جادوئی ہانڈی

تحریر : ملک احسن اعوان، راولپنڈی


ایک غریب عورت اپنے بیٹے کے ساتھ رہتی تھی۔ ایک دن ایک امیر آدمی ان کے گھر آیا تو ماں نے اپنے بیٹے سے کہا، جائو مہمان کے کھانے کیلئے کچھ لے آؤ۔ بیٹے نے ہانڈی میں چاول کا صرف ایک دانہ ڈالا اور اسے پکنے کیلئے چولھے پر چڑھا دیا۔

امیر آدمی بہت حیران ہوا اور بولا: تم نے ہانڈی میں صرف ایک دانہ ڈالا ہے۔ یہ میرے کھانے کیلئے کافی نہیں ہے۔

بیٹے نے کہا: فکر نہ کریں، بس انتظار کریں۔ امیر آدمی خاموش رہا اور بیٹا باورچی خانے میں چلا گیا۔

 جب چاول پک گئے تو بیٹا ہانڈی لے کر آیا اور اس میں سے چاول باہر نکالے۔ ایک پیالہ بھرا اور ادب سے اس امیر آدمی کے سامنے رکھ دیا۔ 

امیر آدمی نے حیرت سے پوچھا: تم نے ایک دانے سے ایک پیالہ چاول کیسے حاصل کر لیا؟

عورت نے جواب دیا: یہ ایک جادوئی ہانڈی ہے۔ اگر اس میں چاول کا ایک دانہ بھی پکایا جائے تو پورا پیالہ بھر جاتا ہے۔

امیر آدمی نے ہانڈی خریدنا چاہی۔ پہلے تو عورت نے انکار کردیا، لیکن جب امیر آدمی نے اسے چاندی کے دو سو سکے پیش کیے تو وہ مان گئی۔

امیر آدمی ہانڈی خرید کر گھر لے گیا۔ اس نے دیکھا کہ وہ اندر سے بہت گندی ہے۔ اس نے اسے دھو کر اس میں چاول کا ایک دانہ ڈالا اور ڈھکن بند کر دیا۔ جب ہانڈی پک گئی تو اس نے ڈھکن اٹھایا تو اندر صرف ایک ہی دانہ تھا۔

امیر آدمی کوبہت غصہ آیا۔ وہ واپس عورت کے گھر آیا اور سارا واقعہ اسے سنایا۔

عورت کے بیٹے نے پوچھا: کیا آپ نے ہانڈی صاف کی تھی؟

امیر آدمی نے جواب دیا:ہاں، کیوں کہ وہ گندی تھی۔

عورت کے بیٹے نے کہا: اس ہانڈی کو صاف نہیں کیا جا سکتا۔ اگر آپ اسے صاف کردیں گے تو یہ عام ہانڈی جیسی بن جاتی ہے۔

امیر آدمی نے کچھ نہ کہا اور شرمندگی کے ساتھ واپس اپنے گھر چلا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 16)

واقعہ موسیٰ علیہ السلام:سولہویں پارے میں حضرت موسیٰ و حضرت خضر علیہما السّلام کے درمیان ہونے والی گفتگو بیان کی جا رہی تھی کہ حضرت خضر علیہ السّلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: جن اَسرار کا آپ کو علم نہیں، اُن کے بارے میں آپ صبر نہیں کر پائیں گے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 16)

موسیٰ و خضر علیہ السلام:سولہویں پارے کا آغاز بھی سورۃ الکہف سے ہوتا ہے۔ پندرھویں پارے کے آخر میں جناب ِموسیٰ علیہ السّلام کی جنابِ خضر علیہ السّلام سے ملاقات کا ذکر ہوا تھا‘ جنابِ موسیٰ علیہ السّلام حضرت خضر علیہ السّلام کی جانب سے کشتی میں سوراخ کرنے اور پھر ایک بچے کو قتل کر دینے کے عمل پر بالکل مطمئن نہ تھے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سورہ بنی اسرائیل: سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کے معجزۂ معراج کی پہلی منزل‘ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا ذکر صراحت کے ساتھ ہے۔ یہ تاریخ نبوت‘ تاریخ ملائک اور تاریخ انسانیت میں سب سے حیرت انگیز اور عقلوں کو دنگ کرنے والا واقعہ ہے۔ اس کی مزید تفصیلات سورۃ النجم اور احادیث میں مذکور ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سفر اسراء:پندرھویں پارے کا آغاز سورۂ بنی اسرائیل سے ہوتا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کے شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی‘ جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں‘ بے شک وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

اہل جہنم:چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہل جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائے گا تو کفار تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے اور اس مرحلے پر نجات پا لیتے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

فرشتوں کا اتارنا:چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کیلئے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو پھر اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی۔