قائد اعظم ؒ شعراء کی نظر میں
بیادِقائداعظمؒ (حفیظ تائب) سراپا عزم بن جائو بیادِ قائداعظمؒدلوں میں آگ سلگائو بیادِ قائداعظمؒوفا کے جام چھلکائو بہ نامِ رہبرِ ملت
عمل کے زمزمے گائو بیادِ قائداعظمؒ
بھرو کچھ خوش نما رنگ اور بھی تصویرِ ہستی میں
نقوشِ زیست چمکائو بیادِ قائداعظمؒ
جو صحنِ گلستاں میں نکہتِ اخلاص پھیلائیں
وہ غنچے پھر سے چٹکائو بیادِ قائداعظمؒ
بکھیرو حریت کے نغمہ ہاے آتشیں ہر سُو
ہر اک محفل کو گرمائو بیادِ قائداعظمؒ
جو آغازِ سفر کرتے ہوئے ہر اک نے باندھا تھا
وہی پیمان دہرائو بیادِ قائداعظمؒ
فسردہ قوم کے سینے میں پھر سے بجلیاں بھر دو
دلِ ملت کو دھڑکائو بیادِ قائداعظمؒ
٭٭٭٭
قائد اعظمؒ
(عبدالحمید صدیقی نظر لکھنوی)
نئی منزل کے جب ابھرے نشاں تھے
وہی بانگِ رحیلِ کارواں تھے
چراغِ راہ تھے منزل نشاں تھے
امیرِ مسلمِ ہندوستاں تھے
وہ ہندی میکدے میں اک اذاں تھے
نوائے خوش سروشِ دلستاں تھے
دماغ و دل تھے وہ سب کی زباں تھے
وہ پوری قوم کی روحِ رواں تھے
ضعیفی تھی مگر بوڑھے کہاں تھے
اولو العزمی کے پہلو سے جواں تھے
بظاہر گو نحیف و ناتواں تھے
بباطن وہ مگر کوہِ گراں تھے
تنِ مسلم میں وہ قلبِ تپاں تھے
رگِ ملت میں وہ خونِ رواں تھے
سوا افروختہ داغِ نہاں تھے
سکوتِ شب میں وہ سوتے کہاں تھے
دمِ تقریر یوں معجز بیاں تھے
کہ سب انگشت حیرت در دہاں تھے
خموشی بھی سخن پرور تھی ان کی
کبھی جب بولتے تو دْر فشاں تھے
نگاہوں سے ٹپکتی تھی ذہانت
متانت کے وہ اک کوہِ گراں تھے
ستائش کیجئے جتنی بھی کم ہے
وہ اپنے عہد کی اک داستاں تھے
نظر رحمت کی ہو ان پر خدایا
وہ پاکستان کے بابا تھے جاں تھے
٭٭٭٭٭
ملت کا پاسباں ہے
میاں بشیر احمد
ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناحؒ
ملت ہے جسم، جاں ہے محمد علی جناحؒ
صد شکر پھر ہے گرمِ سفر اپنا کارواں
اور میرِ کارواں ہے، محمد علی جناحؒ
بیدار مغز، ناظم اسلامیانِ ہند
ہے کون؟ بے گْماں ہے، محمد علی جناحؒ
تصویرِ عزم، جانِ وفا، روحِ حْریت
ہے کون؟ بے گماں ہے محمد علی جناحؒ
رکھتا ہے دل میں تاب و تواں نو کروڑ کی
کہنے کو ناتواں ہے، محمد علی جناحؒ
رگ رگ میں اِس کی ولولہ ہے حْبِ قوم کا
پیری میں بھی جواں ہے، محمد علی جناحؒ
لگتا ہے ٹھیک جا کے نشانے پہ جس کا تیر
ایسی کڑی کماں ہے محمد علی جناحؒ
ملت ہوئی ہے زندہ پھر اس کی پکار سے
تقدیر کی اذاں ہے محمد علی جناحؒ
غیروں کے دل بھی سینے کے اندر دہل گئے
مظلْوم کی فْغاں ہے محمد علی جناحؒ
اے قوم! اپنے قائد اعظمؒ کی قدر کر
اِسلام کا نشاں ہے محمد علی جناحؒ
عمر دراز پائے، مسلماں کی ہے دعا
ملت کا ترجماں ہے محمد علی جناحؒ
٭٭٭٭
قائد اعظمؒ: محسن ملت
(محسن فارانی)
قائداعظمؒ، ہمارے محسن والا تبار
ان سے قائد کا ہمیں تھا مدتوں سے انتظار
جانب عرش بریں اُٹھتی نگاہیں بار بار
دل حزیں اور جامۂ عقل و خِرد تھا تار تار
تھی غلامی اور ہر فرد و بشر رنجور تھا
ہر مسلماں بے کس و بے بس تھا اور مجبور تھا
تھا یہاں برطانیہ کی حکمرانی کا چلن!
اور ہندو کا ہمیں گھیرے ہوئے تھا مکر و فن
چھیدتی تھی رُوح کو دُہری غلامی کی چبھن
نہ کسی رہبر میں تھی سچی قیادت کی لگن
کشتی ملت کا کھیون ہار نہ پتوار تھی
قوم رہبر کو ترستی تھی، بڑی لاچار تھی
تھی صدی اُنیسویں اور سن چھہتّر کا عمل
رحمت حق جوش میں آئی، گئی قسمت بدل
پونجا جناح کو دیا بیٹا خدا نے برمحل
اُس کا قانون و سیاست میں بجا ایسا طبل
اک طرف انگریز شاطر ہو رہا تھا شرمسار
اور برہمن پیستا تھا دانت اپنے بار بار
وہ محمد علی جینا قوم کے رہبر ہوئے
ہو گئے جب منتخب وہ صدر مسلم لیگ کے
قائداعظمؒ ہوئے، اندوہ کے بادل چھٹے
قوم نے لُوٹے بہت ان کی قیادت کے مزے
ان کی کوشش سے ہمیں آزاد پاکستان ملا
قوم نے قربانیوں کا خوب پایا ہے صلا
قائداعظمؒ! تری محنت پہ ہم ممنون ہیں
تیرے پاکستان میں آزاد ہیں، مصٔون ہیں
ہر زباں پر تیری تعریفوں کے سو مضمون ہیں
دے نہیں سکتے صلہ تیری حسیں خدمات کا
تیرے فرق ناز پہ سہرا عُلُوِّ ذات کا
تیرے ارشادات کی ضو سرخی خبر و نظر
تیری نسبت سے ہوئے ہم اس جہاں میں معتبر
’’آسماں تیری لحد پر شبنم فشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے‘‘