شہید مدینہ،سیدناعثمان بن عفانؓ
تاریخ کے ترکش میں جھوٹ سے بجھے تیروں نے جن مقدس شخصیات کے کردار کو گھائل کرنے کی کوشش کی ہے ان میں ایک مظلومِ مدینہ سیدنا عثمان بن عفانؓ بھی ہیں۔ سیدنا عثمان ؓجو رسول اللہﷺ کے دوہرے داماد ہونے کی وجہ سے ’’ذوالنورین‘‘ کہلاتے ہیں۔
ایسے ہی دوہری ہجرت کی وجہ سے ’’ذوالہجرتین‘‘ بھی کہلاتے ہیں۔ آپؓ کو چالیس دن کے طویل محاصرے کے بعد دن دیہاڑے، قید و بند میں بھوکا پیاسا اور نہتا کر کے ظلماً شہید کیا گیا۔
ولادت،نام و نسب : الاصابہ میں امام ابن حجر عسقلانیؒ نے لکھا ہے کہ آپؓ واقعہ فیل کے چھٹے سال پیدا ہوئے۔ اسد الغابہ میں ہے کہ آپؓ کا نام عثمان ہے سلسلہ نسب اس طرح ہے: عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبدمناف۔ گویا پانچویں پشت میں آپؓ کا سلسلہ نسب رسول اکرم ﷺ سے مل جاتا ہے۔ والدہ کی طرف سے سلسلہ نسب کچھ اس طرح ہے ارویٰ بنت کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبدشمس بن عبدمناف۔ سیدنا عثمانؓ کی نانی بیضاء ام الحکیم، رسول اللہﷺ کے والد حضرت عبداللہ کی بہن تھیں۔ اس نسبت سے آپؓ رسول اکرم ﷺ کے بھانجے ہوئے۔
حلیہ مبارک: طبقات ابن سعد میں ہے کہ سیدنا عثمانؓ کا رنگ گندمی ، قد معتدل، گھنی داڑھی، مضبوط جسم اور شخصیت بارعب تھی۔ اُم المومنین سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب آپﷺ نے حضرت عثمان غنیؓ کا نکاح اپنی بیٹی سیدہ ام کلثومؓ سے فرمایا تو ان سے کہا کہ بیٹی!آپؓ کے شوہر (سیدنا عثمان ؓ) تمہارے دادا حضرت ابراہیم اور تمہارے باپ محمدﷺ سے بہت ملتے جلتے ہیں۔
معاشی وسماجی حیثیت: آپؓ کو اللہ نے مال و دولت سے خوب نوازا تھا اور آپؓ اسے راہ خدا میں بڑی فیاضی سے خرچ فرماتے۔ مشکل حالات میں آپؓ نے مسلمانوں کیلئے ان کی روزمرہ کی ضروریات کو پورا کیا،پانی کے کنویں وقف کئے، غزوات میں اسلحہ، سواریاں اورراشن کا بندوبست کیا۔ زمین خرید کر مسجد نبوی کی توسیع کرنا آپؓ کی امتیازی شان ہے۔
بارگاہ ایزدی میں: مختصر تاریخ دمشق میں ہے حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ سورۃ الزمر آیت نمبر 9 میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’ایک ایسا شخص جو رات کی تنہائیوں میں اللہ کے حضور سجدے کرتا ہے، اور قیام کرتا ہے، آخرت کے دن کا خوف اور اپنے رب کی رحمت کی امید بھی رکھتا ہے، کیا علم والے اور بغیر علم والے برابر ہو سکتے ہیں؟‘‘۔ حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس شخص کا تذکرہ ہے وہ حضرت عثمانؓ ہیں، علامہ علی بن احمد واحدیؒ نے تفسیر بغوی میں اسے حضرت عمر فاروقؓ کا فرمان بتایا ہے۔
بارگاہ نبویﷺ میں: صحیح مسلم میں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓسے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے تھے اکابر صحابہ باری باری حاضر ہو رہے تھے۔ انہی میں سے ایک شخص نے دروازے پر دستک دی اور اندر آنے کی اجازت مانگی۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں کہ مجھ سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس کیلئے دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی بشارت دے دو۔ میں نے دروازہ کھولا دیکھا تو سامنے سیدنا عثمان غنیؓ تھے۔
غزوات میں شرکت: سیدنا عثمان غنیؓ جیسے سخاوت کے پیکر تھے ایسے ہی شجاعت کے پیکر تھے۔ آپؓ نے زمانہ نبویﷺ میں تقریباً تمام غزوات میں بنفس نفیس شرکت کی۔ البتہ غزوہ بدرکے موقع پر آپؓ کی اہلیہ سیدہ رقیہ ؓ شدید علیل تھیں اور آپؓ کو رسول اللہﷺ نے ان کے پاس رکنے کا حکم فرمایا تھا۔
مکارمِ اخلاق: حضرت ابوہریرہؓ کی روایت موجود ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میرے صحابہ میں سے حضرت عثمان غنیؓ خلق کے اعتبار سے مجھ سے زیادہ مشابہ ہیں۔ مشکوٰۃ المصابیح میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میری امت میں سب سے زیادہ باحیاء عثمان غنی ؓہیں۔ انکساری و تواضع کا یہ عالم ہے کہ تین براعظموں کے فاتح ہیں لیکن جب ایک غلام نے آپؓ کی دعوت کی تو آپؓ نے اسے خوشی خوشی قبول فرمایا۔
زہد و تقویٰ کی بلندی ملاحظہ فرمائیے تاریخ الخلفاء میں بحوالہ ابن عساکر ابو ثور تمیمیؓ کی روایت ہے حضرت عثمان غنی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی گانا نہیں سنا اور نہ ہی کبھی لہو لعب کی تمنا کی۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت تاریخ الخلفاء میں بحوالہ ابن عساکر بسند صحیح موجود ہے کہ سیدنا صدیق اکبرؓ اور سیدنا عثمان ؓ نے زمانہ جاہلیت میں بھی شراب نہیں پی۔
عبادات:سیدنا عثمان غنی ؓ کو نماز سے بہت رغبت تھی، آپؓ پنجگانہ فرائض کے علاوہ نوافل بھی کثرت کے ساتھ پڑھا کرتے اور خصوصاً تہجد کا معمول تھا۔ آپؓ ایک رکعت میں مکمل قرآن کریم ختم فرما لیا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی دادی سے روایت ہے کہ سیدنا عثمانؓ روزے بھی بکثرت رکھا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ جس دن آپؓ کو شہید کیا گیا آپؓ اس دن بھی روزے سے تھے۔
سیدنا عثمان غنیؓ کثرت سے صدقہ و خیرات فرمایا کرتے تھے۔ تاریخ طبری میں آپؓ ہی سے روایت ہے کہ جس وقت میں خلیفہ بنایا گیا اس وقت میں عرب میں سب سے زیادہ اونٹوں اور بکریوں کا مالک تھا اور آج میرے پاس سوائے ان دو اونٹوں کے کچھ بھی نہیں جو میں نے حج کیلئے رکھے ہوئے ہیں۔
آپؓ نے مسلسل دس حج ادا فرمائے، آپؓ مناسک حج کے بہت بڑے عالم تھے، امہات المومنین کو بھی آپؓ نے حج کرایا۔ موطا امام مالک میں ہے کہ آپؓ نے سیدناحسینؓ کو بھی حج کرایا۔البدایہ والنہایہ میں سیدنا عثمانؓ کا اپنا بیان موجود ہے کہ میں ہر جمعہ ایک غلام آزاد کرتا تھا اگر کسی جمعہ آزاد نہ کر پاتا تو اگلے جمعہ کو دو غلام آزاد کرتا۔
خلافت عثمانی کے نمایاں کارنامے: سیدنا عثمان غنیؓ نے جن حالات میں عہدہ خلافت اٹھایا اگرچہ وہ مشکل ترین حالات تھے لیکن اس کے باوجود آپؓ کی فراست، سیاسی شعوراور حکمت عملیوں کی بدولت اسلام کو خوب تقویت ملی۔ اسلام پھیلا، اسلامی تعلیمات سے زمانہ روشن ہوا۔ آپؓ نے خلیفہ بننے کے بعد سب سے پہلے لوگوں کو نماز عصر پڑھائی۔ آپؓ نے فوجیوں کے وظائف میں سو سو درہم کے اضافے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ طرابلس، قبرص اور آرمینیہ میں فوجی مراکز قائم کیے۔ چونکہ اس وقت فوجی سواریاں اونٹ اور گھوڑے ہوا کرتے تھے اس لیے فوجی سواریوں کیلئے چراہ گاہیں بنائیں۔ مدینہ کے قریب ربذہ کے مقام پر دس میل لمبی دس میل چوڑی چراگاہ قائم کی۔ مدینہ سے بیس میل دور مقام نقیع پر اور مقام ضربہ پر چھ چھ میل لمبی چوڑی چراہ گاہیں بنوائیں۔ ہر چراہ گاہ کے قریب چشمے بنوائے اور چراہ گاہ کے منتظمین کیلئے مکانات تعمیر کرائے۔ آپؓ کے زمانہ خلافت میں اونٹوں اور گھوڑوں کی کثرت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف ضربہ کی چراہ گاہ میں چالیس ہزار اونٹ پرورش پاتے تھے۔
ملکی نظم و نسق کو مضبوط اور مستحکم بنیادوں پر استوار کیا، رائے عامہ کا تہہ دل سے احترام فرمایا کرتے تھے، اداروں کو خود مختار بنایا اور محکموں الگ الگ تقسیم فرمایا ۔
احتسابی عمل کسی بھی کامیاب حکومت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ سیدنا عثمان غنی ؓ نے اس عمل کے تحت کئی عمال اور سرکاری افسروں کو معزول بھی فرمایا۔لوگوں کو خود کفیل بنانے کیلئے انتظامات کیے۔ البدایہ والنہایہ میں ابن سعد ؓکی روایت ہے کہ محمد بن ہلالؓ اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ جب میرا بیٹا ہلال پیدا ہوا تو سیدنا عثمانؓ نے مجھے پچاس درہم اور کپڑے بھیجے اور یہ پیغام بھیجا کہ یہ تیرے بیٹے کا وظیفہ ہے جب یہ ایک سال کا ہوگا تو اسے بڑھا کر سو درہم کر دیں گے۔
افواج اسلام کو ہدایات :تاریخ طبری میں ہے کہ سیدنا عثمانؓ نے سرحدوں پر موجود اسلامی افواج کو یہ ہدایات بھیجیں کہ تم لوگ مسلمانوں کی حمایت اور ان کی طرف سے دفاع کا فریضہ سرانجام دے رہے ہو۔ تمہارے لیے حضرت عمر فاروقؓ نے جو قوانین مقرر فرمائے تھے وہ ہماری مشاورت سے بنائے تھے۔ اس لیے مجھ تک یہ خبر نہیں پہنچنی چاہیے کہ تم نے ان قوانین میں رد و بدل کیا ہے۔ اگر تم نے ایسا کیا تو یاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ دوسری قوم کو لے آئیں گے۔ اب تم خود فیصلہ کرو کہ تم نے کیسے بن کے رہنا ہے؟ ۔
سیدنا عثمان غنیؓ کے گھر کا محاصرہ: باغیوں نے سیدنا عثمان غنیؓ کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور یہ محاصرہ چالیس دن تک رہا، ان دنوں میں آپؓ مسجد بھی نہیں جا سکے۔ اس دوران بہت سارے جانثاروں نے آپؓ سے اجازت طلب کی۔ تاریخ دمشق میں ہے کہ سیدنا حسن، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تلوار لٹکائے آپؓ سے اجازت مانگنے آئے۔ طبقات ابن سعد میں ہے کہ سیدنا ابو ہریرہؓ بھی تلوار لٹکائے حاضر ہوئے اور اجازت چاہی۔ آپؓ نے فرمایا اپنی تلواریں پھینک دو میں تمہارے ہاتھوں کسی کا خون ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔
مسند احمد اور تاریخ دمشق میں ہے کہ سیدنا عثمانؓ کی خدمت میں حضرت مغیرہ بن شعبہؓ حاضر ہوئے اور عرض کی کہ امیر المومنین! آپؓ عوام کے امام ہیں آپؓ مشکل حالات میں ہیں، اس لیے میری رائے یہ ہے کہ آپؓ تین باتوں میں سے کسی بات کو اختیار فرما لیں۔ (1)آپؓ باہر نکلیں اور مقابلہ کریں، آپؓ حق پر ہیں اور ہم آپؓ کے ساتھ ہیں۔ (2) آپؓ کیلئے پیچھے سے دروازہ کھول دیتے ہیں، آپؓ یہاں سے مکہ مکرمہ تشریف لے جائیں۔ وہاں کوئی شخص آپؓ کے خون سے اپنے ہاتھ رنگنے کی ہمت نہیں کر سکے گا۔ (3)آپؓ ملک شام امیر معاویہؓ کے پاس چلے جائیں وہاں آپؓ کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔
آپؓ نے ان باتوں کے جواب میں فرمایا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ میں رسول اللہ ﷺ کا خلیفہ ہو کر امت کو خون ریزی میں جھونک دوں، مکہ مکرمہ بھی نہیں جا سکتا کیونکہ میں نے حضورﷺ سے خود سنا ہے کہ جو قریشی حرم مکہ میں خون بہائے یا خون بہانے کا سبب بنے تو اس پر آدھی دنیا کے باشندوں کا عذاب ہو گا۔ جہاں تک شام جانے کا تعلق ہے تو یہ اس لیے نہیں ہو سکتا کہ میں دار الہجرت اور حضورﷺ کا پڑوس نہیں چھوڑ سکتا۔
محاصرے کے دوران آپؓ کا کھانا وغیرہ بند کر دیا گیا، باہر سے کوئی شخص اندر کوئی چیز نہیں بھیج سکتا تھا۔ چنانچہ حضرت علیؓ نے پانی پہنچانے کی کوشش کی لیکن دشمنوں نے مشکیزے میں تیر مارا اور سارا پانی ضائع ہو گیا۔ اسی طرح اُم المومنین سیدہ ام حبیبہؓ نے بھی کوشش کی، سِیَر اعلام النبلاء میں ہے کہ حضرت صفیہؓ نے بھی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکیں۔
حسنین کریمینؓ کا حفاظتی دستہ: تاریخ الخلفاء میں ہے کہ سیدنا عثمانؓ کی حفاظت کیلئے سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اپنے دو بیٹے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو مامور فرمایا۔ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما کے بچے بھی حسنین کریمینؓ کے ساتھ پہرے پر تھے۔ جب آپؓ کی شہادت ہو گئی تو حضرت علی المرتضیٰ ؓنے اپنے دونوں صاحبزادوں کو خوب ڈانٹا کہ تمہارے ہوتے ہوئے دشمن کیسے کامیاب ہو گیا؟
شہادت: آخر کار 18 ذوالحج بروز جمعہ تقریباً نماز عصر کے وقت سیدنا عثمانؓ کو شہید کر دیا گیا۔ آپؓ نے کل 82سال کی عمر پائی۔
بوقت شہادت دعا:ریاض النضرہ میں حضرت عبداللہ بن سلامؓ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ خون میں لت پت پڑے ہوئے تھے اور آپؓ کی زبان پر اللہ کے حضور یہ دعا جاری تھی’’اے اللہ امت محمدیہ کو باہمی اتفاق نصیب فرما‘‘۔