یادرفتگان: خدیجہ مستورکافن ہمیشہ زندہ رہے گا

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


خدیجہ مستور کے مجموعی طور پر پانچ افسانوی مجموعے اور دو ناول شائع ہوئے،ریڈیو ڈرامے بھی لکھے

خدیجہ مستور کا شمار پاکستان کی مشہور خاتون افسانہ نگاروں میں ہوتا تھا۔ افسانہ نگاری کے علاوہ انہوں نے ناول بھی لکھے اور ان کا ناول ’’آنگن‘‘ اپنی جگہ ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔

 خدیجہ مستور11دسمبر1927ء کو بریلی (بھارت) میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ڈاکٹر ظہور احمد خان برٹش آرمی ڈاکٹر تھے۔ 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد وہ اپنی ہمشیرہ حاجرہ مسرور کے ہمراہ لاہور چلی آئیں اور پھر یہیں آباد ہو گئیں۔

خدیجہ مستور نے 1942ء میں افسانے لکھنے شروع کئے تھے۔شروع میں افسانہ نویسی کی طرف بڑی رغبت تھی، پہلا افسانی ’’رغبائی ‘‘ لکھا۔ ان کے مختلف افسانے اس دور کے مشہور رسائل ’’خیال، عالمگیر اور ساقی‘‘ میں شائع ہوتے تھے۔ مختلف رسائل میں چھپنے والے ان افسانوں کو 1944ء میں کتابی شکل میں ’’کھیل‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا۔ اس کے بعد ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ 1946ء میں’’بوچھاڑ کے نام سے شائع ہوا۔ 1951ء میں ان کا تیسرا افسانوی مجموعہ ’’چند روز اور‘‘ شائع ہوا۔ ان کے مجموعی طور پر پانچ افسانوی مجموعے اور دو ناول شائع ہوئے۔  ان کے مختلف افسانوں کو جمع کر کے ان کا مجموعہ ’’ٹھنڈا میٹھا پانی‘‘ ان کی موت کے بعد شائع ہوا۔ افسانے اور ناول لکھنے کے ساتھ ریڈیو کے لئے دو ڈرامے بھی لکھے ، بچوں کیلئے چند کہانیاں بھی لکھیں۔ ان کی لکھی ہوئی بہت سی کہانیوں کا دوسری زبانوں میں ترجمہ بھی ہوا۔ 

1962ء میں ان کا شاہکار ناول ’’آنگن ‘‘منظر عام پر آیاجس نے ادبی حلقوں میں تہلکہ مچا دیااور اسے ’’آدم جی ادبی ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیااور آج تک خدیجہ مستور کی پہچان اسی ناول سے ہے۔اس ناول میں انہوں نے یہ دکھایا ہے کہ خاندانی نوک جھونک کس طرح پورے خاندان میں تلخیوں کا زہر گھول دیتی ہے اور پھر یہ لوگ کس طرح ذہنی طور پر علیحدگی کا شکار ہوتے ہیں۔ دراصل یہ ناول ہمارے پورے معاشرے کا ’’آنگن‘‘ ہے۔ دوسری طرف ایک متوسط طبقے کے خاندان کا معیار زندگی بھی بیان کیا گیا ہے۔ پھر اس کے علاوہ وہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں بھی بیان کی گئی ہیں جو آج کے خاندانوں میں مفقود ہو گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ناول کا سیاسی پہلو بھی بہت اہم ہے۔ خدیجہ نے سیاسی نظریات کے ٹکرائو کو بھی اُجاگر کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے حالات بھی بیان کئے ہیں جس میں خاص طور پر جاپان میں ایٹم بم گرانے کے بعد جو تباہی ہوئی اس پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس ناول کا ایک معاشرتی پہلو بھی ہے اور پھر ایک پہلو انسانیت کا بھی ہے، جس میں مختلف کرداروں کے ذریعے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ انسانیت سے بڑی کوئی شے نہیں اور اگر انسانیت کا رشتہ قائم ہے تو پھر پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ ہر مصیبت، بحران اور تکلیف پر قابو پایا جا سکتا ہے، انسانیت ہی وہ رشتہ ہے جو تمام رشتوں پر بھاری ہے، اور انسانیت اسی وقت قائم رہ سکتی ہے جب انسانی اقدار زندہ ہوں۔ انسانی اقدار کیسے تباہ ہوتی ہیں، اس کا احاطہ بھی انہوں نے بڑی خوبصورتی سے کیا ہے۔

 خدیجہ مستور کے دوسرے ناول ’’زمین‘‘ کا تذکرہ بھی بہت ضروری ہے جو ان کی آخری تصنیف تھی۔ یہ ناول بھی حد درجہ اہمیت کا حامل ہے اس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ زمین کیا چیز ہے اور اس سے محبت کیوں ضروری ہے۔ اس فلسفے کو بھی سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ زمین اگر وطن کیلئے حاصل کرنا مقصود ہو تو پھر اس کا تقدس حد درجہ بڑھ جاتا ہے۔ 

خدیجہ مستور کا اسلوب بے حد متاثر کن ہے۔ وہ بہت اچھی نثر نگار ہیں اور بات کو قاری کے ذہن میں اتارنے کا فن جانتی ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ حقیقت پسند ہیں اور انہوں نے کبھی اس میں جھوٹ کی آمیزش کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ان کے افسانے بھی براہ راست ابلاغ کے افسانے ہیں اور وہ جس موضوع پر لکھتی ہیں اس پر انہیں پورا عبور حاصل ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اُردو کی مشہور خاتون افسانہ نگار اور ناول نگار قراۃ العین حیدر اور عصمت چغتائی کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے لیکن خدیجہ مستور کے منفرد مقام سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اردو ادب کی تاریخ میں ان کے نام کو بھی معتبر حیثیت حاصل ہے اور رہے گی۔

خدیجہ مستور کا انتقال26جولائی 1982ء کو عارضہ قلب کے سبب لندن میں ہوااور ان کا جسد خاکی لاہور لا کر گورومانگٹ میں سپرد خاک کیا گیا۔ 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

پاکستان کا ایٹمی سفر!

گرمیوں کا موسم اور شام کا وقت تھا۔ آسمان پر ہلکی سرخی پھیلی ہوئی تھی۔ گھر کے صحن میں ارحم اور ارسل اپنے تایا ابو کے ساتھ بیٹھے تھے۔ دونوں کے ہاتھوں میں اسکول کی کاپیاں تھیں۔

توبہ

عامر انتہائی شریر لڑکا تھا۔ ہر وقت شرارتیں کرتا، دوسروں کو ستانے میں اُسے بڑا مزہ آتا تھا۔

آم — پھلوں کا بادشاہ

گرمیوں کا موسم آتے ہی بازاروں میں خوشبودار آم نظر آنے لگتے ہیں۔ آم ایک ایسا پھل ہے جسے دنیا بھر میں بے حد پسند کیا جاتا ہے۔

پرندوں کی دلچسپ دنیا

٭… شتر مرغ دنیا کا سب سے بڑا پرندہ ہے، لیکن یہ اڑ نہیں سکتا۔

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

بھاری کاموں کیلئے جانور کیوں استعمال کئے جاتے ہیں؟

پیار سے رہیے ، محبت کیجیے

پیار سے رہیے ، محبت کیجیے،اس جہاں سے ختم نفرت کیجیے