تیراہ متاثرین کاانخلا صوبائی حکومت کیا کررہی ہے؟
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ایک پارٹی کارکن کی تعزیت کے لیے جس وقت کراچی گئے تھے ان کے ضلع خیبرکے علاقے تیراہ کے لوگ نقل مکانی کررہے تھے۔
سہیل آفریدی نے کراچی کے دورے کے بعد ضلع خیبرکا دورہ کیا اور متاثرین سے ملاقات کی ۔یہ تیراہ کے عوام کا دوسری مرتبہ اپنے علاقوں سے انخلا ہے۔ اس سے قبل ان علاقے کے لوگوں نے شدت پسندوں سے بات چیت کے لیے وقت مانگا تھا، متعدد جرگے شدت پسندوں سے ملے اور اُن سے یہ علاقہ خالی کرنے کا کہا گیا مگر شدت پسندوں نے علاقہ چھوڑنے سے انکار کر دیا ۔مقامی لوگ خود ان لوگوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے سے بھی قاصر تھے جس کے بعد یہاں پہلے سے جاری ٹارگٹڈ آپریشنز کو مزید تیز کرنے اورمقامی لوگوں کو جانی نقصان سے بچانے کے لیے ان کے انخلا کا فیصلہ کیاگیا ۔یہ فیصلہ ایک معاہدے کی صورت میں ہوا ، لیکن ان متاثرین کو ابتدا ہی سے مشکلات کا سامنا کرناپڑرہاہے۔ رجسٹریشن کا جو طریقہ کار رکھاگیا ہے وہ خاصا پیچیدہ ہے تاہم وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دورے کے بعد صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے ۔ان کی جانب سے تمام انتظامی افسروں کو جو رجسٹریشن کے مراحل میں درکار ہیں، رجسٹریشن کیمپ میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔
ماضی میں بھی ان علاقوں میں آپریشن کئے گئے اور لوگوں کو انخلا کرنا پڑا لیکن اس وقت کی صوبائی حکومت نے اس معاملے کی ذمہ داری قبول کی اور اس میں وفاق کی جانب سے بھی تعاون کیا گیا ۔یہاں معاملہ دوسرا ہے صوبائی حکومت اگرچہ وفاق کے ساتھ تعاون کررہی ہے لیکن آپریشن اور متاثرین کے انخلا کی ذمہ داری نہیں لے رہی ۔یہ ممکن ہی نہیں کہ صوبائی حکومت کی مرضی کے بغیر یہ انخلا ممکن ہو۔یہ تاثر دیاجارہا ہے کہ ان علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن اور لوگوں کا انخلاشاید وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پردباؤ ڈالنے کیلئے کیاجارہا ہے، لیکن یہ تاثر درست نہیں ۔وادی تیراہ میں گزشتہ سال سے ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہیں، یہ آپریشن اسی طرح ہیں جیسے دیگر اضلاع میں ہورہے ہیں تاہم اس علاقے کی جغرافیائی صورتحال دیگر علاقوں سے خاصی مختلف ہے ۔اونچے پہاڑوں اور گھنے جنگلات کے بیچوں بیچ یہ آپریشن محتاط طریقے سے انجام دیئے جارہے ہیں۔ یہاں وہ علاقے بھی ہیں جہاں باڑ لگانا سب سے مشکل کام تھا۔
افغانستان سے متصل اس علاقے میں دیگر کالعدم تنظیمیں بھی جمع ہورہی ہیں جس کے پیش نظریہاں کاصفایاضروری ہے۔ آپریشن کا فیصلہ کئی ماہ قبل ہی کرلیا گیاتھا جو اُس وقت کے موسم کے حساب سے موزوں تھا لیکن مقامی لوگوں کی درخواست پر یہ مؤخر کر دیاگیا۔ لوگوں کا کہناتھا کہ وہ دہشت گردوں کو جرگہ کے ذریعے اس علاقے سے انخلا پر مجبور کریں گے لیکن ایسا نہیں ہوسکاجس کی وجہ سے اس موسم میں یہ آپریشن شروع کیاگیا ہے۔ اس علاقے کو آئندہ چند ماہ میں کلیئر کردیاجائے گا۔ ماضی قریب میں بھی ان قبائلی اضلاع کو دہشت گردوں سے پاک کردیاگیاتھا۔ بیشتر دہشت گرد مارے گئے اور بہت سے افغانستان کی جانب دھکیل دیئے گئے ۔اس کے بعد ان علاقوں کی بحالی ،ترقی اورنظم ونسق کی ذمہ داری وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی تھی۔ اسی مقصد کیلئے قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخوامیں ضم کیاگیا لیکن امن وامان کی اس بہتر فضا کا فائدہ نہیں اٹھایاجاسکا۔اُس وقت کی وفاقی حکومت بھی ان علاقوں کے متاثرہ عوام کو کوئی ریلیف نہیں دے سکی۔ اس کے بعد وفاق میں آنے والی حکومتوں نے بھی ایسا ہی کیا۔
صوبائی حکومت کو کسی صورت اس تمام صورتحال سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دہشت گردی یہاں کیوں دوبارہ پنپ رہی ہے یہ سوال صوبائی حکومت سے بھی بنتا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت ضم شدہ اضلاع میں صحت، تعلیم، روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں ناکام نظر آئی۔ اسی طرح وفاق نے بھی صوبائی حکومت کا اس معاملے میں ساتھ نہیں دیا۔ماضی کی غلطیوں کی وجہ سے دہشت گردی کی اس آگ میں خیبرپختونخوا بالعموم اور قبائلی اضلاع بالخصوص جل رہے ہیں ۔شومئی قسمت کہ اتنے خراب حالات کے باوجود وفاق اور صوبہ ایک پیج پر نہیں آسکے ۔وفاق اور صوبے کے مابین سیاسی درجہ حرارت اتنا بڑھ چکا ہے کہ دہشت گردی کی صورتحال بھی انہیں متحد کرنے پر آمادہ نہیں کرسکی ۔
سپیکر خیبرپختونخو ااسمبلی کی جانب سے بلائے گئے امن جرگہ میں بھی اس بات پر زور دیاگیاتھاکہ صوبے اور وفاق کے مابین حالات بہتر بنائے جائیں، اسی طرح گزشتہ روز اسمبلی اجلاس میں ایک بارپھر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کہاگیاکہ صوبائی حکومت اپنا دل بڑا کرے اور وفاق کے ساتھ بیٹھ کراپنے مسائل حل کرے۔اپوزیشن کی جانب سے اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ وزیراعلیٰ پندرہ اکتوبر سے ایوان میں نہیں آئے۔اپوزیشن نے ایک بار پھر امن جرگہ بلانے کی تجویز بھی دی۔ خیبرپختونخوا حکومت اور اپوزیشن کے مابین اچھا تعلق قائم ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے صوبائی حکومت کو ٹف ٹائم نہیں دیاجاتا، اس ماحول میں وفاق کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اورمسائل کے حل کیلئے صوبائی حکومت اپوزیشن کااچھا استعمال کرسکتی ہے لیکن ایسا نہیں کیاجارہا جس کی وجہ سے تاثر ابھررہاہے کہ شاید معاملات جان بوجھ کر الجھائے جارہے ہیں، تاہم وقتی فائدے کے لیے معاملات الجھانے کے اثرات مستقبل قریب میں خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔
علی امین گنڈاپور کی طرح وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بھی اب بیرونی محاذ کے ساتھ اندرونی اختلافات ،گروپ بندی اور تنقید کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔ جوتنقید علی امین گنڈاپور پر کی جارہی تھی وہ اب سہیل آفریدی پر بھی شروع کردی گئی ہے ۔ان سے پوچھاجارہاہے کہ وہ اب تک ڈرون حملے رکوانے میں کامیاب کیوں نہیں ہوسکے ہیں؟اسی طرح تیراہ متاثرین کاانخلا کیوں نہیں روکاجاسکا ،بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے انہوں نے کیااقدامات کئے ہیں؟یہ تنقید کے وہ نشتر تھے جو اس سے قبل علی امین گنڈاپور نے اپنے مخالفین سے کھائے، اب ان کے رفقا یہی طنز کے نشتر سہیل آفریدی پر چلارہے ہیں ۔پی ٹی آئی کے اندرونی حلقوں میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ہٹانے کی بات بھی کی جارہی ہے لیکن کیا یہ اتنا آسان ہوگا؟اگرچہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا پارٹی کے اندر کوئی مضبوط گروپ نہیں لیکن بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان مختلف مواقع پر ان کی تعریف کر چکی ہیں۔ آئی ایس ایف میں بھی سہیل آفریدی کافی مقبول ہیں۔سہیل آفریدی کو منصب اقتدار سے ہٹایابھی گیا تو یہ فیصلہ ماضی قریب کی طرح بانی پی ٹی آئی کی طرف سے ہی آئے گا بصورت دیگر ان کا ہٹناقرین قیاس نہیں،تاہم یہ ضرور ہے کہ پارٹی کے اندر اب ایک نئی صف بندی ہو رہی ہے اور پہلے سے موجود اختلافات کی خلیج مزید گہری ہوتی نظرآرہی ہے۔ آٹھ فروری بھی قریب ہے ایسے میں پارٹی میں اختلافات کی دراڑوں کو بھرے بغیر ہڑتال کی کال کو کامیاب کرناممکن نہ ہو گا۔