ذرا مسکرایئے

تحریر : روزنامہ دنیا


ماں (بیٹے سے) : وسیم! میری خاطر دو ا پی لو‘ دیکھو میں تمھاری خاطر ہر کام کرتی ہوں۔ وسیم : امی جان! اچھا تو پھر آپ میری خاطر یہ دوا بھی پی لیجئے۔٭٭٭

باپ: کیا تمہارے سالانہ امتحان ختم ہو گئے ہیں؟

 بیٹا: جی ہاں! ابو جی! رزلٹ بھی نکل آیا ہے۔ 

باپ: پھر مجھے بتایا کیوں نہیں؟ 

بیٹا: اس لئے‘ ابو جی! کیونکہ مجھے نئے کورس کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔

٭٭٭

استاد: تمہاری لکھائی دن بدن خراب کیوں ہو رہی ہے۔

 شاگرد: جناب اس لئے کہ میرے ابو کی خواہش ہے کہ میں ڈاکٹر بنوں۔ 

٭٭٭

جج ملزم سے :تمہیں شرم نہیں آتی ؟ دن دہاڑے چوری کرتے ہوں۔

ملزم :جناب رات کو میں اپنے گھر کی نگرانی جوکرتا ہوں۔

٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

مطیعِ اعظم (آخری قسط )

ایک مرتبہ ایک آدمی نے انہیں اس انداز میں پکارا: ’’ اے سب سے اچھے یا سب سے اچھے انسان کے بیٹے‘‘۔عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ’’ نہ میں سب سے اچھا ہوں اور نہ سب سے اچھے انسان کا بیٹا ہوں، بلکہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہوں اور اس ذات باری تعالیٰ سے ڈرتا رہتا ہوں۔

بندر، خرگوش اور لومڑی

بندر، خرگوش اور لومڑی اکٹھے رہتے تھے اور ہمیشہ مل کر کام کرتے تھے۔لیکن لومڑی کو جب کچھ کھانے کو ملتا تو وہ اسے دوسروں سے بانٹنے سے انکار کر دیتی تھی۔

ایلیئنز کی واپسی

آج حاشر نے سکول سے گھر آکر خاموشی سے بیگ ایک طرف رکھا اور سیدھا نماز ِ ظہر کی ادائیگی کیلئے کپڑے بدل کر وضو کرنے لگا۔ اس کو یوں اچانک خاموش اور پھر نماز پڑھتا دیکھ کر دادی اور امی بہت حیران ہوئیں کہ حاشر تو بہت شرارتی ہے، اسے آج کیا ہو گیا ہے۔

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

سمندر کا فرش کس طرح کا ہے؟

قصور میرا نہیں اس بار

زندگی کے دن ہیں چارمانگ نہ تو کبھی اُدھار

پہیلیاں

اک ادا سے جب وہ تھرکےچھم چھم ناچ دکھائے