صنم وصل کی تدبیروں سے کیا ہوتا ہے

وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے

(حشر کاشمیری نے مصرعہ اولیٰ کو بدلا اور مصرعہ ثانی وہی لکھا)

تنگ دستی اگر نہ ہو سالک

تندرستی ہزار نعمت ہے

یہ شعر غالب کا سمجھا جاتا ہے حالانکہ اس کے خالق مرزا قربان علی سالک بیگ ہیں۔ 

درج ذیل اشعار کے خالق بھی اور شعراء سمجھے جاتے ہیں۔ حقیقت کچھ یوں ہے

مریضِ عشق پہ رحمت خدا کی

مرض بڑھتا رہا جوں جوں دوا کی

                        (عشرتی)

موت سے کس کو رستگاری ہے

آج وہ کل ہماری باری ہے

(شوق لکھنوی)   

اب تو اتنی بھی میسر نہیں میخانے میں

جتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں

(رگبھیر سرن دواکر راہی)     

امجد چشتی کی کتاب ’’اردو بے ادبی 

کی مختصر تاریخ‘‘ سے اقتباس

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

آغا حشر کاشمیری اُردو کے بلند پایہ ڈرامہ نگار

اُردوکے شیکسپیئر کی آ ج91ویں برسی: یوں تو اور بھی اچھے اچھے ڈراماٹسٹ موجود تھے، احسن، بیتاب، طالب، مائل سب کے سب ناٹک کی لنکا کے باون گزے تھے لیکن آغا کے سامنے بونے معلوم ہوتے تھے اور سچ تو یہ ہے کہ آغا سے پہلے اس فن کی قدر بھی کیا تھی، بچارے ڈراماٹسٹ تھیٹر کے منشی کہلاتے تھے

کلامِ غالب کی معنویت

مرزا غالب کی شاعری کو صدی دو صدی بعد کے زمانے سے ہم آہنگ کر کے دیکھنے کی گنجائش یوں بھی پیدا ہو گئی ہے کہ گزشتہ برسوں میں شرح اور تعبیر کے نظریات میں بھی معنی کے اکہرے پن اور قطعیت سے انکار کا رجحان زیادہ نمایاں ہو گیا ہے۔

پاکستان سپرلیگ11 :زلمی کاراج، ریکارڈزکی برسات

پی ایس ایل 11 کے لاہور میں کھیلے جانے والے فائنل میں شائقین کو شرکت کی اجازت دے دی گئی:پشاور زلمی کے کوشل مینڈس اس وقت بیٹنگ چارٹ پر راج کر رہے ہیں اور’’گرین کیپ‘‘اپنے نام کر رکھی ہے

فیفا ورلڈ کپ2026:ایران کی شرکت اور عالمی فٹ بال کا نیا نقشہ

فٹ بال کا میگا ایونٹ11 جون سے 19 جولائی تک کھیلا جائے گا:امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد ایران نے ورلڈکپ بائیکاٹ کی دھمکی دی تھی تاہم اب ایران کی شرکت کے حوالے سے بے یقینی کے بادل چھٹ گئے ہیں

سیالکوٹ:صوبہ پنجاب کا تاریخی شہر

سیالکوٹ، صوبہ پنجاب کا ایک اہم شہر ہے جو دریائے چناب کے کنارے واقع ہے۔ 9 لاکھ سے زائد کی آبادی والا یہ شہر لاہور سے 131کلومیٹر دور ہے جبکہ مقبوضہ جموں سے صرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

خوشامد کا جال (ماخذ اردو کلاسک)

بوڑھے کسان نے بڑی تگ و دو کے بعد اپنے لیے پنیر کا ٹکڑا حاصل کیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ باہر پرندوں کی ٹولی منڈلا رہی ہے، اس لیے اس نے ہاتھ میں مضبوط شاخ تھام لی تاکہ اس کی حفاظت کر سکے۔