پہیلیاں

تحریر : روزنامہ دنیا


مٹی سے نکلی اک گوری سر پر لیے پتوں کی بوری جواب :مولی٭٭٭٭

خشکی پر نہ اُس کو پاؤ

پانی میں اُترو تو کھاؤ

جواب :غوطہ

٭٭٭٭

ایک جگہ پہ بانس بریلی

ایک جگہ پہ کنواں

ایک جگہ پہ آگ لگی

ایک جگہ پہ دھواں

جواب :حقہ

٭٭٭٭

دُور دیس سے چل کر آیا

بن بولے سب حال سنایا

جواب :خط

٭٭٭٭

آپ جلے نہ مجھے جلائے

اس کا جلنا میرے من بھائے

گھوم گھوم کر ہوئی تیار

سب کو آئے اس پہ پیار

جواب :جلیبی

٭٭٭٭

ایک مٹھی میں ہزاروں آئیں

لیکن ایک میں کئی دنیائیں

پتے، ڈالی، پھول، تنا، جڑ

اور پھولوں کے ڈھیر لگائیں

بوجھو بھی! آکر کیا ہے

دیکھنے میں معمولی سا ہے

جواب :بیج

٭٭٭٭

کیا جانو وہ کیسا ہے

جیسا دیکھو ویسا ہے

مطلب اس کا سوجھے گا

منہ دیکھو تو بوجھے گا

جواب :آئینہ

٭٭٭٭

پہلی ۸۔

جب بھی وہ میدان میں آئے

قدم قدم پر ٹھوکر کھائیں

اچھلے کودے دوڑے بھاگے

سب ہیں پیچھے وہ ہے آگے

جواب :فٹ بال

پہلی ۹۔

تنکے چن کر لانے والی

چوں چوں کر کے گانے والی

ہلکی پھلکی اور نازک سی

سر چھوٹا سا ٹانگیں پتلی سی

بھورے بھورے پر پھیلائے

اوپر نیچے، آئے جائے

گھر کی چھت پر اس کا ہے گھر

نام بتاؤ سوچ سمجھ کر

جو کوئی اس کا نام بتائے

وہ اچھا بچہ کہلائے

جواب :چڑیا

پہلی ۱۰۔

دنیا میں ہیں ہم دو بھائی

بھاری بوجھ اٹھانے والے

پاؤں تلے دب جانے والے

لیکن یہ ہے بات نرالی

دن بھر تو ہم بھرے ہوئے ہیں

رات آئے تو بالکل خالی

جواب :جوتے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عید کی سچی خوشی !

فضہ اور نور بہت اچھی سہیلیاں اورہمسائی ہیں۔ ایک ہی کلاس میں پڑھتیں اور اکثر ایک دوسرے کے گھر جا کر بھی مدد لیتیں۔

مخلوق کے کام آنا!

ہے کام آنا مخلوق کے عظمت انساں کی،ہیں محسن وہ کرتے ہیں خدمت انساں کی

آؤ سُن جاؤ ایک بات مری

آؤ سُن جاؤ ایک بات مری،رات چوہوں نے ایک میٹنگ کی

سنہری باتیں

٭…کھانے کو ٹھنڈا کر لیا کرو کہ گرم کھانے میں برکت نہیں ہوتی۔

ذرا مسکرائیے

بچہ (اپنے دوست سے): میرے دادا اتنے بہادر تھے کہ انہوں نے ایک جنگ میں ایک آدمی کی ٹانگ کاٹ دی۔

پہیلیاں

دیکھ کر اس کا کمال اس کا ہنر،بادشاہوں کا بھی جھک جاتاہے سر