چھوٹے بھائی کی ذہانت
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی دور دراز علاقے میں ایک نہایت امیر شخص رہتا تھا۔ اس کے پاس دنیا کی ہر نعمت موجود تھی لیکن وہ اولاد جیسی نعمت سے محروم تھا۔ دونوں میاں بیوی اولاد نہ ہونے کی وجہ سے بے حد پریشان رہتے تھے۔ ایک دن امیر آدمی انہی سوچوں میں گم اپنے گھر میں اداس بیٹھا تھا کہ ایک بڑھیا اس کے گھر آئی اور بولی، میں بخوبی جانتی ہوں کہ تم کیوں پریشان ہو لیکن اب تمہیں مزید اُداس رہنے کی ضرورت نہیں۔ میں تمہیں ایک اچھی اور ساتھ ہی ایک بُری خبر بھی سنانے آئی ہوں۔
امیر آدمی بولا ،جلدی سے بتائو کیا خبر ہے؟ بڑھیا بولی ایک شرط پر بتائوں گی وہ یہ کہ اچھی خبر کے بدلے میں تمہیں مجھے کچھ اشرفیاں دینی پڑیں گی۔ امیر آدمی نے فوراً منظور کر لیا اور اشرفیوں کی ایک ہتھیلی بڑھیا کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے بولا اب جلدی سے دونوں خبریں سنائو۔
بڑھیا بولی جلد ہی تمہارے ہاں تین بیٹے ہوں گے لیکن ان میں سے ایک لڑکا عام انسانوں سے نہایت چھوٹے قد کا ہوگا۔ امیر آدمی یہ سن کر خوش بھی ہوا اور قدرے فکر مند بھی لیکن اولاد ہونے کی خوشی میں اس نے ہر فکر بھلا کر بڑھیا کو مزید اشرفیاں دیں اور عزت کے ساتھ رخصت کیا۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ امیر آدمی کی بیوی نے تین بیٹوں کو جنم دیا، جن کی پیدائش کی خوشی میں اس نے ملک بھر میں مٹھائی تقسیم کروائی، اور خوب جشن منایا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تینوں لڑکے بڑے ہونے لگے لیکن امیر آدمی کے تیسرے لڑکے کا قد کسی بونے جتنا تھا۔ جوان ہونے کے باوجود اس کے قد میں کوئی اضافہ نہ ہوا، جس کی وجہ سے امیر آدمی اور اس کی بیوی اپنے باقی دونوں بیٹوں کی بہترین تربیت کرنے لگے۔ انہیں گھڑ سواری، تیر اندازی اور تلوار بازی کے تمام گُر سکھائے۔ چھوٹے قد والے بیٹے کو وہ یہ سوچ کر خاص توجہ نہ دیتے کہ یہ کونسا کل کو ہماری جائیداد اور خاندان کے دیگر امور سنبھال پائے گا۔ اس لئے بڑے دونوں بیٹوں کی تربیت زیادہ اہم ہے۔
ایک دن امیر آدمی کے بڑے دونوں لڑکے شکار پر جانے لگے تو چھوٹے قد کا لڑکا بھی ضد کرنے لگا کہ وہ بھی ان کے ساتھ شکار پر جائے گا۔ اس کے ماں، باپ نے بہت سمجھایا کہ تم ابھی چھوٹے ہو اور جنگل میں بہت سے جانور ہوں گے جنہیں دیکھ کر تم ڈر جائو گے لیکن چھوٹا لڑکا کسی طور نہ مانا اور اپنے بھائیوں کے ساتھ شکار پر جانے کیلئے بضد رہا۔
تھک ہار کر اس کے ماں، باپ نے ہار مان لی اور وہ تینوں شکار کرنے جنگل میں پہنچ گئے۔ دن بھر شکار کرنے کے دوران انہیں اندازہ تک نہ ہوا کہ کب رات کے سائے گہرے ہو گئے۔ اب انہیں فکر لاحق ہونے لگی کہ اندھیرے میں جنگل سے نکلنے کا راستہ کس طرح ڈھونڈا جائے۔ کوئی تدبیر سمجھ نہ آئی تو انہوں نے رات جنگل میں ہی بسر کرنے کا فیصلہ کیا اور رات گزارنے کیلئے کوئی مناسب جگہ تلاش کرنے لگے، جہاں وہ جنگلی جانوروں سے بھی محفوظ رہ سکیں۔
ابھی وہ تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ انہیں ایک گھر نظر آیا، بڑے لڑکے نے آگے بڑھ کر دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے ایک بڑھیا نکلی۔ بڑھیا نے ان سے رات کے اس پہر سنسان جنگل میں آنے کا سبب پوچھا تو انہوں نے ساری بات تفصیل سے بتا دی۔ بڑھیا نے انہیں اپنے گھر آنے کی اجازت دیتے ہوئے دل ہی دل میں ایک منصوبہ تیار کیا۔ بوڑھی عورت نے تینوں لڑکوں کیلئے نہایت عمدہ کھانا تیار کیا۔ خوب سیر ہو کر کھانے کے بعد نیند کا غلبہ ان پر طاری ہونے لگا، جلد ہی تینوں سونے کیلئے بستروں پر لیٹ گئے۔
بوڑھی عورت اسی انتظار میں تھی، دراصل وہ لڑکوں کے سونے کے بعد انہیں قتل کرکے ان کے پاس موجود باقی کی اشرفیاں بھی ہتھیانا چاہتی تھی۔ جب بڑھیا کو یقین ہو چکا کہ تینوں لڑکے گہری نیند سو چکے ہیں تو وہ آہستہ آہستہ اپنی چھری تیز کرنے لگی۔
چھوٹے قد کا لڑکا جسے ہمیشہ نیند دیر سے آتی تھی، اس نے جب چھری تیز ہونے کی آواز سنی تو کن اکھیوں سے اس جانب دیکھنے لگا جہاں سے آواز آ رہی تھی۔ بڑھیا کو چھری تیز کرتے دیکھ کر اسے یقین ہو گیا کہ ضرور دال میں کچھ کالا ہے۔ اس نے اپنے چھوٹے قد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑھیا سے نظر بچا کر اس کے راستے میں نہایت مضبوط لیکن باریک تار کھینچ دی اور اپنے بستر پر آکے لیٹ گیا۔ بڑھیا اگر کسی بھی قسم کی غلط نیت سے ان کے قریب آنے کی کوشش کرتی تو وہ ضرور اس تار سے ٹکرا کر منہ کے بل گرتی، اور ایسا ہی ہوا۔
چھری تیز کرنے کے بعد بڑھیا دبے قدموں جب تینوں بھائیوں کی چارپائیوں کے قریب آنے لگی تو اچانک تار سے لڑ کھڑا کر منہ کے بل گری اور چھری اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔
شور کی آواز سن کر تینوں بھائی اٹھ بیٹھے اور نیچے گری چھری دیکھ کر انہیں کچھ کچھ ماجرا سمجھ آنے لگا۔ تب چھوٹے قد کے لڑکے نے اپنے بھائیوں کو ساری بات بتا دی۔ بڑے بھائیوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو اس کی عقلمندی پر شاباش دی اور سزا کے طور پر بڑھیا کو دی ہوئی اشرفیاں اس سے چھین کر علی الصبح ہی گھر کو لوٹ آئے۔
واپس آکر انہوں نے اپنے ماں، باپ کو بھی ساری کہانی سنائی تو وہ بھی اپنے چھوٹے بیٹے کی بہادری اور عقلمندی پر بے حد خوش ہوئے۔ اس دن کے بعد انہوں نے اپنے چھوٹے بیٹے کو بھی تیر اندازی اور دوسرے گُر سکھانے کا فیصلہ کر لیا، کیونکہ وہ جان گئے تھے کہ خدا کی بنائی چھوٹی، بڑی کوئی بھی چیز بیکار نہیں ہے۔