رہنمائے گھر داری: بال بڑھانے والا شیمپو خود بنائیں

تحریر : ڈاکٹر بلقیس


موسم بدلتے ہی اکثر خواتین کے بال خشک اور بے جان ہو کر گرنے لگتے ہیں ، اس کے لئے وہ طرح طرح کے شیمپو زوغیرہ کا استعمال کرتی ہیں ۔بعض اوقات فائدہ ہونے کے بجائے ان کے بال مزید کمزور ہوکر گرنے لگتے ہیں۔

آج ہم آپ کو بالوں کو لمبا اور گھنا کرنے کا ایسا تیز ترین اور دیرپا مفید گھریلو شیمپو بنانے کا طریقہ بتائیں گے جس کے استعمال سے آپ کے بال لمبے گھنے اور دلکش ہوجائیں گے۔ شیمپو بنانے کے لیے درج ذیل اجزاء درکا ر ہوں گے۔

کچا ناریل۔۔آدھ ناریل

لیکویڈ بے بی سوپ /بے بی شیمپو۔۔۔دو چائے کے چمچ

گلیسرین۔۔۔ایک چائے کا چمچ

بادام کا تیل۔۔۔آدھا چائے کا چمچ

یہ شیمپو تین مرحلوں میں تیار ہوگا

پہلا مرحلہ : (1) گرائنڈر میں ناریل اور تھوڑا ساپانی یا پھر کچا دودھ شامل کر کے گرینڈ کر لیں۔(2) گرینڈ کیے ہوئے پیسٹ کو ململ کے کپڑے میں ڈال کر ناریل کا دودھ نچوڑ لیں۔

دوسرا مرحلہ : ایک پیالے میں دو چائے کے چمچ ناریل کا دودھ شامل کریں۔ باقی تمام اجزاء بھی اس پیالے میں شامل کرکے اچھی مکس کریں۔

تیسرا مرحلہ : ایک ائیرٹائٹ بوتل میں اسے ڈال کر اچھی طرح ہلائیں تاکہ تمام اجزاء مزید اچھی طرح حل ہوجائیں۔

لگانے کا طریقہ :جب بال دھونے ہوں تو انگلیوں کے پوروں کی مدد سے بالو ں میں ایک سے دومنٹ تک مساج کریں۔اس کے بعد بال دھولیں۔

نوٹ :(1) ہفتے میں صرف تین بار استعمال کریں۔

(2) آپ زیادہ بنانا چاہیں تو اسی حساب سے اجزاء کی مقدار بڑھالیں۔(3) ایک مہینے تک استعمال کرکے دیکھیں بہترین نتائج آپ خود دیکھیں گے۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

ڈیجیٹل سیفٹی اورپرائیویسی ۔۔۔ آن لائن اپنا تحفظ کیسے کریں؟

ڈیجیٹل دور نے ہماری زندگیوں کو بے حد آسان بنا دیا ہے۔ آج موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نہ صرف رابطے کا ذریعہ ہیں بلکہ تعلیم، کاروبار، معلومات اور اظہارِ رائے کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

گرمیوں میں جلد اور بالوں کی تازگی کیسے برقرار رکھیں؟

گرمیوں کا موسم اپنے ساتھ تیز دھوپ، پسینہ، گرد و غبار اور حبس لے کر آتا ہے۔ یہ تمام عوامل نہ صرف ہماری جلد بلکہ بالوں اور جسمانی تازگی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

آج کا پکوان:حلیم

اجزا:گائے کا گوشت (بغیر ہڈی کے): 1 کلو،گندم: 1 کپ،مونگ کی دال: آدھا کپ،چنے کی دال: چوتھائی کپ، مسور کی دال: چوتھائی کپ،پیاز: 2 عدد (درمیانے سائز کے)

چراغ حسن حسرت :اردو کے جید ادیب اور صحافی

71ویں برسی:انہوں نے اپنے دل نشیں اسلوب نگارش سے صحافتی تحریروں کو بھی ادبی حسن دیا: وہ ایک بلند مرتبہ شاعر بھی تھے ۔ ان کے کئی شعر ضرب المثل کی طرح زبان زد خاص و عام ہیں‘ ان کے متعدد علمی و ادبی کام اور تراجم بھی ایک امتیازی شان رکھتے ہیں:ان کی صحافتی تحریروں اور کاوشوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘ان تحریروں میں ایک شان ہے اوریہ ادب کا مستقل حصہ ہیں

فکر ِ فیض و اقبالؒ میں مطابقت کے گوشے

اقبال کوفیض کا پیش رو کہا جاسکتا ہے مگر فیض نے اقبال کی تقلید صرف برائے شعر گفتن نہ کی بلکہ کئی اشعار ایسے بھی سامنے آتے ہیں جن کی توسیع اپنے عہد کے تناظر میں کر کے اقبال کے ساتھ اپنے تعلق کا عملی اظہار بھی کیا ہے۔اقبال کی نظم ’’تصویرِدرد ‘‘کا ایک شعر دیکھیے :

فیفا ورلڈ کپ 2026:کھلاڑیوں کی جاندار پرفارمنس ،شاندار مقابلے

48 ٹیموں کو 12گروپوں میں تقسیم کیا گیا،104 میچ کھیلے جائیں گے