نصرت صدیقی تفہیمات کو شعری پیکرمیں ڈھالنے والے
انہوں نے اُردو غزل میں نئی جہتیں اور سمتیں پیدا کیں نصرت نڈھال چہرے اور مٹی کے پیالوں کی طرح پچکے ہوئے گالوں والوں کو دیکھتا اور انہی سے شاعری کا لوازمہ حاصل کرتا ہے، احسان دانش
اُردو غزل میں جو نئی جہتیں اور سمتیں پیدا ہوئیں نصرت صدیقی کے کلام میں اس کی ایک نہیں ہزاروں جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ حقیقت واقعہ یہ ہے کہ ماحول میں کچھ اس تیزی اور شدت سے نئے محرکات اُ بھر ے جن کے سبب روحیں زیادہ حساس، قلب زیادہ تاثر پذیر اور رفتار فکر میں زیادہ پیچیدگی پیدا ہو گئی ۔ نصرت کی غزل اسی باطنی کشمکش کی آئینہ دار ہے۔ سب سے زیادہ قابل قدر چیز یہ ہے کہ نصرت صدیقی اس جذباتی تلاطم کو مناسب پیرایۂ ابلاغ دینے کی پوری قدرت رکھتے ہیں۔ ان کے تغزل میں نفسیاتی گہرائی تو ہے۔ فکری ژولیدگی نہیں ہے اور یہ جوہر بیان بہت زیادہ قابل تحسین ہے۔
نصرت کو قدرت نے اسے ایسا ہمہ گیر دماغ دیا ہے کہ وہ اپنے ناسوروں کو کم دیکھتے ہیں، دوسروں کے کرب و نشاط کو زیادہ محسوس کرتے ہیں۔احسان دانش نے ان کے پہلے مجموعہ کلام ’’لمحہ موجود‘‘ (1986ء)میں لکھا کہ نصرت عوام کی زندگیوں کو گہری نظر سے دیکھتا اور ان کے کرب کو محسوس کرکے اس کا معالجہ سوچتا ہے جس طبقہ نے صدیوں سے عوام کی زندگیوں کو مایوس اور سوگوار بنا رکھا ہے، نصرت انہیں دل سے اچھا نہیں سمجھتا اور انہیں پرنقد کرتا ہے، ہر چند کہ ان کا لہجہ قدیم نہیں، اور جدیدیت سے انہیں شکایت ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے مستقبل میں یہی انداز مقبول ہوگا۔
نصرت کے یہاں غم جاناں کم اور غم دوراں زیادہ ہے، ان کے اشعار میں آہیں نہیں بلکہ کرب ہے، جو مختلف انداز رکھتا ہے اور اتفاق سے زبان کا بھی حسن پا گیا ہے۔نصرت کی شاعری میں رنگ اور قوسیں تو اس کے احساس غم کی صنعت ہے لیکن اس میں حدت اور تمازت پسماندہ طبقہ کی ہمدردی پیدا کرتی ہے۔یہ شخص نڈھال چہرے اور مٹی کے پیالوں کی طرح پچکے ہوئے گالوں والوں کو دیکھتا اور انہی سے شاعری کا لوازمہ حاصل کرتا ہے، وہ شہر کی گلیوں کے حسین چہرے کم دیکھتا ہے اور ٹوٹے پھوٹے مکانوں اور ان میں رہنے والوں کو پڑھتا ہے۔ وہ اوائل عمری ہی سے جیدار معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کی یہ حوصلہ مندی غم میں دیکھتی ہے تو اس کی پلکوں سے آنسو نہیں سہارے جاتے اور آنکھیں بے قابو ہو جاتی ہیں۔اس کی شاعری میں جذبات خود نگر، دشت وگلزار اور زندگی کے شاداب پہلو ایک جان ہو گئے ہیں، ہر چند کہ اس کا علم نیا ہے، لیکن وہ انقلابات کا دودھ پی کر پلا ہے اور افکار و خیالات میں خود اعتمادی ہے۔
نصرت محسوس اور تفہیمات کو شعری پیکر میں اس طرح ڈھالتا ہے کہ اس کا مافی الضمیر قاری اور سامع سے خود تعارف کر لیتا ہے۔ اس کے ذہنی ساز کے تار فطری طور پر کھنچے ہوئے ہیں اور اس کی آواز سے ملے ہوئے ہیں۔
بقول احسان دانش نصرت کو مطمئن رہنا چاہئے کہ اس کی شاعری پر مٹی کی تہیں جمی ہوئی نہیں بلکہ راستہ کا غبار ہے اور یہ غبار آئینہ، اجسام پر زیادہ معلوم ہوتا ہے، اس کے محسوسات کے زخموں کے منہ کھلے ہوئے ہیں، جن کو وہ زبان بخشنے کی فکر میں ہے۔
ممتاز شاعروادیب عاصی کرنالی نے لکھا کہ نصرت صدیقی کی شاعری تین اجزاء سے مل کر بنی ہے،جس کا فارمولا درج ذیل ہے:
عشقیہ روحانی سماجی= نصرت کی شاعری
عشقیہ عنصر تو اس لئے ضروری ہے کہ وہ غزل کہتا ہے،رومانی اس لئے کہ وہ فطرت سے رابستہ استوار رکھتا ہے اور سماجی اس لئے کہ وہ معاشرہ کا ایک حساس، باشعور، باضمیر، دیانتدار اور خیر خواہ فرد ہے۔ اس کی شاعری کی لَے یا لہجہ پُراندوہ ہے، یعنی دکھ بھرا۔ اس کے کسی شعر کو کہیں سے لے لیں، وہ دکھی دل کی ٹیس معلوم ہوگا۔ ایسا کیوں ہے؟ کیا وہ یہ بات جانتا ہے کہ غزل کا مزاج المیہ ہوتا ہے جو اشعار جتنے الم انگیز ہوں گے اتنا ہی داد و تحسین حاصل کریں گے، کیا وہ المیہ جذبوں کی نقالی کرتا ہے تاکہ لوگوں کا جذبہ ترحم ابھار سکے؟ میرے خیال میں یہ بحث دو لفظوں میں ختم ہو سکتی ہے کہ نقالی کی کمزور بنیاد پر فن کی عمارت بلند نہیں ہو سکتی، جب تک کوئی احساس، کوئی جذبہ شاعر کی روح اور قلب کی گہرائیوں سے نہ ابھرے اس میں آنچ پیدا ہو ہی نہیں سکتی۔ جذبے کی اصلیت اور خیال کی اصالت اثر انگیز شاعری کی اساس ہے۔
نصرت صدیقی کا ذہن شفاف، اس کا قلب حساس، اس کی روح تپاں اپنے گردو پیش سے فطرت کے حشر آفریں سکوت سے، اپنی ذات میں چھپی ہوئی آہوں، سسکیوں، کرلاہٹوں سے بے خبر نہیں ہو سکتی۔ یہ کہنا غلط نہیں کہ انسان کی تشکیل ذات میں فطرت اور سماج کو بہت دخل ہے شاعر اپنے حواس سے خارج کے اثرات کو قبول کرتا ہے اور مشاہدے و تجربے کی باز آفرینی کرتا ہے یہی تخلیق کا سرچشمہ ہے۔ اس طرح نصرت صدیقی کی ذات اور کائنات ایک دوسرے میں جذب ہو کر دکھ کا ایک مربوط سلسلہ بن گئی ہے اور اب وہ جو شعر بھی کہتا ہے اک قطرہ خون جگر ہے۔ کیا اسے اپنے مشاہدے کی جست میں کہیں سے کوئی مسرت کی کرن نہیں ملتی؟ وہ خاصا حقیقت پسند ہے جو چیز نایاب ہے، وہ اسے کیسے حاصل کر سکتا ہے؟ البتہ اس کے دکھ میں قنوطیت نہیں ہے، ایک اداسی ہے اور اس کی بصیرت جانتی ہے کہ اداسی کی دبیز تہوں میں مسرت کی کرنیں خوابیدہ ہیں، چنانچہ وہ اداسی کی ایک تہہ اٹھاتا ہے، پھر دوسری، پھر تیسری، پھر چوتھی، پھر پانچویں اور اسی طرح مسلسل تہہ پر تہہ اٹھاتا چلا جاتا ہے، اس یقین کے ساتھ کہ کوئی تہہ آخری بھی ہوگی جس کے بعد کرنوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ تہہ در تہہ چنانچہ اس کے فن کا ایک خوبصورت اور مثبت رویہ یہ ہے کہ اس کی شاعری ایک سفر ہے اداسی سے مسرت کی جانب، بے یقینی سے یقین کی طرف اور اندھیروں سے کرنوں کی سمت! اور اسی لئے ہم اس کے فن کو، فنی زاویے کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ہم دیکھتے ہیں کہ وہ عشق کی بات تو کرتا ہے اداسی کی لَے میں لیکن اس لَے کا توڑ مسرت کے چہرے سے نقاب کا گوشہ سرکاتا محسوس ہوتا ہے، اور اس کا یہی حال رومان اور سماج کے بارے میں ہے۔
نصرت صدیقی 7 دسمبر1942 کو حصار (مشرقی پنجاب) میں پیداہوئے۔ان دنوں فیصل آ باد میں مقیم ہیں۔’’لمحہ موجود‘‘ کے علاوہ’’ترے طلوع کا لمحہ‘‘ اور’’تقاضے‘‘ بھی شائع ہو چکے ہیں ۔
ایک مقبول غزل
اپنے حالات کے دھاگوں سے بُنی ہیں میں نے
آج اک تازہ غزل اور کہی ہے میں نے
کس ضرورت کو دباؤں کسے پورا کر لوں؟
اپنی ؎تنخواہ کئی بار گنی ہے میں نے
چھوٹے لوگوں کو بڑا کہنا پڑا ہے اکثر
ایک تکلیف کئی بار سہی ہے میں نے
زندگی نے مجھے سینے سے لگا رکھا ہے
جان جس دن سے ہتھیلی پہ دھری ہے میں نے
میں تو جیسا بھی ہوں سب لوگ مجھے جانتے ہیں
تیرے بارے میں بھی اک بات سنی ہے میں نے
روزمرہ میں کہے جتنے بھی اشعار کہے
شاعری میں بھی کٹھن رو چنی ہے میں نے
اپنے عیبوں کو عیاں کر کے خجل ہوں لیکن
یہ جسارت بھی اگر کی ہے تو میں نے کی ہے
میرے شعروں میں دھڑکتا ہے مرے عہد کا دل
شاعری کی ہے کہ تاریخ لکھی ہے میں نے
ایک سے دوسرا انسان جد ہے نصرت
ہر جبیں پر نئی تحریر پڑھی ہے میں نے
منتخب اشعار
پیڑ بھی ننگے بدن ہیں میرے بچوں کی طرح
میرے گھر کی مفلسی صحنِ چمن تک آگئی
…………
پھول کھل کھل کے آشنائی کے
زخم بنتے گئے جدائی کے
…………
اک تو کہ تیرا ایک ہی رشتہ ہے جہاں میں
اک میں کہ میرے سینکڑوں رشتے ہیں زمیں پر
…………
آپ دامن تو چاک کر لیجئے!
لوگ تو سنگ بھی اٹھا لائے
…………
اب آئے ہو تو مری روح میں اُتر جائو
تمہیں قریب سے دیکھے ہوئے زمانہ ہوا
…………
باپ کی یہ بھی اک تمنا ہے
اس کا بیٹا اسے کمائی دے
…………
ایسا فریب دے کہ بھلایا نہ جا سکے
تحت الشعور تک نہ کوئی آرزو ہے!
…………
ان گنت پتے گرے پیڑوں سے اشکوں کی طرح
اب کی رُت میں حادثوں کی انتہا کوئی نہیں
…………
پھیل کر شامِ یاس کے سائے
صبحِ امید تک چلے آئے
…………
کیا کریں ذکر ترے شہر میں مہنگائی کا
کاسۂ دید بھی خالی ہے تمنائی کا!
اتنے مصروف تو ہم پہلے نہیں تھے شاید
اب تو اک پل بھی میسر نہیں تنہائی کا
راہِ اُلفت میں قدم سوچ کے رکھا ہوتا
اب تجھے خوف نہیں چاہئے رسوائی کا