ٹھنڈے موسم میں پہنیں نرم گرم ویلوٹ کے ڈریسز

تحریر : زینب عرفان


موسموں کی شدتوں کو مد نظر رکھ کر ملبوسات پہنے جاتے ہیں۔ جہاں غذائوں کے انتخاب میں احتیاط برتی جاتی ہے، وہیں کپڑے کی ساخت، بنائی اور میٹریل کو بھی جانچنا ضروری ہوتا ہے۔ موسم ٹھنڈا ہوتے ہی ویلوٹ کے کپڑوں کا سب سے زیادہ انتخاب کیا جاتا ہے، لیکن بہت سے لوگوں کو آج بھی اس بات کی سمجھ نہیں کہ ویلوٹ کے کپڑے کس ڈیزائن میں پہننے چاہئیں۔

موسم سرما کے ملبوسات میں ویلوٹ کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔ ویلوٹ کے ملبوسات خوبصورتی اور نزاکت سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ سردی سے تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں۔ گہرے رنگوں پر نفیس کڑھائی اور آنچل اور دامن پر لگے نازک اسٹونز ویلوٹ ملبوسات کو بارونق اور جاذب نظر بنا دیتے ہیں۔ اگر آپ بھی جدید فیشن کے مطابق ویلوٹ کا لباس تیار کروانا چاہتی ہیں تو اپنی شخصیت کے مطابق رنگ کا انتخاب کریں۔ ویلوٹ پر گہرے رنگ زیادہ خوبصورت لگتے ہیں لہٰذا آپ سیاہ ، سبز یا وائلٹ رنگ سے منفرد اور اچھوتا احساس حاصل کر سکتی ہیں۔

موسم سرما خاص احتیاط چاہتا ہے۔ زیادہ تر شادی بیاہ بھی اس موسم میں ہونا قرار پاتے  ہیں۔ اہل پنجاب میں اب بھی جہیز اور بری کے جوڑوں کی تیاری کرتے وقت دلہن کیلئے کم از کم ایک جوڑا شنیل یا مخمل کا بھاری کامدار ضرور بنوایا جاتا ہے۔ کوشش کی جاتی ہے کہ اعلیٰ ترین مخمل کا انتخاب کر کے گوٹے کناری، تلے،   دبکے یا      

ایمبرائیڈری کا شاندار شاہکار جیسا لباس جسے شاہانہ پیرہن کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ضرور بنوایا جائے۔

ملک کے بالائی حصوں میں خوبٹھنڈ پڑتی ہے اس لئے وہاں سردیوں کے پہناوئوں میں شالیں، سوئیٹر، ریپس، کوٹس، فل بوٹس، اونی ملبوسات میں دستانے اور موزوں کی وسیع تر ورائٹی دل لبھا دیتی ہے۔اصل میں سرما کا لطف تو پاکستان کے بالائی علاقوں میں اٹھایا جاتا ہے۔ بہرحال دل خوش کرنا ہم بھی اپنا حق تصور کرتے ہوئے یہاں کے ڈیزائن کردہ جدید اور سٹائلش انداز کے پیرہنوں کا ذکر کرتے ہیں۔

مختلف برانڈز ہر موسم میں جدت اور موسم کے تقاضوں کے تحت لباس متعارف کراتے ہیں۔ کچھ برانڈز نے پاکستان کے اعلیٰ میٹریل سے مخمل کا چنائو کیا۔ اس نرم و گداز میٹریل پر دبکے اور ریشم کے دھاگوں سے ایمبرائیڈری کرائی اور لباس کے جدید رجحانات کے مطابق جمپ سوئس، جیکٹس، شلوار قمیض، ٹرائوزرز متعارف کرائے جسے خواتین کی بڑی تعداد نے سراہا ہے۔

اگر آپ اپنے ویلوٹ کے سوٹ پر مکیش یا زردوزی کا کام کروانا چاہتی ہوں تو بہت ہلکا سا ، نازک اور نفیس کام کروائیں کیونکہ بھاری بھرکم لباس شخصیت کو بوجھل کر دیتا ہے ۔ شرٹ فیشن کے مطابق درمیانے سائز کی سلوائیں۔ تقریبات میں شرکت کیلئے آپ گھیر والی فراک یا پیپلم سٹائل بھی اپنا سکتی ہیں اور اگر آپ کے پاس ویلوٹ کا لباس نہیں ہے تو آپ شیفون، جارجٹ یا نیٹ کے ساتھ ویلوٹ شال کے ذریعے اپنی تقریبات کو خوبصورت بنا سکتی ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

مؤثر سفارتکاری اور پاکستان کا عالمی وقار

عالمی سیاست کے موجودہ تناظر میں پاکستان نے ایک ایسا کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے جس کی نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں توقع کم ہی کی جا رہی تھی۔

قومی سیاست پر خلیجی جنگ کے اثرات معاشی اور سیاسی چیلنجز

خلیج فارس کے علاقے میں قریب ایک ماہ سے جنگ جاری ہے اور ملکی سیاست پر بھی اس صورتحال کا غلبہ ہے اورہر سطح پر مذکورہ جنگ اور اس کے اثرات زیر بحث ہیں۔

بحران سنگین،رویے غیر سنجیدہ

ایران امریکہ جنگ کے اثرات سے پاکستان بھی نہ بچ سکا۔ حکومت نے معاشی اثرات سے عوام کو بچانے کے لیے متعدد اقدامات کا فیصلہ کیا، تعلیمی اداروں اوردفاتر وغیرہ کے لیے نئے اوقات کار متعین کیے گئے، گھر سے کام کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی، بازاروں کو جلد بند کرنے اور بجلی کی بچت کی منصوبہ بندی بھی کی گئی۔

کابینہ میں توسیع،ضروری یا مجبوری؟

خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع کا معاملہ اب پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا معاملہ نظرآتا ہے جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کابینہ میں توسیع کرنی ہے، لیکن یہ اتنا بھی سادہ نہیں۔

بلوچستان،بدامنی کے سائے اور حکومتی دعوے

بلوچستان میں حالیہ دنوں پنجگور، کوئٹہ، مستونگ، نوشکی اور دیگر علاقوں میں خونریز واقعات نے نہ صرف عوامی زندگی کو مفلوج کر دیا بلکہ حکومتی عملداری پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

آزاد کشمیر انتخابی تیاریاں اور حکومتی ترجیحات

آزاد جموں و کشمیر میں جہاں الیکشن کمیشن نے انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے سرگرمیاں تیز کر دی ہیں وہاں حکومت اپنے وزرا ، معاونین اور مشیروں کو سرکاری خزانے سے نوازنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہی۔