ناصر زیدی ایک ہمہ گیر شخصیت
کئی برس پہلے 2000ء میں صوفی تبسم اکیڈمی نے صوفی تبسم کی برسی کے موقع پر الحمرا آرٹس کونسل میں کل پاکستان مشاعرے کا اہتمام کیا تھا، جس میں ملک کے نامور شعراء کو مدعو کیا گیا تھا اور صدارت کیلئے ناصر زیدی کو دعوت نامہ راولپنڈی بھیجا گیا تھا۔
اس کی خاص وجہ یہ بھی تھی کہ ان کا صوفی تبسم کے ساتھ بہت پرانا ادبی تعلق تھا اور وہ اکثر انہیں گھر پر ملنے آیا کرتے تھے۔ ناصر زیدی صاحب کے ساتھ اس مشاعرے سے پہلے تک میری کوئی ملاقات نہ تھی۔ ناصر زیدی اس مشاعرے کیلئے خاص طور پر راولپنڈی سے لاہور تشریف لائے جو ہمارے لئے بڑے اعزاز کی بات تھی۔ خوش قسمتی سے مشاعرے کے بعد ان سے باقاعدہ ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جو مرتے دم تک قائم رہا۔
ناصر زیدی صاحب نے کچھ عرصہ بعد لاہور میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ وہ اپنے بہن بھائیوں کے گھر رہتے۔ پھر کچھ عرصہ پہلے انہوں نے شوکت خانم ہسپتال کے آس پاس گھر کرایہ پر لے لیا تھا۔ جہاں وہ چند سال اپنے بیٹے عدیل زیدی کے ساتھ بھی رہے مگر اس کی ٹرانسفر ہونے کے بعد وہ پھر اپنے گھر میں تنہائی میں وقت گزارنے لگے مگر انہوں نے اپنے گھر کو کتابوں سے سجا لیا تھا۔ اس سے ان کے گھر کا یہ علمی ادبی ماحول انہیں کچھ نہ کچھ لکھنے پر اکساتا رہتا۔ وہ اب ’’ادب لطیف‘‘ کے مدیر بھی تھے ساتھ ساتھ وہ ’’بادِشمال‘‘ کالم بھی لکھ رہے تھے۔ وہ ان کاموں کے ساتھ مختلف کتابوں کو شائع کرنے کی تیاری میں بھی لگے رہتے۔ انہوں نے کئی مایہ ناز ادب لطیف نمبر نکالے جن میں غالب نمبر انتہائی مقبول ہوا تھا۔
ناصر زیدی کو ہمیشہ سفید لباس میں دیکھا یہ ان کا پسندیدہ لباس تھا۔ سفید لمبے بالوں کے ساتھ شلوار قمیض میں وہ بہت خوبصورت اور نفیس ادبی شخصیت لگتے تھے۔ وہ حقیقت میں نفاست کا پیکر تھے۔ ناصر زیدی ضیاء الحق کے دور میں صدر پاکستان کے سپیچ رائٹر بھی رہے اور وہ یہ بات بڑے فخر سے بتاتے تھے۔ ناصر زیدی محبت کرنے والی شخصیت تھے۔ شاعر تو ایسے بھی حساس ہوتا ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ حسن پرست بھی تھے جب بھی کسی حسینہ کو دیکھتے تو وہ ایک شعر میرے سامنے ضرور پڑھتے:
مگر اے حسینۂ ناز نیں
ہمیں تم سے عشق نہیں نہیں
شاعری میں اصلاح دینے کی انہیں خوب مہارت تھی، شعر کے اوزان اور شعر کو غلط پڑھتے ہوئے فوراً اصلاح کرتے تھے۔ میری تین چار غزلوں کی اصلاح ناصر زیدی نے کی۔ ہمیشہ کہتے تھے لکھا کرو جو لکھو گے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ وہ بچوں سے بہت پیار کرتے تھے میری چھوٹی بیٹی انوشے سے ان کی بہت دوستی تھی اور لڑائی بھی۔ ناصر زیدی نے اس پر ایک نظر بھی تحریر کی تھی ’’نٹ کھٹ انوشے‘‘ اس کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
انوشے کی خوبی بیاں کیا کروں؟
میں حیرت سے اس کو نہ تکتا رہوں؟
یہ لڑکی ہے آفت کی پڑیا ہے یہ
قیامت ہے چینی کی گڑیا ہے یہ
ذہانت ہے ختم اس کی ہی ذات میں
یہ اُلو بناتی ہے ہر بات میں
یہ اماں کی ابا کی یہ جل پری!
کوئی اس کی کیسے کرے ہمسری؟
ہیں ٹوٹ اس کے ابا ہٹوٹی ہے یہ
بڑے کام اس کے ہیں چھوٹی ہے یہ
یہ آپا ہے ظالم سی آپا ہے یہ
ہے نٹ کھٹ مکمل’’سیاپا‘‘ ہے یہ
یہ نظم مئی 2006ء میں تعلیم و تربیت بچوں کے رسالے میں بھی شائع ہو چکی ہے۔ انہوں نے اسے آپا اس لئے کہا کیونکہ انوشے ٹوٹ بٹوٹ فیسٹیول میں ہمیشہ ٹوٹ بٹوٹ کی آپا کا کردار کرتی تھی۔
ایک دن اچانک ناصر زیدی کے ہمسائے میں رہائش پذیر ان کے شاگرد پروفیسر آصف صاحب کا فون آیا کہ ناصر زیدی کافی بیمار ہیں اور جناح ہسپتال میں داخل ہیں۔ یہ سنتے ہی مجھے بہت فکر لاحق ہوئی اسی شام میں اپنی اہلیہ کے ساتھ جناح ہسپتال پہنچا وہاں آئی سی یو میں ناصر زیدی اپنے بیڈ پر لیٹے بہت تکلیف میں لگ رہے تھے بڑی ہمت کرکے بولے آ گئے ہو اتنی دیر کر دی۔ ہم تو کل سے ہسپتال میں ہیں۔ میں نے بتایا کہ ہمیں صبح اطلاع ملی اور فوراً آپ کی عیادت کو آ گئے۔ اس وقت ان کی طبیعت پہلے سے بہتر ہو چکی تھی ہم سے کافی دیر خوشی سے باتیں کرتے رہے پھر کہنے لگے ہمارے ساتھ تصویر بنائو ہم نے ان کے ساتھ تصویریں بھی بنائیں۔ ان کا بڑا بیٹا علی زیدی بھی دبئی سے آ گیا تھا اور وہیں موجود بھی تھا۔ دو دن بعد وہ گھر شفٹ ہو گئے تھے۔
یکم جولائی کو ان کا فون آیا اور انہوں نے کسی بات پر میری بیگم کو خوب ڈانٹا وہ ان کی باتیں سن کر بس مسکراتی رہیں اور آخر انہوں نے یہ الفاظ کہہ کر فون بند کر دیا کہ آپ کو ہماری باتیں سمجھ میں نہیں آتیں۔ میں نے بیگم سے پوچھا کیا ہوا جو وہ غصے میں تھے اس نے جواب دیا کچھ نہیں۔ کچھ دن بعد ان کا غصہ خود ہی ٹھنڈا ہو جائے گا۔3جولائی کی صبح تقریباً 6بجے ان کے بیٹے عدیل ناصر کا فون آیا وہ روتے ہوئے کہنے لگا ’’بابا چلے گئے‘‘، ’’پندرہ منٹ پہلے بابا باتیں کر رہے تھے اور باتیں کرتے کرتے ہی انتقال کر گئے ہیں‘‘۔ اس طرح 3جولائی 2020ء کو ناصر زیدی کی زندگی کا سفر تمام ہوا۔
لوگ کہتے ہیں مرگ ِ ناصر پر
اک دیا بجھ گیا مزاروں کا
آغا ناصر ادیب و شاعر ہیں،وہ صوفی تبسم اکیڈمی کے ساتھ وابستہ ہیں