استغفار:گناہوں کا ترتاق

تحریر : مولانا محمد الیاس گھمن


اللہ تعالیٰ ہمیں گناہوں سے پاک زندگی عطا فرمائے اور جو گناہ ہو گئے ہیں یا آئندہ ہوں گے ان پر اِستغفار کی توفیق عطا فرمائے۔ اِستغفار کا معنی یہ ہے کہ بندہ اپنے گناہوں کی اللہ تعالیٰ سے ندامت کے ساتھ معافی مانگے۔

اِستغفار کا حکم اور فوائد

 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک مقام پر اِستغفار کا حکم دیا ہے اور اس کے اہم اہم فوائد بھی بتلائے ہیں، مفہوم آیت: ’’پھر میں نے (ان سے)کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو، یقیناً وہ بہت زیادہ معافی دینے والا ہے(گناہوں سے معافی مانگنے پر وہ اتنا خوش ہوگا کہ)تم پرآسمان سے (فائدے والی)خوب بارشیں برسائے گا اور تمہارے اموال و اولاد میں(برکت والی) ترقی دے گا، تمہارے لیے (انواع و اقسام کے) باغات پیدا فرما دے گا اور تمہارے فائدے کیلئے نہریں بہا دے گا (سورۃ النوح: 10 تا 12)

رجوع الی اللہ کا حکم

حضرت ابو ذر ؓکہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ حدیث قدسی ارشاد فرماتے ہیں، جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو یوں خطاب فرماتے ہیں: ’’اے میرے بندو!میںنے اپنے اوپر ظلم کو حرام قرار دیا ہے(یعنی میں ظلم سے پاک ہوں) جب میں نے اپنے اوپر حرام قرار دیا ہے تو اسی طرح تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام قرار دیا ہے اس لیے آپس میں ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ اے میرے بندو!جس کو میں(اپنی توفیق سے)ہدایت عطا فرما دوں اس کے علاوہ تم سب گمراہ ہو۔ اس لیے تم سب مجھ سے ہدایت(کی توفیق)مانگو۔ میں ہی تمہیں ہدایت عطا کروں گا۔ اے میرے بندو!جس کو میں (اپنے فضل سے ) روزی دوں اس کے علاوہ تم سب بھوکے ہو۔ اس لیے تم سب مجھ سے(میرے فضل کو طلب کرتے ہوئے) روزی کا سوال کرو میں ہی تمہیں روزی دوں گا۔ اے میرے بندو!جس کو میں (اپنے کرم سے)لباس پہناؤں اس کے علاوہ سب ننگے ہو۔ اس لیے تم سب مجھ سے (میرے کرم کی امید رکھتے ہوئے)لباس مانگو میں ہی تمہیں لباس دوں گا۔ اے میرے بندو! تم دن رات گناہ کرتے ہواور میں تمہارے گناہ معاف کرتا ہوں اس لیے مجھ ہی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو  میں ہی تمہارے گناہ معاف کروں گا۔ اے میرے بندو! تم مجھے نقصان نہیں پہنچا سکتے اور نہ ہی مجھے نفع دے سکتے (یعنی تمہارے گناہوں سے مجھے نقصان نہیں اور تمہاری نیکیوں سے مجھے فائدہ نہیں بلکہ گناہ اور نیکی کا نقصان اور نفع صرف اور صرف تمہارے لیے ہے)،اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے جن و انس سب کے سب مل کر ایک نہایت پرہیز گار دل کی طرح بن جاؤ تو اس سے میری مملکت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ اے میرے بندو!اگر تمہارے اگلے پچھلے جن و انس سب کے سب مل کر ایک نہایت بدکار دل کی طرح بن جاؤ تب بھی میری مملکت میں کسی ادنی سی چیز کو نقصان نہیں پہنچے گا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے جن وانس سب کے سب مل کر کسی میدان میں کھڑے ہو جائیں اور پھر مجھ سے(اپنی اپنی زبان میں اپنی اپنی ساری ضروریات) مانگیں اور میں ہر ایک کی اس کی تمام ضروریات دوں تب بھی میرے خزانوں میں اتنی بھی کمی نہیں ہوگی جتنی کہ سمندر میں سوئی گرنے سے پانی کے کم ہونے کی ہوتی ہے۔ اے میرے بندو! یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ میں تمہارے اعمال کو یاد رکھتا ہوں اور انہیں(تمہارے حق میں اتمام حجت کے طور پر)لکھوا لیتا ہوں۔ میں تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا اس لیے جو شخص بھلائی پا لے اسے چاہیے کہ وہ مجھ اللہ کی حمد و شکر ادا کرے اور جس شخص کو بھلائی کے بجائے برائی ملے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے نفس کو ملامت کرے کیونکہ (بعض دفعہ)یہ اس کے گناہ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 6664)

گناہوں کا زنگ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا: جب کوئی مومن بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر اس گناہ کی وجہ سے ایک سیاہ نقطہ لگ جاتاہے اگر وہ اس گناہ سے توبہ و استغفار کر لیتا ہے تو اس کے دل سے سیاہ نقطہ مٹا دیا جاتا ہے اور اگر وہ توبہ کے بجائے مزید گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہ نقطہ مزید بڑھتا رہتاہے۔ یہاں تک کہ اس کا سارا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔ یہی وہ زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے: ’’ہرگز ایسا نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ ہے ان چیزوں کا جو وہ برے اعمال کرتے ہیں‘‘ (جامع الترمذی:  3334)

 

اگر گناہ آسمان کی بلندیوں 

تک بھی پہنچ جائیں! 

حضرت انس بن مالک ؓ کہتے ہیں،میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:اے آدم کی اولاد! جب تک تو مجھ سے امید رکھ کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتا رہے گا میں تیرے گناہوں کو بخشتا رہوں گا اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں(کہ اتنا بڑا گناہ کیوں بخش رہا ہوں)، اے آدم کی اولاد! اگر (بالفرض) تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں تک بھی پہنچ جائیں پھر بھی تو مجھ سے ان کی معافی مانگے تو میں معاف کر دوں گا اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں(کہ اتنا بڑا گناہ کیوں بخش رہا ہوں) اے آدم کی اولاد!اگر تو مجھ سے اس حالت میں ملے کہ تیرے نامہ اعمال میں اتنے گناہ ہوں جن سے زمین بھر جاتی ہے تو تیری توبہ و استغفار کی وجہ سے میں بھی تجھے اتنا ثواب عطا کروں گا کہ جن سے زمین بھر جائے گی بشرطیکہ تو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو‘‘ (جامع الترمذی، رقم الحدیث: 3540)

تنگی اور غم سے نجات اور رزق کا ملنا 

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جو شخص استغفار کی عادت بنا لے اللہ تعالیٰ اسے ہر تنگی و پریشانی سے نکلنے کا راستہ دے دیتے ہیں اور ہر رنج و غم سے نجات عطا فرما دیتے ہیں۔ اس کو ایسی ایسی جگہوں سے(حلال اور وسعت والا) رزق دیتے ہیں، جہاں سے اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا ( ابن ماجہ: 3819)۔

بنی اسرائیل کے ایک قاتل کی توبہ

حضرت ابوسعید خدری ؓسے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ایک واقعہ سناتے ہوئے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا اور پھر  علماء بنی اسرائیل سے یہ پوچھنے کیلئے چل پڑا کہ اتنے بڑے گناہ یا گناہگار کیلئے توبہ کے قبول ہونے کوئی صورت ہے؟ ایک عابد و زاہد شخص نے اس کو جواب دیا کہ نہیں توبہ کے قبول ہونے کی کوئی صورت نہیں۔ اس شخص نے اس عابد و زاہد کو بھی مار ڈالا۔ پھر باقی علماء سے پوچھنے کیلئے چل نکلا، اس سے ایک شخص نے کہا کہ تم فلاں بستی میں جاؤ وہ نیک لوگوں کی بستی ہے اور وہاں فلاں عالم رہتے ہیں، ان سے مسئلہ پوچھو وہ تمہیں توبہ کے قبول ہونے کے بارے میں ٹھیک فتویٰ دے گا۔ 

وہ شخص اس بستی کی طرف چل پڑا۔ ابھی آدھے راستے پر ہی پہنچ پایا تھا کہ اچانک ملک الموت آ پہنچے۔ اس کو جب مرنے کی علامات محسوس ہوئیں تو اس نے اپنا سینہ اسی بستی کی طرف جھکا کر گر پڑا۔ چنانچہ اس کی روح نکالنے کیلئے رحمت اور عذاب کے فرشتے ملک الموت سے ایک طرح کا جھگڑا کرنے لگے۔ اسی دوران اللہ تعالیٰ نے اس بستی(جس کی طرف توبہ کرنے کیلئے جا رہا تھا )کو حکم دیا کہ وہ اس شخص کے قریب ہو جائے اور اس بستی(جہاں سے قتل والا گناہ کر کے آ رہا تھا )کو حکم دیا کہ وہ اس سے دور ہو جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں سے فرمایا کہ کہ تم دونوں بستیوں کے درمیان پیمائش کرو اگروہ  اس بستی کے قریب جس کی طرف وہ توبہ کرنے کیلئے جا رہا تھا تو اسے رحمت کے فرشتوں کے حوالے کیا جائے اور اگر اس بستی کے قریب ہو جہاں سے قتل کر کے آ رہا تھا تو عذاب کے فرشتوں کے حوالے کیا جائے۔ فرشتوں نے جب پیمائش کی تو وہ اس بستی کے قریب تھا جس کی طرف توبہ کرنے کیلئے جا رہا تھا وہ  بنسبت دوسری بستی کے ایک بالشت قریب تھا چنانچہ حق تعالیٰ شانہ نے اس کی مغفرت فرما دی (صحیح بخاری: 3470)۔

قابل مبارک باد وہ شخص

حضرت عبداللہ بن بسر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: وہ شخص قابل مبارک باد ہے جس کے نامہ اعمال میں استغفار زیادہ ہو گا ( ابن ماجہ: 3818)

مرحومین کیلئے استغفار کا فائدہ

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندے کا جنت میں ایک درجہ بلند فرماتے ہیں تو وہ پوچھتا ہے کہ اے اللہ!مجھے یہ درجہ کیسے نصیب ہوا؟(حالانکہ میں نے تو ایسی نیکی نہیں کی) اللہ تعالیٰ جواب دیتے ہیں کہ تیرے لیے تیری اولاد نے استغفار کیا ہے اس لیے میں نے تیرا ایک درجہ جنت میں مزید بلند کر دیا ہے۔ (ابن ماجہ: 3660)

اللہ تعالیٰ گناہوں سے پاک زندگی عطا فرمائے، اگر گناہ ہوجائیں تو ان پر استغفار کرنے کی توفیق نصیب فرمائے، آمین ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ڈاکٹر جمیل جالبی اردوادب کی کثیر الجہت شخصیت

ڈاکٹر جمیل جالبی ان بزرگان ادب میں شمار ہوتے ہیں جن کی تشہیر و تکریم ان کی زندگی میں بھی بہت زیادہ کی گئی

اشعار کی صحت!

کالموں میں لکھے گئے غلط اشعار کا تعاقب کرنا اور پھر تحقیق کے بعد درست شعر تلاشنا کسی صحرا نوردی اور آبلہ پائی سے کم ہر گز نہیںہوتا۔ نوآموز قلم کاروں کو کیا دوش دیں کہ ہمارے بزرگ صحافی بھی اکثر و بیشتر اپنے کالموں میں نہ صرف غلط اشعار لکھتے ہیں بلکہ ان ہی غلط اشعار کو اپنی تحریروں میں دہراتے بھی رہتے ہیں۔ کلاسیکل شعراء کے کلام پر جس طرح ستم ڈھایا جا رہا ہے، اس سے ادب کا بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔ علامہ اقبال ؒ کے وہ اشعار بھی غلط لکھ دیئے جاتے ہیں جو زبان زدِ عام ہیں۔

پاکستان،نیوزی لینڈ ٹی ٹوئنٹی سیریز:کیویز کی آج شاہینوں کے دیس آمد

نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم 5 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کیلئے آج اسلام آباد پہنچ رہی ہے جبکہ گرین شرٹس کا قومی ٹی ٹوئنٹی سکواڈ بھی آج اسلام آباد رپورٹ کرے گا۔ کیویز کیخلاف شاہینوں کے امتحان کا آغاز چار روز بعد 18 اپریل سے پنڈی کرکٹ سٹیڈیم سے ہو گا۔

ٹوٹا ہاتھی کا گھمنڈ

پیارے بچو!دور دراز کسی جنگل میں ایک دیو قامت ہاتھی رہا کرتا تھا۔جسے اپنی طاقت پر بے حد گھمنڈ تھا۔جنگل میں جب وہ چہل قدمی کرنے کیلئے نکلتا تو آس پاس گھومتے چھوٹے جانور اس کے بھاری بھرکم قدموں کی گونج سے ہی اپنے گھروں میں چھپ جایا کرتے تھے۔

سورج گرہن کیوں ہوتا ہے؟

سورج گرہن آج بھی مشرقی معاشروں کیلئے کسی عجوبے سے کم نہیں ہے۔اس سے متعلق لوگوں میں طرح طرح کے خوف اور عجیب و غریب تصورات پائے جاتے ہیں۔

ذرامسکرائیے

جج: اگر تم نے جھوٹ بولا تو جانتے ہو کہ کیا ہوگا؟ ملزم: جی میں جہنم کی آگ میں جلوں گا۔ جج: اور اگر سچ بولو گے تو؟ملزم: میں یہ مقدمہ ہار جائوں گا۔٭٭٭