جیلانی کامران کی نظم میں تہذیبی شعور
پاکستان بننے کے دس بارہ سال بعد کچھ شاعروں نے ذات کے کرب کی اہمیت کو تسلیم کرنے کے بعد اپنا قدم ذات کے دائرے سے باہر نکالا اور تہذیبی دائرے کو مرکزی مقام دیا۔ جیلانی کامران انہی شاعروں میں سے ایک ہیں جن کی علامتوں اور موضوعات کو اسلامی تہذیبی تناظر کا شاخسانہ کہا جا سکتا ہے،
اس دور میں جب ہر شاعر نئی زندگی کے سوالات کیلئے نئے خواب تلاش کر رہا تھا اور نوجوان شاعر نئی نظم میں چونکا دینے والے رویوں اور اسلوب پر مائل تھے( مثلاً وزیر آغا، منیر نیازی، مبارک احمد اور ظہور نظر وغیرہ) جیلانی کامران نے نہ صرف مسلم تہذیب و قومیت کے طرز احساس کو اپنایا بلکہ اپنے موضوعات کے ساتھ ساتھ اسلوب میں بھی اسلامی ، ثقافتی مزاج کو فوقیت دی۔
دنیا کی عظیم تہذیبوں کا مطالعہ کیا جائے تو خدا کی وحدت پر یقین رکھنے والی اسلامی تہذیب کی اکثر روایات میں یہودی اور عیسائی عقیدوں کی بازگشت ہیں۔جیلانی کامران کی نظم اسی اجتماعی لاشعور کے تناظر سے ابھرتی ہے اور اپنی مصرعوں کی ساخت اور لفظوں کے چنائو کے باعث دلکشی اور سادگی سے مسلم قاری کو اسلامی تشخص سے روشناس کراتی ہے۔
صلاح الدین محمود لکھتے ہیں: ’’ہمارے وقتوں کے ایک نمائندہ شاعر کی حیثیت سے جیلانی کامران کا درجہ مسلم ، لحن منفرد اور فلسفہ حیات واضح اور شفاف ہے‘‘۔
عقیدہ اور مذہب انسانی نفسیات پر اساطیر کی مانند گہرے اثرات ثبت کرتا ہے۔ ایسے دور میں، جب اکثر شاعر بیسویں صدی کے المناک اور انسان دشمن حالات کو جدید عقل پرستی سے پرکھنے کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھے موت ، لایعنیت، بے معنویت ہی انسان کا مقدر نظر آنے لگا تھا اور مذہبی و اخلاقی اقدار بے معنی ہو جانے سے انسان کے اندر کا خلا پر نہ ہو رہا تھا۔ جیلانی کامران نے مذہبی روایات کے احیا کے تصور کو اپناتے ہوئے پاکستانی مسلمانوں کو مذہب کا سہارا دیا اور مذہب کی کھوئی ہوئی ساکھ برقرار کی۔ جس کے نتیجے میں مذہب کے ساتھ یقین، وجدان اور امید کی کرنیں بھی تازہ دم ہوئیں۔ اس تمام شاعرانہ کاوش کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان کی شاعری اقبال کی مانند بیک وقت اجتماعی نفسیات اور ہزاروں برس پر پھیلی مسلم تہذیبی شناخت کی داستان بن جاتی ہے۔ نظم ’’یمن کا شاعر ، جنوبی فرانس میں‘‘ کی تمثالیں نئی اور جدید سہی لیکن ان اسلامی تہذیبی آثار کی عکاس ہیں جن کے بغیر مسلمان کا شعور مکمل نہیں ہوتا۔
’’چنتا، اگر میں رات کو اس کی ادا کے پھول پھول
اس کے بدن کی دلکشی ، امیری جوسرگزشت ہے
اس نظم کے متعلق انیس ناگی لکھتے ہیں: ’’استانزے کی معنوی تنظیم کچھ غیر مربوط سی ہے۔ اس کا پہلا جزو،’’یمن کا شاعر جنوبی فرانس میں‘‘ 12مداحیوں پر مشتمل ہے۔ یہ بدن کے حسن اور اس کی نزاکتوں کا حسیاتی بیان ہے۔ ان کا معنوی قرینہ کچھ اتنا غیر واضح ہے کہ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ جنوبی فرانس میں یہ مسلمانوں کے تہذیبی اثرات کو پیش کرتے ہیں، یا معنویت، حسیاتی سطح پر ہی ختم ہو جاتی ہے‘‘
گویا جیلانی کامران کی شاعری میں حسن و عشق کی واردات، باطنی کشف کی جانب کھولنے والے در ہیں۔ نظم ’’ابی نمر‘‘ اور ’’الجیریا کیلئے ایک گیت‘‘ بھی مسلم ثقافت کے ریشم میں لپٹی، حسن و عشق کی وہ داستانیں ہیں جو ظاہری حسن سے شروع ہوتی ہیں مگر جن کی منتہا جسم نہیںبلکہ محبوب سے فراق، کوہ کنی کی ہمت اور طاقت عطا کرتا ہے۔
جب میں فرہاد تھا، ہر کوہ تھا لرزاں لرزاں
کیا ہوا شیریں و پرویز نہ ہمراہ چلے
میں نے ہر سنگ گراں بار پہ لکھی دھڑکن
جس جگہ میرا لہو ٹپکا، وہاں پھول کھلے
جیلانی کامران اپنے مجموعہ’’دستاویز، میں بھی اسلامی تہذیبی وجدان سے کنارہ کش نہیں ہوتے بلکہ وجدانی لہر تیز تر ہو جاتی ہے، جو ایک خاص قسم کے کشف کو اُبھارتی ہے۔’’دستاویز‘‘ کی نظم ’’پل صراط‘‘ میں اسلامی تاریخ کے کشفی و کراماتی کرداروں کے توسط سے نئے دور میں قدیم مابعد الطبیعاتی وجدان کو سمویا ہے۔
’’تھر کی دیوار سے اُونچی جیتے جی کی
قید… برف سے اُجلے چاند کی خاطر عمر ہوئی
ناپید شہر کے کسٹم ہائوس کے باہر ملک
ہوئے تاراج، کالے پیٹر پہ سولی پائے حالی اور
حلاج پتھر کاٹ کے ہم نے پایا برسوں کا
سکھ چین گلدستہ کے روپ میں دیکھا
انیس ناگی اپنی کتاب ’’نیا شعری اُفق میں‘‘ جیلانی کامران پر لکھے جانے والے مضمون میں یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ مسلم تہذیبی احیا کے سلسلے میں علامہ اقبالؒ کی توانا اور روشن شاعری کی موجودگی میں جیلانی کامران نے اپنا چراغ کیوں جلایا؟ تو اس کا جواب یہ دیا جا سکتا ہے کہ مذہبی اور وجدان کی نفسی تردید سے پیدا ہونے والے باطنی مسائل کے دور میں جیلانی کامران کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے کشف ذات کی اس آرزو کو، جس کی جانب مذہبی بنیادوں کے بغیر راشد اور میرا جی بھی بڑھنا چاہتے تھے اور وزیر آغا اور منیر نیازی، وجدانی لب و لہجہ میں جس کا اعادہ کرنے کی کوشش کرتے رہے، اپنی نظموں کا منتہا بنایا۔ وہ اقبال کی طرح مذہبی احیا اور مسلم تہذیب کے دلدادہ ہیں مگر فلسفیانہ بلند آہنگی کی بجائے وجدانی لحن انہیں زیادہ بھایا۔ یہ لحن انہیں صوفیانہ شعری اظہار رکھنے والوں کی صف میں لاکھڑا کرتا ہے۔
ڈاکٹر عنبرین منیر پی ایچ ڈی سکالر اور ادیبہ ہیں، مختلف جرائد اور ویب سائٹس کیلئے لکھتی ہیں