بھرتیوں کے عمل کی ڈیجیٹلا ئزیشن گڈ گورننس کی جانب پیش رفت
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں حکومت بلوچستان نے صوبے کو درپیش مسائل کے حل کیلئے عملی اور قانونی اقدامات کی ایک نئی مثال قائم کی ہے۔
صوبائی کابینہ کے 22ویں اجلاس میں نہ صرف مسنگ پرسنز کے معاملے کو مستقل قانونی فریم ورک میں لایا گیا بلکہ گورننس، تعلیم، سیکورٹی، سماجی تحفظ اور ترقیاتی شعبوں میں ایسے فیصلے کئے گئے جو عوامی اعتماد کی بحالی اور ریاستی رٹ کے استحکام کی عکاسی کرتے ہیں۔
صوبائی کابینہ نے گڈ گورننس، میرٹ کے فروغ، تعلیمی اصلاحات اور سماجی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی۔اجلاس میں بلوچستان میں دو نئے ڈویژن پشین اور کوہ سلیمان کے قیام جبکہ ضلع پشین میں میونسپل کمیٹی کربلا کے قیام کی بھی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ ضلع زیارت کو انتظامی طور پر ڈویژن لورالائی کا حصہ بنایا جائے گا۔صوبائی کابینہ نے میرٹ کے فروغ کیلئے تمام محکموں میں بھرتیوں کے عمل کو مرحلہ وار ڈیجیٹلا ئزڈ کرنے کا فیصلہ کیا۔ بلوچستان بھر میں کنٹریکٹ پر بھرتی اساتذہ کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کرانے کی منظوری بھی دی گئی۔ کابینہ نے قومی نصاب کو نئے تعلیمی سال 2026-27 ء سے صوبائی نصاب کا حصہ بنانے پر بھی اتفاق کیا۔صوبائی کابینہ نے محکمہ مذہبی امور کو ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس کے ملازمین کو دیگر محکموں میں ایڈجسٹ کرنے کی منظوری دے دی۔ اس کے علاوہ نئے ڈویژن اور اضلاع کی تشکیل پر غور کا فیصلہ بھی کیا گیا۔کابینہ نے 16 سال سے کم عمر بچوں سے جبری مشقت پر مکمل پابندی عائد کرنے کی منظوری بھی دی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں مسنگ پرسنز کے مسئلے کو طویل عرصے سے ریاست کے خلاف پروپیگنڈا ٹول کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ صوبے میں بعض عناصر اور جماعتیں اس حساس معاملے پر سیاست کرتی رہیں مگر مسئلے کے مستقل اور قانونی حل کیلئے کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ یکم فروری کے بعد ریاست یا حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کی جبری گمشدگی نہیں ہوگی اور اس حوالے سے واضح قانونی فریم ورک موجود ہوگا،ہم نے اس مسئلے کو ہمیشہ کیلئے دفن کر دیا ہے جس سے ریاست پر لگنے والے جبری گمشدگی کے الزامات اور اس بنیاد پر ہونے والے پروپیگنڈے کا خاتمہ ہوگا۔ بلوچستان میں سیکورٹی فورسز گرے زونز میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران تفتیش اور پوچھ گچھ کرتی ہیں، مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا جاتا ہے تاہم یکم فروری کے بعد مسنگ پرسنز کا مسئلہ ختم ہو جائے گا ۔ اس ضمن میں ایک لیگل فریم ورک موجود ہوگا، اگر کوئی فرد دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں غائب ہوتا ہے یا خود روپوش ہوجاتا ہے تو اس کی ذمہ داری ریاست پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ گمشدگی کے دعوؤں کی جانچ کیلئے عدالتیں اور متعلقہ کمیشن موجود ہیں مگر بدقسمتی سے بلوچستان میں خود ساختہ گمشدگی کا تاثر قائم کر کے ریاست کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا جاتا ہے، ہماری حکومت نے ایک ایسے مسئلے کو حل کیا جس پر برسوں سیاست کی جاتی رہی۔
دوسری جانب محکمہ خزانہ بلوچستان میں 111 پوسٹوں پر ہونے والی بھرتیوں نے بلوچستان میں ایک ایسی روایت شروع کی ہے جسے صوبے کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ستائش کی نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔ یہ محض چند اسامیوں پر بھرتیوں کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسے طرز حکمرانی کی علامت بن کر سامنے آئی ہیں جس کا خواب بلوچستان کے نوجوان دہائیوں سے دیکھتے آئے ہیں۔ بھرتیوں کے غیر شفاف نظام نے طویل عرصے سے اس صوبے کے قابل، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوانوں کو مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل رکھا تھا۔اس نظام میں میرٹ ایک خواب، سفارش ایک ہنر اور رشوت ایک لازمی شرط بن چکی تھی۔بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے یہ کوئی نئی بات نہیں کہ سرکاری اسامیوں کیلئے باقاعدہ ’بولیاں‘ لگتی تھیں۔ ماضی میں ایسے بے شمار واقعات سامنے آئے جہاں بھرتیوں کے عمل پر انگلیاں اٹھیں، ٹیسٹ اور انٹرویوز مشکوک قرار پائے اور میرٹ کی پامالی کے الزامات نے نہ صرف متعلقہ محکموں بلکہ پوری حکومتوں کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ ہر نئی حکومت کے ساتھ امید جاگتی مگر چند ہی مہینوں میں وہ امید ایک اور مایوسی میں بدل جاتی۔حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں سرکاری نوکری حاصل کرنے کیلئے یا تو مضبوط سیاسی اثر و رسوخ درکار رہا ہے یا بھاری رقوم۔ عام اور متوسط طبقے کا نوجوان جو نہ تو سیاسی پشت پناہی رکھتا تھا اور نہ ہی لاکھوں روپے دینے کی استطاعت ہمیشہ اس دوڑ میں پیچھے رہ گیا یہی وجہ ہے کہ صوبے میں بے روزگاری صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور نفسیاتی بحران بن چکی تھی۔تاہم محکمہ خزانہ میں پیپر لیس بھرتیوں کا عمل بلوچستان کیلئے ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔
اس عمل نے پہلی بار یہ تاثر دیا ہے کہ شاید اب واقعی حالات بدل رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے انسانی مداخلت کو کم کرنا، سفارش اور دباؤ کے دروازے بند کرنا اور امیدواروں کو یکساں مواقع فراہم کرنا وہ اقدامات ہیں جو جدید طرزِ حکمرانی کی پہچان سمجھے جاتے ہیں۔حکومت بلوچستان کے اس فیصلے کو اس لئے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ بلوچستان جیسے صوبے میں جہاں بداعتمادی کی فضا گہری ہو چکی ہو وہاں اعتماد کی بحالی سب سے بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ نوجوانوں کو یہ یقین دلانا کہ ان کی محنت، تعلیم اور صلاحیت ہی ان کا اصل سرمایہ ہے کسی بھی حکومت کیلئے ایک بڑی کامیابی تصور کی جاتی ہے۔ میرٹ پر بھرتیاں روزگار فراہم کرنے کا ذریعہ ہی نہیں یہ امن و استحکام، سماجی ہم آہنگی اور ریاستی رٹ کے استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جب نوجوان خود کو نظام کا حصہ محسوس کرتے ہیں تو ان میں احساسِ محرومی کم ہوتا ہے، احتجاجی رجحانات میں کمی آتی ہے اور ریاست کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا ہے۔عوامی حلقوں میں یہ طالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ حکومت کو نہ صرف بھرتیوں بلکہ ترقیوں، تبادلوں اور دیگر انتظامی فیصلوں میں بھی شفافیت کو یقینی بنانا ہوگا۔ میرٹ ایک شعبے تک محدود نہیں رہتا یہ یا تو پورے نظام کا حصہ بنتا ہے یا پھر آہستہ آہستہ دم توڑ دیتا ہے۔ پیپر لیس بھرتیوں کے عمل سے امید کی جو کرن پیدا ہوئی ہے اگر یہ کرن مستقل روشنی میں تبدیل ہو جاتی ہے تو بلوچستان کے نوجوانوں کو پہلی بار یہ یقین نصیب ہوگا کہ ان کا مستقبل سفارش یا دولت نہیں بلکہ قابلیت اور محنت سے جڑا ہوا ہے۔ یہی وہ تبدیلی ہے جس کی بلوچستان کو برسوں سے تلاش تھی۔