ذرا مسکرایئے
ماں (بیٹے سے) : وسیم! میری خاطر دو ا پی لو‘ دیکھو میں تمھاری خاطر ہر کام کرتی ہوں۔ وسیم : امی جان! اچھا تو پھر آپ میری خاطر یہ دوا بھی پی لیجئے۔٭٭٭
باپ: کیا تمہارے سالانہ امتحان ختم ہو گئے ہیں؟
بیٹا: جی ہاں! ابو جی! رزلٹ بھی نکل آیا ہے۔
باپ: پھر مجھے بتایا کیوں نہیں؟
بیٹا: اس لئے‘ ابو جی! کیونکہ مجھے نئے کورس کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔
٭٭٭
استاد: تمہاری لکھائی دن بدن خراب کیوں ہو رہی ہے۔
شاگرد: جناب اس لئے کہ میرے ابو کی خواہش ہے کہ میں ڈاکٹر بنوں۔
٭٭٭
جج ملزم سے :تمہیں شرم نہیں آتی ؟ دن دہاڑے چوری کرتے ہوں۔
ملزم :جناب رات کو میں اپنے گھر کی نگرانی جوکرتا ہوں۔
٭٭٭