پہیلیاں
کھائے لوہا اگلے آگگائے ہر دم موت کے راگ
(توپ)
ایک خزانہ پانے والا
گورا تھا پر اب ہے کالا
جب تک کہلاتا تھا گورا
علم سے تھا وہ بالکل کورا
( لکھا ہوا کاغذ)
ہو گر ایک تو ہے بے کار
سب کو ہیں دونوں درکار
(جوتا/جراب)
اجلا پنڈا رنگ نہ باس
کام کی شے ہے رکھنا پاس
(سکہ)
اس کا دیکھا ڈھنگ نرالا
گرمی میں لگتا ہے پالا
سردی میں وہ گرمی لائے
سردی گرمی مل کر آئے
(ملیریایا بخار)
کالا گھر سے جاتا دیکھا
جلدی جلدی جائے
اپنے گھر کو ایسا چھوڑے
پھر واپس نہ آئے
(دھواں)