بلوچستان کٹھن چیلنجز سے نبردآزما
بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد صوبے کے مختلف علاقوں میں خوف اور بے یقینی کی فضا برقرار ہے۔بظاہر حالات معمول کی طرف لوٹ رہے ہیں، بازار کھلے ہیں، سڑکوں پر ٹریفک رواں دواں ہے مگر شہریوں کے چہروں پر خوف صاف محسوس کیا جا سکتا ہے۔
زندگی چل تو رہی ہے لیکن تحفظ کا احساس اور اعتماد کھوگیا ہے۔شہری کھل کر بات کرنے سے گریزاں ہیں، گویا خوف نے زبانوں کو بھی خاموش کر دیا ہے۔ نجی محفلوں میں تشویش ضرور سنائی دیتی ہے مگر عوامی سطح پر خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ تاجر برادری حالات کے باعث پریشان اور کاروبار ٹھپ ہونے کا شکوہ کرتی ہے۔اگرچہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے نوشکی اور کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کیخلاف کارروائیاں جاری ہیں مگر عام شہریوں کی روزمرہ زندگی ابھی معمول پر نہیں آسکی۔ حالیہ حملوں کے بعد کوئٹہ، گوادر، نوشکی، پسنی، مستونگ، خاران، واشک، تربت اور دیگر حساس علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ صوبے کی قومی شاہراہوں پر فورسز کی پٹرولنگ میں اضافہ کیا گیا ہے۔ کئی علاقوں میں کاروباری مراکز سر شام ہی بند ہونے لگے ہیں۔سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد وں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنز جاری ہیں اور صورتحال کو مکمل طور پر قابو میں لانے کیلئے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں تیزی لائی گئی ہے۔
حکام کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف بھی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق امن و امان کی بہتری کے ساتھ ساتھ معاشی سرگرمیوں کی بحالی، مقامی سطح پر لوگوں کی انگیجمنٹ اور موثر حکمت عملی صورتحال کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔بلوچستان میں پائیدار امن کیلئے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ سیاسی و سماجی سطح پر اقدامات، نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع، ترقیاتی منصوبوں کی تیزی سے تکمیل اور کرپشن پر قابو پانے جیسے اقدامات حالات کوبہتر کرسکتے ہیں۔فی الوقت سکیورٹی فورسز کے آپریشنز جاری ہیں اور حکام پْر امید ہیں کہ آنے والے دنوں میں صورتحال بہتر ہوجائیگی، مگر صوبے کے عوام معمولاتِ زندگی کی مکمل بحالی کے منتظر ہیں۔
بلوچستان طویل عرصے سے امن وامان، ترقی اور معاشی استحکام جیسے کٹھن چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ وفاق اور صوبے کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی، سیاسی قیادت کے مشترکہ موقف اور عملی اقدامات نے امید کی کرن پیدا کی ہے کہ بلوچستان کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے کوئٹہ دورے کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ وزیراعلی پنجاب کی وزیر اعلیٰ بلوچستان ،گورنر بلوچستان اور کابینہ سے مشاورت اور شہدائے پولیس کیلواحقین سے اظہارِ یکجہتی دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کی تصویر پیش کرتی ہے۔ وزیراعلی پنجاب نے اپنے دورہ کے موقع پر ارکان اسمبلی اور کابینہ سے خطاب کے دوران کہاکہ بلوچستان میں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی عوامی فلاح و بہبود اور قیام امن کیلئے جو اقدامات کر رہے ہیں وہ باعث اطمینان اور دیرپا امن و پائیدار ترقی کے ضامن ہیں۔
انہوں نے بلوچستان کے عوام کے جذبے، قربانیوں اور پاکستان کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ قومی یکجہتی اور سلامتی کیلئے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو درپیش چیلنجز میں پنجاب ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا، پنجاب حکومت ہر سطح پر بلوچستان کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے سکیورٹی فورسز کیلئے 10 ارب روپے کی معاونت ایک غیر معمولی اور قابلِ تحسین قدم ہے جو اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک صوبے یا ادارے کی نہیں بلکہ پوری ریاست کی مشترکہ جنگ ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل سے بھی ملاقات کی۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا شہدائے پولیس کے گھروں کا دورہ ذمہ دار اور حساس قیادت کی عکاسی ہے۔ شہداکے بچوں کو قوم کا مستقبل قرار دینا اور ان کی تعلیم، کفالت اور روزگار کی مکمل ذمہ داری لینا ظاہر کرتا ہے کہ حکومت بلوچستان اپنے محافظوں کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دے گی۔ صوبائی حکومت کی جانب سے دو دو سرکاری ملازمتوں، فوری مالی معاونت، گھر کی تعمیر کیلئے وسائل اور تعلیمی اخراجات کی ذمہ داری ریاستی عزم کی مضبوط مثال ہے۔شہید اے ایس آئی محمود الرحمن کے نام پر تھانے کا نام منسوب کردیا گیا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ قوم اپنے ہیروز کو کبھی فراموش نہیں کرتی۔ دہشت گردی کے خلاف شفاف اور پیشہ ورانہ تحقیقات، سہولت کاروں تک پہنچنے کا عزم اور دشمن قوتوں کی سازشوں کو بے نقاب کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کھل کر دشمن قوتوں، بالخصوص بھارت کی جانب سے دہشت گردی کے ذریعے عدم استحکام کی سازشوں کی نشاندہی کی۔ ریاستی سطح پر اس واضح موقف سے نہ صرف عوام کا اعتماد بحال ہوتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کا بیانیہ مضبوط ہوتا ہے۔
دوسری جانب نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے بلوچستان کے حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ ،سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو صرف سکیورٹی کے زاویے سے دیکھنا مسئلے کو مزید گمبھیر بنا رہا ہے۔ ان کے مطابق روزمرہ کی سطح پر لاپتا افراد کی شکایات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست اور عوام کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ وہ اس امر پر زور دیتے ہیں کہ سیاسی قوتوں اور عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لیے بغیر پائیدار حل ممکن نہیں۔ 1973 کے آئین، 18ویں ترمیم، این ایف سی ایوارڈ اور وسائل پر صوبائی حق کی بات اسی سیاسی شمولیت کی بنیاد ہے جسے نظرانداز کیا جا رہا ہے،اسی طرح جے یو آئی کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع کا کہنا تھا کہ صوبے میں عوام کی رائے کو کچل کر مصنوعی قیادت مسلط کی گئی جس کے نتائج بدامنی، بے یقینی اور عدم استحکام کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔
تعلیم، صحت، معیشت اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال اس سیاسی انجینئرنگ کا براہِ راست نتیجہ بتائی جا رہی ہے۔ دونوں رہنماوں کا مشترکہ نکتہ یہ ہے کہ بلوچستان میں مکالمے کا ماحول ختم ہو چکا ہے۔ جبری گمشدگیوں، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، سرحدی تجارت کو سمگلنگ قرار دے کر لاکھوں افراد کا روزگار چھیننے اور کرپشن کے پھیلاؤ جیسے مسائل عوام میں شدید بے چینی پیدا کر رہے ہیں۔ مولانا عبدالواسع کے مطابق مسائل کا حل تصادم نہیں بلکہ افہام و تفہیم ہے جبکہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے نزدیک ریاست کودل بڑاکرکے سیاسی حل کی طرف آنا ہوگا۔