ذرامسکرائیے

تحریر : روزنامہ دنیا


امی: بیٹا صبح جلدی اٹھنے کے بہت فائدے ہیں، دیکھو چڑیاں صبح جلدی آتی ہیں تو انہیں کھانے کیلئے کیڑے مکوڑے مل جاتے ہیں۔ منا: اور امی کیڑوں کو صبح جلدی اٹھنے کی سزا ملتی ہے کیا؟٭٭٭

سکول وزٹ پر آنے والے وزیر خوراک سے ایک بچے نے سوال کیا۔

بچہ: انکل، آٹے، چینی، چاول کا رنگ کیا ہوتا ہے؟

وزیر: بیٹا آٹے، چینی اور چاول کا رنگ وائٹ (سفید) ہوتا ہے۔

بچہ: تو پھر ہمارے ملک میں آٹا، چینی، چاول بلیک کیوں ہوتا ہے؟

٭٭٭

دو بچے آپس میں گفتگو کررہے تھے جن میں سے ایک کچھ زیادہ ہی شیخی خورہ تھا۔

شیخی خورہ بچہ: میرے ابو بہت گریٹ ہیں، ان کی آنکھ ایسی تیز ہے جیسے عقاب کی۔ اور ان کا ذہن اتنا چالاک جیسا لومڑ۔ اور ان کی طاقت اتنی جیسے ہاتھی ہو۔ اور ان کی گرجدار آواز تو بالکل شیر سے ملتی ہے۔

دوسرا بچہ: اس کامطلب ہے تمھارے گھر آنے کے لیے چڑیا گھر کا ٹکٹ خریدنا پڑے گا؟

٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 25)

اللہ سے کچھ پوشیدہ نہیں: پارے کا آغاز سورہ حم سجدہ سے ہوتا ہے ۔ پارے کی ابتدا میں بتایا گیا ہے کہ قیامت‘ شگوفوں سے نکلنے والے پھلوں‘ حمل اور وضع حمل کا علم اللہ ہی کی طرف لوٹایا جائے گا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 25)

اللہ سے کچھ پوشیدہ نہیں:قرآنِ پاک کے پچیسویں پارے کا آغاز سورہ حم سجدہ سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ پچیسویں پارے کے شروع میں ارشاد فرماتے ہیں کہ قیامت کا علم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے‘ اسی طرح ہر اُگنے والے پھل کا علم اس کے پاس ہے اور ہر عورت کے حمل اور اس کے بچے کی پیدائش کا علم اللہ کے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ خود بنانے والے ہیں‘ اس لیے ان سے کوئی چیز ڈھکی چھپی نہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 24)

سورۃ الزمر: اس سورۂ مبارکہ کے شروع میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور حق کو جھٹلانے والے کو جہنمی قرار دیا گیا اور سچے دین کو لے کر آنے والے‘ یعنی رسول اللہﷺ اور ان کی تصدیق کرنے والے (مفسرین نے اس سے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو مراد لیا ہے) کو متقی قرار دیا گیا ہے۔ آیت 38 میں بتایاکہ اللہ کی قدرت پر کسی کا بس نہیں چلتا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 24)

سورۃ الزمر:چوبیسویں پارے کا آغاز سورۂ زمر سے ہوتا ہے۔ اس سورۂ مبارکہ کے شروع میں اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچی بات اس تک پہنچ گئی تو اسے جھٹلا دیا۔

صدقہ فطر

اسلامی معاشرتی نظام کا ایک خوبصورت مظہر

رمضان کا آخری عشرہ

’’رمضان کا آخری عشرہ شروع ہو تا تو نبی ﷺ عبادت کیلئے کمر بستہ ہو جاتے‘‘ (صحیح البخاری)رسول اللہ ﷺعام دنوں کی نسبت آخری عشرے میں خوب محنت اورکوشش کرتے (صحیح مسلم2788)