مسائل اور ان کا حل

تحریر : مفتی محمد زبیر


مقدس کلمات والے تعویذ کی بے حرمتی جائز نہیں سوال: گھر سے نکلا ہواتعویذجس پر آیات قرآنیہ لکھی ہوں، اسے پھینکنا گناہ تو نہیں؟ (محمد حماد، اسلام آباد)

جواب: جس کاغذپر قرآنی آیات یا مقدس کلمات لکھے ہوں اسے پھینکنا ناجائز اور گناہ ہے جس سے بچنا ضروری ہے۔ اس کے الفاظ دھوکر پانی کو کسی بہادیا جائے یا اس کاغذ کو کسی پاک جگہ دفن کردیا جائے ۔

وضو میں گلے کا مسح بدعت اور گردن کا مسح مستحب

سوال: کیا وضو میں گردن کا مسح سنت ہے ؟ اور کیا گلے کا بھی مسح کیا جائے گا ؟ (محمد الیاس، کراچی)

جواب: گردن کا مسح مستحب اورسنت ہے، البتہ حلقوم (گلے) کا مسح سنت سے ثابت نہیں، لہٰذا بدعت ہے ۔

موبائل کی تلاوت میں سجدۂ تلاوت کا مسئلہ  

سوال: موبائل پر ریکارڈ شدہ تلاوت قرآن پراگر آیت سجدہ سنی تو کیا سجدہ کرناہوگا؟ (بلال، لاہور)

جواب: موبائل میں تلاوت قرآن سننے کے دوران آیت سجدہ سننے سے سجدۂ تلاوت شرعاً واجب نہیں ہوتا۔(ملاحظہ ہو آلاتِ جدیدہ کے شرعی احکام:165)

خواتین کیلئے اذان سے پہلے نماز پڑھنا 

سوال: کیا عورتوں کیلئے فرض نماز پڑھنے کیلئے اذان ہونا ضروری ہے یا وہ اذان سے پہلے نماز پڑھ سکتی ہیں؟

جواب:  اگر وقت داخل ہوچکا ہے تو نماز ہوجائے گی۔

 سونے چاندی کے دانت کامسئلہ  

سوال: کیا سونے چاندی کے دانت لگواسکتے ہیں ؟(کلیم اللہ لاہور)

جواب: مصنوعی دانت لگواناشرعاً جائز ہے نیز سونے اور چاندی کے دانت لگوانے کی بھی گنجائش ہے لیکن اگر چاندی سے کام چل جائے تو سونے سے پرہیز کرنا چاہئے ۔

عدت کی حکمت کیا ہے؟

سوال: شوہر کے مرجانے یا طلاق وغیرہ کے بعد اسلام میں عورت کیلئے عدت کاجو تصورہے اس کی حکمت کیا ہے؟(رابعہ نورین، سکھر)

جواب: ہمیں اپنا ذہن یہی بنانا چاہئے کہ ہمیں اللہ کے ہر حکم کے آگے سر تسلیم خم کرنا ہے، چاہے اس کا کوئی ظاہری فائدہ یا حکمت سمجھ آئے یا نہیں۔ تاہم علمی طور پر سمجھنے کیلئے اس حکم کی حکمت معلوم کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ اسلام میں عدت کے شرعی حکم کی بہت سی حکمتیں ہوسکتی ہیں، جن میں سے چند ایک یہ معلوم ہوتی ہیں ۔  (1) رحم کے خالی ہونے کا علم تاکہ ایک ہی رحم میں دو شخصوں کانطفہ جمع نہ ہونے پائے، (2) نکاح کی عظمت کا اظہار، (3) طلاق رجعی دینے والے کو طویل وقت دینا کہ شاید وہ اپنے کئے پر نادم ہو اور سوچ بچار کرلے ،(4) زیب و زینت چھوڑ کر خاوند کے فقدان کے اثر کا اظہار کرنا ،(5)اللہ کے حق کو قائم کرنا جو اس نے واجب کیا ہے۔ (حجۃاللہ البالغۃ:2؍143)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 16)

واقعہ موسیٰ علیہ السلام:سولہویں پارے میں حضرت موسیٰ و حضرت خضر علیہما السّلام کے درمیان ہونے والی گفتگو بیان کی جا رہی تھی کہ حضرت خضر علیہ السّلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: جن اَسرار کا آپ کو علم نہیں، اُن کے بارے میں آپ صبر نہیں کر پائیں گے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 16)

موسیٰ و خضر علیہ السلام:سولہویں پارے کا آغاز بھی سورۃ الکہف سے ہوتا ہے۔ پندرھویں پارے کے آخر میں جناب ِموسیٰ علیہ السّلام کی جنابِ خضر علیہ السّلام سے ملاقات کا ذکر ہوا تھا‘ جنابِ موسیٰ علیہ السّلام حضرت خضر علیہ السّلام کی جانب سے کشتی میں سوراخ کرنے اور پھر ایک بچے کو قتل کر دینے کے عمل پر بالکل مطمئن نہ تھے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سورہ بنی اسرائیل: سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کے معجزۂ معراج کی پہلی منزل‘ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا ذکر صراحت کے ساتھ ہے۔ یہ تاریخ نبوت‘ تاریخ ملائک اور تاریخ انسانیت میں سب سے حیرت انگیز اور عقلوں کو دنگ کرنے والا واقعہ ہے۔ اس کی مزید تفصیلات سورۃ النجم اور احادیث میں مذکور ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سفر اسراء:پندرھویں پارے کا آغاز سورۂ بنی اسرائیل سے ہوتا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کے شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی‘ جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں‘ بے شک وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

اہل جہنم:چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہل جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائے گا تو کفار تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے اور اس مرحلے پر نجات پا لیتے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

فرشتوں کا اتارنا:چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کیلئے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو پھر اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی۔