عظیم شاہسوار (تیسری قسط)

تحریر : اشفاق احمد خاں


حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنا بچپن زیادہ تر رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں گزارا۔ نبی کریم ﷺ کی محبت، شفقت اور پیار ان کو بہت زیادہ نصیب ہوا۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہو کہ اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی خالہ تھیں۔

 وہ آپؓ سے بہت زیادہ پیار کرتی تھیں، آپؓ کے اسی پیار کو دیکھتے ہوئے، رسول اللہ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی کنیت ’’اُم عبداللہ‘‘ یعنی عبداللہ کی ماں رکھی تھی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی ان سے جدا ہونا پسند نہیں کرتے تھے۔ ایک مرتبہ جنگ کے دوران عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خیریت کی اطلاع ملنے میں کچھ دیر ہو گئی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا شدید پریشان ہو گئیں۔ پھر جب ایک آدمی نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خیریت اور سلامتی کی اطلاع دی تو آپؓ نے اس شخص کو دس ہزار درہم بطور انعام دیئے اور خود شکرانے کے نفل ادا کئے۔

عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بچپن ہی سے بہادر اور نڈر تھے۔ اس کا سبب شاید یہ تھا کہ آپؓ نے اپنا بچپن اس ہستی کی رفاقت میں گزارا جو اللہ کے سوا کسی سے ڈرنے والی نہ تھی۔ ایک مرتبہ کچھ اصحابہ کرامؓ نے طے کیا کہ اگر نبی کریم ﷺ قریش کے چند بچوں سے بھی بعیت لے لیں تو ان کو بھی آپ ﷺ سے برکت حاصل ہو جائے گی اور ان کی تربیت کیلئے کچھ وعظ و نصیحت بھی ہو جائے گی۔ اس مقصد کیلئے عبداللہ بن جعفر، عبداللہ بن زبیر اور عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہم کو آپﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ دوسرے بچوں نے اس موقع پر قدرے جھجھک اور خوف کا مظاہرہ کیا لیکن عبداللہ بن زبیرؓ بغیر کسی جھجھک کے آگے بڑھے۔ رسول اللہﷺ مسکرا دیئے اور فرمایا ’’آخر اپنے باپ زبیر (رضی اللہ عنہ) کا بیٹا ہے‘‘۔

ایک مرتبہ عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ ادھر سے امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ گزرے۔ بچوں نے جونہی ان کو دیکھا۔ ڈر کے مارے بھاگ کھڑے ہوئے لیکن عبداللہ رضی اللہ عنہ وہیں کھڑے رہے۔ سید نا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: ’’عبداللہ، سب بچے بھاگ گئے، تم ان کے ساتھ کیوں نہیں بھاگے‘‘؟۔

عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا’’ امیر المومنینؓ، میں کیوں بھاگتا، نہ تو میں مجرم ہوں، نہ ہی یہ راستہ اتنا تنگ ہے کہ میں اسے آپ کیلئے چھوڑ دیتا‘‘۔

سید نا عمر رضی اللہ عنہ ،عبداللہ رضی اللہ عنہ کے اس جواب پر بہت خوش ہوئے۔

اتنے عظیم افراد سے تربیت پا کر عبداللہ بن زبیرؓکی شخصیت ایک ایسے سانچے میں ڈھل گئی جس نے انہیں عظمت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ وہ نہ صرف فہم و فراست میں یکتا تھے بلکہ انتہائی متقی اور پرہیز گار بھی تھے۔ دنیا کی رنگینیوں سے انہیں کوئی رغبت نہیں تھی۔ ان کے بارے میں عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ میں تین خوبیاں ایسی پائی جاتی ہیں جن میں کوئی ان کا ثانی نہیں ہے۔ شجاعت، عبادت اور بلاغت۔

عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شجاعت کی ایک جھلک ابتدا میں ہم دیکھ چکے ہیں، ان کی پرہیز گاری اور عبادت گزاری بھی بے مثال تھی۔ مجاہد ؒ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ جب کبھی لوگ کسی وجہ سے عبادت کرنے سے عاجز آ جاتے تو عبداللہ رضی اللہ عنہ اس مشکل گھڑی میں بھی عبادت کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ ایک مرتبہ شدید بارش کی وجہ سے بیت اللہ کے ارد گرد پانی جمع ہو گیا۔ طواف کعبہ انتہائی مشکل تھا لیکن پھر لوگوں نے انتہائی عجیب اور ناقابل یقین منظر دیکھا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ پانی میں تیر کر بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں۔ 

بے شک اسلام دین فطرت ہے۔ اس کے اصول اور قوانین اپنے اندر لچک بھی رکھتے ہیں، لیکن عبداللہ رضی اللہ عنہ جیسی ہستیاں اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیتی ہیں کہ انسان کے دل میں حق کی شمع روشن ہو، وہ اللہ کی رضا کا طلب گار بھی ہو، پھر راہوں کے کانٹے بھی اس کا راستہ نہیں روک پاتے۔ ان کے قدم مشکلات کے باعث کبھی نہیں ڈگمگاتے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ دین پر سچے دل سے عمل پیرا ہونا کبھی بھی آسان نہیں رہا۔

راہ وفا میں ہر سو کانٹے، دھوپ زیادہ سائے کم

لیکن اس پر چلنے والے خوش رہے پچھتائے کم!

(جاری ہے)

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 18)

سورۃ المؤمنون: سورہ مؤمنون کی ابتدائی گیارہ آیات تعلیماتِ اسلامی کی جامع ہیں‘ ان میں فلاح یافتہ اہلِ ایمان کی یہ صفات بیان کی گئی ہیں۔ نمازوں میں خشوع وخضوع‘ ہر قسم کی بیہودہ باتوں سے لاتعلقی‘ زکوٰۃ کی ادائیگی‘ اپنی پاکدامنی کی حفاظت‘ امانت اور عہد کی پاسداری اور نمازوں کی پابندی۔ آخر میں فرمایا کہ ان صفات کے حامل اہلِ ایمان ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 18)

سورۃ المؤمنون:اٹھارہویں پارے کا آغاز سورہ مومنون سے ہوتا ہے‘ جس میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے اس گروہ کا ذکر کیا ہے جو جنت کے سب سے بلند مقام یعنی فردوس کا وارث بننے والا ہے۔

غزوہ بدر:حق و باطل کا پہلا فیصلہ کن معرکہ

17رمضان المبارک کو ملنے والی فتح اسلام کی عالمگیر ترویج کا پیش خیمہ ثابت ہوئی:اسے قرآن کی اصطلاح میں ’’یوم الفرقان ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے

حضرت عائشہ صدیقہؓ:اخلاق و کردار کا روشن مینار

خادمہ ہونے کے باوجود آپؓ نبی کریم ﷺ کے کام خود انجام دیتیں، آٹا پیستیں، کھانا پکاتیں، بستر بچھاتیں: سیدہ عائشہ ؓسے مروی احادیث کی تعداد 2210 ہے، کثرت کے ساتھ غلاموں کو آزاد کیا، حج کی پابند تھیں

خلاصہ قرآن(پارہ 17)

سورۃ الانبیاء : سورۂ انبیا میں فرمایاگیا ہے: لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا اور وہ غفلت کا شکار ہیں، دین کی باتوں سے رو گردانی کر رہے ہیں اور جب بھی نصیحت کی کوئی نئی بات ان کے پاس آتی ہے تو توجہ سے نہیں سنتے‘ بس کھیل تماشے کے انداز سے سنتے ہیں اور نبی کریم کو اپنے جیسا بشر قرار دیتے ہیں‘ قرآن کو جادو‘ خوابِ پریشاں‘ شاعری اور خود ساختہ کلام قرار دیتے ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 17)

سورۃ الانبیاء :سترہویں پارے کا آغاز سورۃ الانبیاء سے ہوتا ہے۔ سورۂ انبیاء میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ لوگوں کے حساب و کتاب کا وقت آن پہنچا ہے لیکن لوگ اس سے غفلت برت رہے ہیں۔