بھیڑ اور بھیڑیا

تحریر : سائرہ جبیں


بھیڑیا اپنے گھر میں بیٹھا آرام کر رہا تھا جب اسے باہر سے اونچی ،اونچی آوازیں آئیں۔پہلے تو وہ آنکھیں موندے لیٹا رہا لیکن جب شور مسلسل بڑھنے لگا تو اس نے سوچا باہر نکل کر دیکھناتو چاہیے کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔گھر سے باہر جا کر دیکھا تو سامنے 2 بھیڑیں کھڑی آپس میں لڑ رہی تھیں۔

یہ دونوں ہٹی کٹی بھیڑیں بہنیں تھیں اور بھیڑئیے سے تھوڑی ہی دور موجود ایک گھر میں رہتی تھیں۔ان دونوں میں بے حد پیار بھی تھا لیکن لڑائی بھی بہت ہوتی تھی۔آج ان کی تکرار کا سبب خود کو ایک دوسرے سے زیادہ طاقتور منوانا تھا۔دونوں کی آپس میں بحث جاری تھی کہ مجھ میں تم سے کہیں زیادہ جان ہے ،جبکہ دوسری کا کہنا تھا کہ دن بھر گھر کے تمام کام میں ہی کرتی ہوں ایسی طاقت کا بھلا کیا فائدہ جو دن بھر اونگھتے ہوئے ضائع کر دی جائے اور کسی کام کی نہ ہو۔یہ سُن کر دوسری بھیڑ کو غصہ آ گیا اور اس نے اپنا سر دوسری بھیڑ کے منہ پر دے مارا۔بھیڑ اس حملے کے لیے تیار نہیں تھی اس لیے لڑ کھڑا کر نیچے جا گری لیکن دوسرے ہی لمحے سنبھل کر اُٹھی اور پوری طاقت سے بھاگتی ہوئی آئی۔اس نے بھی اسی انداز میں اپنا سر دوسری بھیڑ کے منہ پر دے مارا،جس کے سبب اس کی ناک سے خون بہنے لگا۔

بھیڑیا ان سے دور کھڑا یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا اور خوب لطف اندوز ہو رہا تھا۔لمبے عرصے سے اس کی نظر ان بھیڑوں پر تھی کہ کبھی مجھے موقع ملے تو انہیں اپنی خوراک بنائوں ،لیکن اب تک ناکامی کا سبب یہ تھا کہ ان کے جنگل میں بے شمار دوست تھے ایسے میں بھیڑئیے کو کبھی موقع ہی نہیں ملتا تھا کہ وہ ان پر اکیلے میں حملہ کر پائے۔دوسری بڑی وجہ دونوں بہنوں کی آپس میں محبت تھی۔یہ جب کبھی گھر سے نکلتیں تو ہمیشہ ساتھ ہوتیں،اور دونوں خوب صحت مند بھی تھیں۔اس لیے بھیڑیا چاہتا تھا کہ کسی ایسے وقت میں ان کا شکار کرے جب دونوں میں سے کوئی ایک اکیلی ہو۔ 

آج کی لڑائی دیکھ کر بھیڑئیے کی آنکھوں میں چمک بڑھتی جا رہی تھی۔وہ سوچ رہا تھاکہ جلد ہی ان دونوں میں سے کوئی ایک شدید زخمی ہو کر نڈھال ہو جائیگی اور تب دوسری اسے یہیں چھوڑ کر چلی جائے گی۔یہ بہترین موقع ہو گا زخمی بھیڑ کو شکار کرنے کا۔اب بھیڑیا گھات لگائے بیٹھا تھا اور دوسری طرف بھیڑیں پاگلوں کی طرح آپس میں لڑ رہی تھیں۔انہوں نے ٹکریں مار،مار کر ایک دوسرے کو زخمی کر دیا لیکن دونوں میں سے کوئی بھی ہار ماننے کو تیار نہیں تھی۔اتفاق سے اس وقت سبھی جانور اپنے گھروں میں آرام کر رہے تھے اور کوئی ان کی صلح صفائی کروانے قریب موجود نہیں تھا۔

جب دونوں میں سے ایک بھیڑ زیادہ زخمی ہو کر نیچے گر گئی تو دوسری اسے غصے سے دیکھتی ہوئی واپس گھر کی جانب پلٹی،اور جاتے ہوئے کہنے لگی اب یقینا تمہیں انداز ہ ہو چکا ہو گا کہ دونوں میں سے زیادہ طاقتور کون ہے؟اتنا کہہ کر ابھی وہ چند قدم ہی دور گئی ہو گی کہ پیچھے سے اسے اپنی بہن بھیڑ کی آواز سنائی دی،ایسا لگتا تھا کہ وہ شدید تکلیف میں ہے۔پہلے تو وہ منہ میں بڑ بڑائی کہ ’’اچھا ہے آج اسے اپنی اوقات سمجھ آ جائے گی‘‘ وہ جانے لگی لیکن جب آوازوں میں تیزی آئی تو اس سے رہا نہ گیا اور سوچا کہ واپس جا کر دیکھنا چاہیے ہو سکتا ہے اس کی بہن زیادہ تکلیف میں ہو۔اب جو واپس جا کر دیکھا تو اس کے اوسان خطا ہونے لگے۔بھیڑیا اس کی زخمی بہن بھیڑ کو دانتوں سے گھسیٹتا ہوا شکار کرنے کی کوشش کر رہا تھا،جبکہ بھیڑ زخمی ہونے کے باوجود خود کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی۔

اپنی بہن کی یہ حالت دیکھ کر بھیڑ غصے سے پاگل ہو گئی ۔وہ دور سے دوڑتی ہوئی آئی اور اس نے پوری طاقت سے بھیڑئیے کی کمر میں ایسی زبر دست ٹکر ماری کہ چند لمحوں کیلئے تو وہ سنبھل ہی نہ پایا اور لڑ کھڑا کر گر گیا۔اب جو اس نے پلٹ کر دیکھا تو بھیڑ کو سامنے پا کر غرانے لگا۔تب بھیڑ بولی ’’ہم بہنیں آپس میں چاہے کتنا ہی لڑ لیں ،لیکن جب بھی کوئی ہمارے مخالف کھڑا ہو گا اس کا مقابلہ کرنے کیلئے ہم ہمیشہ ایک رہیں گی۔‘‘ بھیڑئیے نے غصے میں بھیڑ پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو زخمی بھیڑ بھی اُٹھ گئی اور دونوں نے مل کر بھیڑئیے کی ایسی دُھلائی کی کہ وہ دُم دبا کر بھاگ کھڑا ہوا۔

دیکھا بچو !جب تک ہم آپس میں مل جُل کر رہیں گے کوئی دوسرا ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عید الاضحی:صبرووفا،اطاعت ربانی کی عظیم داستان

عید الاضحی ایک اسلامی تہوار ہے اور عبادت و خوشی کے اظہار کا دن بھی ہے۔ ہر قوم میں خوشی کے اظہار کے کچھ دن ہوا کرتے ہیں۔ زمانہ جہالیت میں بھی سرکار دوعالم ﷺجب ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو وہاں کے لوگ دو دن ناچ گانے کھیل کود میں گزارا کرتے۔

عید کے دن کیسے گزاریں؟

ادیان عالم میں ہر مذہب سے وابستہ ہر قوم اپنا ایک مذہبی تہوار رکھتی ہے۔ جس میں وہ اپنی خوشی کے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنے جداگانہ تشخص کا اظہار بھی کرتی ہے۔مسلمانوں کی عید دیگر مذاہب و اقوام کے تہواروں سے بالکل مختلف حیثیت رکھتی ہے۔اہل اسلام کی عید اپنے اندر اطاعتِ خداوندی،اسوہ نبوی ،جذبہ ایثار و قربانی، اجتماعیت،غریب پروری، انسانی ہمدردی رکھتی ہے۔ جانور کی قربانی کرنا دراصل اسلامی احکامات پر عمل کرنے کیلئے خواہشات کی قربانی کا سنگ میل ہے۔

فلسفہ قربانی:تاریخ،اسلامی اور معاشی حیثیت

اقوام عالم کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہر قوم میں قربانی کا تصور کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ ہزاروں سال پہلے جب انسان اپنے حقیقی خالق و مالک کو بھول چکا تھا اور اپنے دیوتاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے یا ان کے نام کی نذر و نیاز مانتے ہوئے جانور کو ذبح کر کے ان کے سامنے رکھ دیتا تھا اور یہ عقیدہ رکھتا کہ اب دیوتا مجھے آفات سے محفوظ رکھیں گے۔

پیغمبروں کی عظیم قربانی

ماہ ذوالحجہ قمری سال کا آخری مہینہ ہے، رب ذوالجلال نے جس طرح سال کے بارہ مہینوں میں سے رمضان المبارک کو اور پھر رمضان المبارک کے تین عشروں میں سے آخری عشرہ کو جو فضیلت بخشی ہے بعینہ ماہ ذوالحجہ کے تین عشروں میں سے پہلے عشرہ کو بھی خاص فضیلت سے نوازاہے۔

گرین شرٹس کو واپسی

آئی سی سی مینز ٹی20ورلڈکپ کے گزشتہ 8 ایڈیشنز میں تین بار سیمی فائنل اور تین بار فائنل کھیل کر ایک بار ورلڈ چیمپئن بننے والی پاکستان کرکٹ ٹیم امریکہ اور ویسٹ انڈیز میں جاری ٹی20ورلڈ کپ کے 9ویں ایڈیشن میں گروپ مرحلے سے ہی آئوٹ ہو گئی ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں متاثر کن ریکارڈ کا حامل پاکستان فائنل یا سیمی فائنل تو بہت دور کی بات، سپرایٹ مرحلے کیلئے بھی کوالیفائی نہ کر سکا۔

ٹی 20 ورلڈ کپ 2024 اب تک کے ریکارڈز

بہترین بلے بازورلڈ کپ 2024ء میں اب تک سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی افغانستان کے رحمت اللہ گرباز ہیں، جنہوں نے 3 میچ کھیل کر 167رنز بنائے ہیں۔ اس فہرست میں امریکہ کے ارون جونز141 رنز کے ساتھ دوسرے، آسٹریلیا کے وارنر 115 رنز کے ساتھ تیسرے، افغانستان کے ابراہیم زردان 114 رنز کے ساتھ چوتھے اور امریکہ کے غوث 102 رنز کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہیں۔