بیوٹی پارلر سے نجات پائیں

تحریر : مہوش اکرم


عموماً دیکھا گیا ہے خواتین اپنے چہرے کی خوبصورتی کیلئے کئی کئی گھنٹے صرف کر دیتی ہیں لیکن ہاتھوں اور پیروں کی طرف ان کی توجہ نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ جس کا نتیجہ ہاتھوں اور پیروں کا پھٹنا، ایڑیوں کا زخمی ہونا اور چہرے سے پہلے ہاتھوں پر جھریاں پڑنے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے ۔ آج ہم آپ کو ہاتھوں اور پیروں کو خوبصورت بنانے اور ان کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے کچھ قدیم و جدید طریقے بتا رہے ہیں، جن کے استعمال سے آپ بھی خوبصورت اور نرم ملائم ہاتھوں کی مالک بن سکتی ہیں۔

مینی کیور

مینی کیور لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہاتھوں کی حفاظت اور ان کی خوبصورتی میں اضافہ کرنا ہے۔ اس طریقہ کار میں پہلے ناخنوں کوکاٹیں ،پھر انہیں ریتی سے رگڑیں۔  ریتی کا رخ ہمیشہ ناخن کے نچلی طرف سے نوک کی طرف رکھیں۔ اس کے بعد صابن اور ڈیٹول  ملے پانی میں ہاتھ ڈبوئیں۔ یہ عمل دونوں ہاتھوں کے ساتھ باری باری کریں۔ 5سے 7منٹ بعد ہاتھ باہر نکال کر اچھی طرح خشک کریں اور مساج کریں، مساج اس طرح کریں کہ پہلے ہاتھ کے چاروں جانب ہاتھ چلائیں پھر ہتھیلی کی پشت سے کلائی کی جانب مساج کریں، پھر انگلیوں کی اس طرح مالش کریں کہ رخ ناخنوں کے نوک کی جانب ہو اس کے بعد گولائی میں مالش کریں۔

پیڈی کیور

پیروں کی حفاظت کے جدید طریقے کو پیڈی کیور کہتے ہیں۔ اس کیلئے روزانہ پیر دھونے اور ان کی دیکھ بھال کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ بے پرواہی بہت سی پیروں کی بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے۔سب سے پہلے پیروں کے ناخنوں کو حسب منشا کاٹ لیں۔ اس کے بعد صابن اور ڈیٹول ملے پانی میں پانچ منٹ تک ڈبوئیں۔ اس کے بعد جھانویں یا نوک دار پتھر سے ایڑیاں صاف کریں۔پانی سے نکال کر خشک کرنے کے بعد پیروں کا مساج کریں۔ تھوڑا سا لوشن یا مساج کریم لے کر انگلیوں اور ہتھیلیوں کی مدد سے اس طرح مساج کریں کہ پنڈلی پر انگلیوں کا رخ اوپر گھٹنے کی جانب ہو اور پیر پر جس طرح بھی ممکن ہو، انگلیوں پر خصوصی توجہ دیں اور ان کا اچھی طرح مساج کریں۔

ویکسنگ

 ویکسنگ بھی ہاتھوں اور پیروں کی خوبصورتی بڑھانے کا جدید اور قابل عمل طریقہ ہے۔ ہاتھوں اور پیروں پر جو فالتو بال ہوتے ہیں ان سے ہاتھوں اور پیروں کی خوبصورتی ختم ہو جاتی ہے۔ ویکسنگ کرنے سے ہاتھوں اور پیروں کے فالتوں بال بالکل صاف ہو جاتے ہیں اور ہاتھ پیر خوبصورت دکھائی دیتے ہیں۔

بازو اور کہنیوں کی صفائی

چھوٹی آستینوں کا نا صرف فیشن ہے بلکہ زیادہ استعمال ہے لیکن اسے اختیار کرنے کیلئے ضروری ہے کہ آپ کے بازو اور کہنیاں اتنی صاف ستھری ہوں کہ آدھی آستینوں میں بری نہ لگیں۔

آسان اور سادہ طریقہ یہ ہے کہ لیموں  کے چھلکوں کو روزانہ بازوئوں اور کہنیوں پر ملیں۔ یہ عمل آپ کام کرتے ہوئے باآسانی کر سکتی ہیں اور اس کا اثر چند دنوں میں نمایاں طور پر محسوس ہوتا ہے۔

ابٹن میں تھوڑا سا دودھ یا پانی ملا کر پیسٹ بنا لیں اسے اپنے بازوئوں اور کہنیوں پر اچھی طرح ملیں۔ خشک ہو جائے تو رگڑ کر اتار لیں۔ اس طریقہ سے بازوئوں کا کالا پن ختم ہو گا ۔

ہاتھوں اور پیروں کی سیاہ انگلیاں

اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگوں کے ہاتھ اور پیر تو صاف ہوتے ہیں لیکن ان کی انگلیاں اور جوڑ کالے اور کھردرے ہوتے ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ انگلیوں پر ہلکا ہلکا رُواں ہوتا ہے جو ان حصوں کو باقی ہاتھ کی بہ نسبت کالا ظاہر کرتا ہے۔ اس لئے سب سے پہلے تو وہ رواں صاف کریں اس کے علاوہ آدھا کپ دودھ، ایک بڑا چمچ عرق گلاب اور چند قطرے لیموں کا رس ملا کر ہاتھوں کی مالش کریں۔ چند دنوں میں سیاہ انگلیوں میں نمایاں فرق نظر آئے گا۔

کچا دودھ، ہلدی اور بیسن کو باہم ملا کر پیسٹ بنا لیں، اس پیسٹ کو اچھی طرح ہاتھوں اور پیروں پر ملیں، یہ عمل بھی سیاہی دور کرنے کیلئے مفید ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خوداعتماد خواتین کامیاب اور مضبوط معاشرے کی بنیاد

خوداعتمادی انسان کی شخصیت کا وہ جوہر ہے جو اسے زندگی کے ہر میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔

گرمیوں کی چھٹیاں کیسے گزاریں؟

گرمیوں کی چھٹیاں بچوں کے لیے ایک خوشگوار وقفہ ہوتی ہیں لیکن یہ وقت صرف آرام یا کھیل کود تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔

آج کا پکوان:بھرے ہوئے کریلے

اجزا:قیمہ: ایک کلو ،چکن یا بیف ، کریلے: ایک کلو، پیاز: دو عدد باریک کٹی ہوئی، ٹماٹر: چار عدد باریک کٹے ہوئے، ہری مرچیں: چار عدد باریک کٹی ہوئی،

سید ضمیر جعفری اُردوادب کا چھتناور درخت

آ ج27ویں برسی:اُنہوں نے مزاح سے زیادہ سنجیدہ ادب لکھا مگر شہرت مزاحیہ کلام کی وجہ سے حاصل ہوئی :یہ کہا جا سکتا ہے کہ ضمیر جعفری نے اپنی آخری سانس تک قوم کو ہنسایا بھی ، گرمایا بھی اور اسے سنجیدگی سے سوچنے پر بھی آمادہ کیا، وہ ادب میں ہمیشہ نیا پن لے کر آتے رہے‘ پرانے پنجابی پوٹھوہاری الفاظ کو موتیوں کی طرح جڑتے تھے اور لفظ کو معنی کو وقت کی قید سے آزاد کر دیتے تھے

پاکستانی ادب کا اختصاص

اردو ادب میں پاکستانیت کے اظہار کی بات کی جائے تو نظم میں ان اثرات کا ذکر ضروری ہو جاتا ہے۔

معرکہ حق: تاریخی فتح کا ایک سال مکمل

پاکستان نے چند گھنٹوں میں بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا:مئی 2025 کا وہ تاریخی معرکہ جس میں پاک فضائیہ نے دشمن کے نام نہاد ناقابل تسخیر طیاروں کو ملبے کا ڈھیر بنا کر فضائی برتری کا لوہا منوایا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جرات مندانہ قیادت نے پوری قوم کو’’ایک پیج‘‘پر لا کر دفاعِ وطن کو ناقابل تسخیر بنادیا۔ معرکہ حق کے بعد پاکستان خطے میں صرف ایک عسکری قوت ہی نہیں بلکہ امن و ثالثی کا وہ محور بن چکا ہے جس کی مرضی کے بغیر جنوبی ایشیا کا کوئی فیصلہ ممکن نہیں۔