مسائل اور ان کا حل

تحریر : مفتی محمد زبیر


ایک وارث کا جائیداد رکھ کر بقیہ ورثاء کو قیمت دینا سوال : ایک جائیدادکئی سال پرانی ہے، اس کی تقسیم کس طرح کی جائے؟ پرانی قیمت کے حساب سے یاآج کی قیمت کے حساب سے؟ ایک وارث جائیداداپنے پاس رکھ کر دوسرے ورثاء کو اس کی قیمت دینا چاہتا ہے توکون سی قیمت لگائی جائے گی؟ (عبداللہ ،لاہور)

جواب:اگر تمام ورثاء اپنی خوشی سے جائیدادکی جگہ اس کی قیمت لینے پر رضامند ہوں توموجودہ وقت کی قیمت کا اعتبارکرکے جائیداد کو تقسیم کیا جائے گا۔ (فتاویٰ رحیمیہ، 10؍283)۔ جو وارث جائیدادکی قیمت لینے پررضامندنہ ہو تو اسے شرعی قانون کے مطابق جائیدادمیں سے حصہ دیاجائے گا۔

بیوی کو لفظ حرام کہا ہو تو کیا حکم ہے ؟

سوال :میں نے لڑائی کے دوران اپنی بیوی کوکہا ’’تم مجھ پرحرام ہو‘‘۔ میں نے یہ الفاظ ایک مرتبہ کہے ہیں جبکہ بیوی کاکہناہے کہ 2مرتبہ الفاظ کہے ہیں۔ اس موقع پرصرف میراایک چچا زاد موجود تھا۔واضح رہے کہ بیوی ابھی میرے گھر میں ہی ہے ۔ کیا ہمارے لئے اب میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہناجائزہے؟(اقبال حسین ، حیدر آباد)

جواب:صورت مسئولہ میں آپ کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے، نکاح ختم ہو گیا اب رجوع جائزنہیں۔ تاہم اگردونوں دوبارہ ساتھ رہنے پر رضا مند ہوں تو2گواہوں کی موجودگی میںاز سرنو ایجاب و قبول کرکے نئے مہرپرنیانکاح کر کے اکٹھے رہ سکتے ہیں۔نیز تجدیدنکاح کی صورت میں آئندہ آپ کوصرف 2 طلاقوں کا اختیار ہو گااس لئے احتیاط لازم ہے۔واضح رہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جبکہ اس سے قبل یابعدکبھی کوئی زبانی یاتحریری طلاق نہ دی ہوبصورت دیگریہ حکم نہیں ہوگاایسی صورت میں تفصیل لکھ کرمسئلہ دوبارہ معلوم کر لیا جائے(فی الدرالمختار3؍306)، (فی الھندیۃ، 1؍348) 

بچی کی پرورش کا صحیح حقدار کون ؟

سوال :میری بیٹی کا شوہر شادی کے تقریباً 1 سال بعد فوت ہو گیا۔ان کی ایک بچی ہے ۔اب میں بیٹی کی دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں ۔ میری بیٹی اپنی بچی کی پرورش خود کرنا چاہتی ہے اوراس کا ہونے والا شوہربھی اس پرراضی ہے۔ میری بیٹی کی سابقہ ساس کہتی ہے کہ یہ بچی میرے بیٹے کی نشانی ہے اس کی پرورش میں خودکروں گی۔ حقیقت بات یہ ہے کہ میری بچی کی سابقہ ساس ایک پاؤں سے معذورہے(پاؤں کٹاہواہے)۔ان کے شوہرنے انہیں چھوڑا ہوا ہے اور گھر کی کفالت ان کا چھوٹا بیٹا کر رہا ہے،ان کی 2 بچیاں بھی ہیں، گھر کا گزارا مشکل سے چل رہاہے۔پوچھنایہ ہے کہ بچی کی کفالت کاصحیح حقدارکون ہے ؟

جواب :صورت مسئولہ میں اگرآپ کی بیٹی کا نکاح اس کی بچی کے کسی نامحرم سے ہو جاتا ہے تو اس کاحق پرورش ساقط ہوجائے گااوریہ حق بجائے دادی کے نانی کو حاصل ہو گا، لہٰذا اس معاملے میں دادی کا بچی کوپرورش کیلئے لینے کا مطالبہ کرنا درست نہ ہوگا۔(فی الھندیۃ، 1؍541)

نشے کی حالت میں بھی طلاق ہوجاتی ہے

سوال :میں ایک مرتبہ جب گھرآیا توبہت نشے میں تھا۔مجھے کچھ پتہ نہیں تھا کہ میں کیا کہتا ہوں اورکیا نہیں، اسی حالت میں گھروالوں سے میرا جھگڑا ہوا۔اس جھگڑے کے دوران میں نے غصے میں ایک بارطلاق کے الفاظ کہے لیکن مجھے کچھ پتہ نہ چلاکہ میں نے طلاق دی ہے،بعدمیں گھروالوں نے کہاکہ تونے تو طلاق دی ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ تسلی بخش جواب دیں کہ طلاق ہوئی ہے یانہیں؟کیونکہ اس وقت میں شراب کے نشے میں مکمل مست تھا۔

جواب :نشے کی حالت میں بھی شرعاًطلاق واقع ہوجاتی ہے لہٰذاصورت مسئولہ میں آپ نے جو ایک مرتبہ طلاق کا لفظ کہا اس سے آپ کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ اگر آپ رجوع کرنا چاہیں تو عدت (3 ماہواریوں ) کے دوران رجوع کرکے دوبارہ حسب سابق میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں۔ تاہم ایسی صورت میں آپ کو آئندہ صرف 2 طلاقوں کا اختیار ہوگا لہٰذا آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط کرنا لازم ہے۔

مالدار عورت کے غریب شوہر کو زکوٰۃ دینا 

سوال :ہمارے رشتہ داروں میں ایک مال دار عورت کا نکاح ایسے شخص سے ہوا ہے جو نہایت غریب ہے اور اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ کیا اسے زکوٰۃ دے سکتے ہیں جبکہ اس کی بیوی تو بہت مالدار ہے اس کے پاس 10تولہ سے زیادہ سونا بھی ہے۔(محمد ابراہیم، راولپنڈی )

جواب :اگر اس زیور اور پیسہ کی مالکہ اس کی بیوی ہے، شوہر مالک نہیں تو ایسی صورت میں اس کے شوہر کو زکوٰۃ دینا جائز ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 21)

نماز کے فوائد:اکیسویں پارے کی پہلی آیت میں تلاوت قرآن اور اقامتِ صلوٰۃ کا حکم ہے اور یہ کہ نماز کے منجملہ فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ اسی معیار پر ہر مسلمان اپنی نماز کی مقبولیت اور افادیت کا جائزہ لے سکتا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 21)

نماز کا حکم:قرآنِ مجید‘ فرقانِ حمید کے اکیسویں پارے کا آغاز سورۃ العنکبوت سے ہوتا ہے۔ اکیسویں پارے کے آغاز میں اللہ تعالیٰ‘ اپنے حبیبﷺ سے فرماتے ہیں کہ جو کتاب آپ پر نازل کی گئی ہے‘ اس کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا: بیشک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 20)

جلالت و قدرت:بیسویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ استفہامی انداز میں اپنی جلالت و قدرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کو کس نے پیدا کیا‘ آسمان سے بارش برسا کر بارونق باغات کس نے اگائے‘

خلاصہ قرآن(پارہ 20)

قوت تخلیق و توحید :بیسویں پارے کا آغاز سورۂ نمل سے ہوتا ہے۔ اس پارے کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت کے ساتھ اپنی قوت تخلیق اور توحیدکا ذکر کیا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 19)

کفار کے مطالبات:انیسویں پارے کے شروع میں ایک بار پھر کفارِ مکہ کے ناروا مطالبات کا ذکر ہے کہ منکرینِ آخرت یہ مطالبہ کرتے تھے کہ ہمارے پاس فرشتہ اتر کر آئے یا ہم اللہ تعالیٰ کو کھلے عام دیکھیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 19)

کفار کا پچھتاوہ:انیسویں پارے کا آغاز سورۃ الفرقان سے ہوتا ہے۔ انیسویں پارے کے آغاز میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں کو میری ملاقات کا یقین نہیں وہ بڑے تکبر سے کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر فرشتے کا نزول ہونا چاہیے یا ہم پروردگار کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔