مظلوم کشمیری تنہا نہیں!

تحریر : محمد اسلم میر


پانچ فروری کو وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پورا دن مظفرآباد میں گزار کرمقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو واضح پیغام دیا کہ وہ جدوجہد آزادی میں تنہا نہیں ہیں۔

 پاکستانی حکومت اور عوام ان کی حمایت تب تک جاری رکھیں گے جب تک انہیں اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت نہ دیا جائے۔ مظفرآباد پہنچتے ہی وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے یادگار شہدا پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور شہدا کیلئے دعا کی۔وزیر اعظم شہباز شریف نے آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب بھی کیا اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کی مذمت کی۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مظفرآباد میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کیلئے تقریب سے خطاب کیا۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل نے تفصیل کے ساتھ مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری جدو جہد آزادی پر روشنی ڈالی اور بہادر مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتے کہا کہ دنیا کو جنوبی ایشیا میں مستقل امن کے قیام کو یقینی بنانے کیلئے مسئلہ جموں و کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنا ہوگا۔ معرکہ حق کے بعد بھارت کو اندازہ ہو گیا کہ پاکستان 1947ء اور 1971ء والا نہیں۔ پاکستان نیپال، بنگلہ دیش اور بھوٹان کی طرح بھی نہیں۔ بھارت سے پرانی تاریخ پاکستان کی ہے۔ دنیا کی پہلی یو نیورسٹی بھی ٹیکسلا میں تھی اور ہمیں اپنے اسلاف پر فخر ہے جنہوں نے اس خطے پر ایک ہزار سال تک حکومت کی ہے۔

پاکستان بننے سے پہلے بھی مسلمان ہی اس خطے میں اغیار اور باہر کی قوتوں کے خلاف لڑتے رہے۔ جنگیں لڑنا ہمارے خون میں شامل ہے اور پاکستان قوم کے اس جنگجوانہ مزاج اور صلاحیت کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا ہے۔ پاکستان کی قوم اس بات پر ایمان رکھتی ہے کہ ذلت پر ہم موت کو ترجیح دیتے ہیں اور اس جذبے کے تحت اس قوم نے معرکہ حق بھی لڑا۔ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں جو قوانین تبدیل کر رہا ہے ان کوئی حیثیت نہیں کیونکہ مسئلہ جموں و کشمیر ایک عالمی مسئلہ ہے جو اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری ہی کریں گے۔ فیلڈ مارشل نے واضع کیا کہ سندھ طاس معاہدہ دو ممالک کے درمیان نہیں بلکہ اس میں عالمی برادری اور ادارے بھی شامل ہیں لہٰذا اس معاہدہ کی پاسداری دونوں ملکوں کی ذمہ داری ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ یوم یکجہتی کشمیر کا بنیادی مقصد اہل مقبوضہ جموں وکشمیر کی عظیم الشان قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنا اور پوری قوم کو اس بات پر اکٹھاکرنا ہے کہ ہم نے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت تب تک جاری رکھنی ہے جب تک انہیں آزادی نہیں ملتی۔

پاکستان مسئلہ کشمیر اور کشمیری عوام کی حمایت سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا کیونکہ یہ پاکستان کی عوام کا فیصلہ ہے۔ کشمیریوں نے بھی معرکہ حق میں پاکستان کی طاقت دیکھی اور یہی طاقت ان کی آزادی کی ضامن ہو گی۔ آج دنیا اسی طاقت کے مظاہرے کے بعد پاکستان کی طرف آرہی ہے۔ تمام عرب اور مسلم ممالک پاکستان کی عسکری طاقت پر نازاں ہیں۔ ہر ملک پاکستان سے مدد چاہتا ہے اور پاکستان بھی انہیں مایوس نہیں کرئے گا۔ معرکہ حق کے بعد آج پاکستان کی جو قدر اور عزت ہے تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ پاکستان کی موجودہ طاقت پاکستان کی عوام کی وجہ سے ہے۔ فیلڈ مارشل نے اپنی تقریر میں قرآنی آیات کے علاوہ جس خوبصورتی کے ساتھ علامہ اقبال کے اشعار پڑھے اور ان کا حوالہ دیا اس سے لگتا ہے کہ ان کی شخصیت پر فکر اقبال کا گہرا اثر ہے۔ 

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ اقبال نے ہمیشہ قوم کی ترقی میں انفرادی کردار پر زور یا ہے اور کہا کہ کسی بھی قوم کا عروج و زوال اس کے افراد کی محنت، اخلاق اور کردار پر منحصر ہے اور ہر شخص اپنی قوم کیلئے رہنمائی کا ذریعہ بنے۔ پاکستان کے بچوں کو اقبال کے شاہین بنائیں اور جنریشن زی کی جگہ جنریشن پی یعنی جنریشن پاکستان تیار کریں جو فکر اقبال اور نظریہ پاکستان سے لیس ہوں۔ اگر آج مسلمان پریشان ہیں وہ صرف اس وجہ سے ہیں کہ انہوں نے علم سیکھنا چھوڑ دیا حالانکہ ہمارے پیارے نبیﷺ کو پہلے اقرا سکھایا گیا یعنی پڑھائی۔ کوئی بھی قوم اب صرف علم سے زندہ رہے گی اور اپنے آپ کو جو ہر وقت تیار رکھئے یعنی اپنی قوت میں اضافہ کیجئے۔ فیلڈ مارشل نے بہت خوبصورت انداز میں کہا کہ کس نے مسلمان ممالک کو دفاع مضبوط کرنے سے منع کیا۔ اس دنیا میں کمزور کی کوئی جگہ نہیں اور نہ کمزور کی کوئی بات سنتا ہے۔ فیلڈ مارشل نے علم اور دفاع کے ساتھ ساتھ کردار سازی پر بھی زور دیا اور کہا کہ اللہ بھی ان لوگوں سے خوش ہوتا ہے اور ان کی مدد کرتا ہے جو کردار میں اعلیٰ ہوں۔

آزاد کشمیر کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنے اندر تقسیم ختم کریں۔ بھارت نے نو میں سے چھ حملے آزاد جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں کئے لیکن پھر دنیا نے دیکھ لیا ہم نے معرکہ حق میں کس طرح ان حملوں کا بھارت سے بدلہ لیا۔ نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے بجائے کتاب کے ساتھ جوڑ دیں اور جو عناصر آزاد کشمیر میں مسائل پیدا کرنا چاہتے ہیں ان سے کہیں کہ ان لوگوں سے پوچھیں جن کے پاس سکون سے رہنے کیلئے جگہ نہیں۔ فلسطین، شام اور یمن کی حالت دیکھ لیں۔ آزادی اور اس علاقے میں امن کی قدر کرنے کے ساتھ ساتھ شکر بھی کریں تاکہ رب مزید عطا کرے۔ رب کا فرمان ہے کہ شکر ادا کروگے تو میں مزید عطا کروں گا اور ناشکری کرو گے تو میرا عذاب شدید تر ہو گا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ اپنی نوجوان نسل کو قرآن، سیرت اور فکرِ اقبال سے روشناس کریں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 18)

سورۃ المؤمنون: سورہ مؤمنون کی ابتدائی گیارہ آیات تعلیماتِ اسلامی کی جامع ہیں‘ ان میں فلاح یافتہ اہلِ ایمان کی یہ صفات بیان کی گئی ہیں۔ نمازوں میں خشوع وخضوع‘ ہر قسم کی بیہودہ باتوں سے لاتعلقی‘ زکوٰۃ کی ادائیگی‘ اپنی پاکدامنی کی حفاظت‘ امانت اور عہد کی پاسداری اور نمازوں کی پابندی۔ آخر میں فرمایا کہ ان صفات کے حامل اہلِ ایمان ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 18)

سورۃ المؤمنون:اٹھارہویں پارے کا آغاز سورہ مومنون سے ہوتا ہے‘ جس میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے اس گروہ کا ذکر کیا ہے جو جنت کے سب سے بلند مقام یعنی فردوس کا وارث بننے والا ہے۔

غزوہ بدر:حق و باطل کا پہلا فیصلہ کن معرکہ

17رمضان المبارک کو ملنے والی فتح اسلام کی عالمگیر ترویج کا پیش خیمہ ثابت ہوئی:اسے قرآن کی اصطلاح میں ’’یوم الفرقان ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے

حضرت عائشہ صدیقہؓ:اخلاق و کردار کا روشن مینار

خادمہ ہونے کے باوجود آپؓ نبی کریم ﷺ کے کام خود انجام دیتیں، آٹا پیستیں، کھانا پکاتیں، بستر بچھاتیں: سیدہ عائشہ ؓسے مروی احادیث کی تعداد 2210 ہے، کثرت کے ساتھ غلاموں کو آزاد کیا، حج کی پابند تھیں

خلاصہ قرآن(پارہ 17)

سورۃ الانبیاء : سورۂ انبیا میں فرمایاگیا ہے: لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا اور وہ غفلت کا شکار ہیں، دین کی باتوں سے رو گردانی کر رہے ہیں اور جب بھی نصیحت کی کوئی نئی بات ان کے پاس آتی ہے تو توجہ سے نہیں سنتے‘ بس کھیل تماشے کے انداز سے سنتے ہیں اور نبی کریم کو اپنے جیسا بشر قرار دیتے ہیں‘ قرآن کو جادو‘ خوابِ پریشاں‘ شاعری اور خود ساختہ کلام قرار دیتے ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 17)

سورۃ الانبیاء :سترہویں پارے کا آغاز سورۃ الانبیاء سے ہوتا ہے۔ سورۂ انبیاء میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ لوگوں کے حساب و کتاب کا وقت آن پہنچا ہے لیکن لوگ اس سے غفلت برت رہے ہیں۔