چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی میں تاخیر کے مضمرات
آزادجموں و کشمیر میں پیپلز پارٹی کے 60 دن کی کارکردگی تسلی بخش رہی۔ وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور کی کام کرنے کی رفتار یہی رہی توپیپلزپارٹی کو جولائی میں ہونے والے عام انتخابات میں ضرور اس کا فائدہ ہو گا۔
پچھلے دو ہفتوں کے دوران وزیر اعظم نے ضلع کوٹلی اور حویلی کے دورے کر کے انتخابی مہم کا غیر اعلانیہ آغاز کر دیا ہے۔موجودہ حکومت نے محکمہ صحت عامہ کے 2021ء سے ترقی کے منتظر 266 ملازمین کو اگلے گریڈز میں ترقی بھی دی ہے۔ گزشتہ دو ماہ میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے کئی اہم اقدامات کیے ہیں جن میں ہیلتھ کارڈ کی منظوری ،گریڈ ایک کے ملازمین کی مستقلی ، چھوٹے ملازمین کو ایک اضافی تنخواہ کی ادائیگی ، ڈرائیورز کا گریڈ چارسے بڑھا کر پانچ کرنے کے نوٹیفکیشن کا اجرا، نئی ٹرانسپورٹ پالیسی بنانے کا اعلان اور سرکاری افسران کو صرف ایک گاڑی رکھنے کا استحقاق شامل ہے۔علاوہ ازیں نیلم ڈسٹرکٹ ہسپتال کو 50سے بڑھا کر 100 بیڈ کرنے کا اعلان، 300سے زائد لیکچررز کی ایڈہاک تقرری ، پونچھ اور مظفرآباد کے تعلیمی بورڈز ، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں کے لیے مرحلہ وار سی ٹی سکین کی تنصیب ، بینک آف آزاد جموں و کشمیر کو شیڈولڈ کرنے کی منظوری،طلبہ یونین کی بحالی، جائیداد منتقل کرنے پر ٹیکس کم کرنے ، پانچ کے وی اور ساٹھ کے وی بجلی کے گھریلو اور کمرشل کے برابر ٹیرف ، بجلی کے 139ملین روپے کے بقایاجات معاف کرنے ، نواضلاع میں سالڈ ویسٹ منصوبے شروع کرنے ، پٹھیالی اور ہڑیالہ مظفرآباد میں پن بجلی گھر تعمیر کرنے ، انتظامی محکموں کی تعداد 20 کرنے اور ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز پر ویمن پولیس سٹیشن کے قیام کی منظوری جیسے منصوبے بھی شامل ہیں۔ حکومتی وسائل کو درست استعمال کرنے کے لیے 27 سیکرٹریز کو کم کر کے 20 تک لانے کی منظور ی بھی دی گئی ہے۔موجودہ حکومت نے عام آدمی کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی تو مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کا بیانیہ بھی پٹ گیا ۔ اب آزاد جموں و کشمیر میں بڑی جماعتوں کے ساتھ ساتھ چھوٹی علاقائی جماعتیں بشمول آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس بھی مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کو للکار رہی ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف اب نہ صرف آزاد جموں کشمیرکی سیاسی جماعتوں کے قائدین کھل کر بول رہے ہیں بلکہ لوگ بالخصوص نوجوان طبقہ بھی ان سے دور ہو رہا ہے۔
ادھر آزاد جموں و کشمیر چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی میں تاخیری حربے اختیار کئے جانے کے حوالے سے گزشتہ روز آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں وزیراعظم پاکستان و چیئرمین کشمیر کونسل میاں محمد شہباز شریف، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور اور اپوزیشن لیڈر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گی ہے ۔ بدھ کے روز ہائی کورٹ میں مقامی وکیل راجہ ذوالقرنین عابدنے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ آزاد جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے فیصلہ جو عدالت نے 23 ستمبر 2025 ء کو دیا تھا جس میں چیف الیکشن کمشنرکی تقرری کے احکامات جاری کئے گئے تھے ۔اس عدالتی فیصلے پر تاحال عمل نہیں کیا گیا۔درخواست میں وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور اور آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شاہ غلام قادر کو فریق بناتے ہو ئے کہا گیا کہ عدالتی حکم کے باوجود چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں تاخیر توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ ایک سال سے زائد عرصے سے خالی ہے اور آزاد جموں و کشمیر کے اس اہم آئینی ادارے کی تکمیل کے لیے ہائی کورٹ آزاد جموں کشمیر نے ستمبر 2025ء میں حکم جاری کیا تھا لیکن چار ماہ گزرنے کے باوجود چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی جاسکی۔
آزاد جموں و کشمیر میں چیف الیکشن کمشنر اور سینئر ممبر الیکشن کمیشن کی تقرری کے لیے وزیراعظم آزادکشمیر اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے تین ناموں پر مشتمل پینل کشمیر کونسل کے ذریعے وزیراعظم پاکستان کو بھیجا جاتا ہے اور وزیر اعظم پاکستان بطور چیئرمین کشمیر کونسل پینل میں سے ایک امیدوار کو چیف الیکشن کمشنر تعینات کرنے کی منظوری دیتے ہیں، لیکن ہائی کورٹ کے فیصلے کے باوجود تاحال چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے حوالے سے تینوں اہم ذمہ داریوں پر فائز لوگوں نے کوئی پیش رفت نہیں کی اور نہ ہی وزیر اعظم آزاد کشمیر اور اپوزیشن لیڈر نے مشاورت کر کے اس اہم آئینی عہدہ کے لیے ناموں کا پینل وزیر اعظم پاکستان کو بھیجا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی آئینی مدت جولائی 2026 ء میں ختم ہورہی ہے اور اس آئینی مدت کے خاتمے سے 90 روز قبل عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہونا ضروری ہے جبکہ حلقہ بندیوں اور رائے دہندگان کی فہرستوں کی ازسر نو تیاری کے لیے کم از کم 8 ماہ کا وقت چاہے لیکن چیف الیکشن کمشنر نہ ہونے کی وجہ سے الیکشن کمیشن غیر فعال اور آئینی لحاظ سے نامکمل ہے۔توہین عدالت کی اس درخواست میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ اگر فروری تک چیف الیکشن کمشنر اور سینئر ممبر الیکشن کمیشن کی تقرری عمل نہ لائی گی تو جولائی میں ہونے والے عام انتخابات تاخیر کا شکار بھی ہو سکتے ہیں جس کی وجہ سے آزاد جموں و کشمیر میں سیاسی نظام کمزور ہو سکتا ہے۔