پی ایس ایل کے میچ پشاور میں بھی
رواں ہفتہ خیبرپختونخوا کے عوام کیلئے دو خوشخبریاں آئیں۔ پہلی یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن، ترقی، خوشحالی اور استحکام کیلئے سول اور عسکری قیادت ایک پیج پر آگئی ہے جو اس صوبے کے عوام کیلئے امید کی کرن ہے۔
دوسری خوشخبری یہ کہ پی ایس ایل کے میچز اب پشاور میں بھی ہوں گے اور ملک کے دیگر حصوں کی طرح یہاں کے عوام بھی اپنے محبوب کھلاڑیوں کو اپنے درمیان کھیلتا دیکھ سکیں گے۔ کئی سالوں سے کرکٹ کی رونقوں سے محروم پشاور کے گراؤنڈ اب آباد ہوجائیں گے اور چھکوں چوکوں کی برسات یقینا یہاں کے عوام کے چہروں پر خوشیوں کے رنگ بکھیرے گی۔
ملک کا سیاسی ماحول پراگندہ ہے ایسے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں بیٹھنا خوش آئند ثابت ہوا۔ سہیل آفریدی کو یہ بات سمجھ آگئی ہے کہ وفاق اور ریاست کی پالیسی سے ہٹ کر حکومت چلانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے اوروہ بھی ایسے حالات میں کہ جب صوبہ ہر طرف سے دہشت گردوں کے نرغے میں ہو،فوجی اور پولیس جوان اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہوں۔ اس کاایک خوش آئند پہلو یہ بھی ہے کہ اب وفاقی وزرا کی جانب سے ایک صوبے کے وزیراعلیٰ پر لغو اور بے ہودہ الزام تراشی کا سلسلہ بھی رک جائے گا۔گزشتہ ہفتے ہونے والی ایپکس کمیٹی کے تسلسل میں وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے گزشتہ روزپشاور کا دورہ کیا جہاں انہوں نے امن وامان کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سمیت ان کی کابینہ کے ارکان،کور کمانڈر پشاور اورصوبائی اور وفاقی اداروں کے افسروں نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں خیبرپختونخوا حکومت کے مطالبے کے مطابق مستقل امن کیلئے متفقہ پالیسی پر مشاورت کی گئی۔وزیراعلیٰ کو امن وامان کی صورتحال،افغانستان سے تعلقات،وہاں سے ہونے والی تشکیلات اوریہاں پر ہونے والے حملوں اور ان میں ہونے والی شہادتوں کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔
اس حوالے سے ایک جامع میکینزم تشکیل دیاگیا جس میں عسکری کارروائیوں کے ساتھ معیشت کے پہلو کو بھی دیکھا جائے گا۔اجلاس میں اتفاق رائے سے ملاکنڈ ڈویژن میں نظم ونسق کی ذمہ داری صوبائی اداروں کو سونپنے کی منظوری دی گئی۔ اس ماڈل کو دیگر شورش زدہ اضلاع جن میں خیبر،کرم اور اورکزئی شامل ہیں، تک پھیلایاجائے گا۔ ایک ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جس میں وزیراعلیٰ، کور کمانڈر پشاور اورمتعلقہ اضلاع کے منتخب نمائندے اور دیگر حکام شریک ہوں گے۔ یہ کمیٹی عسکری کارروائیوں کا جائزہ لے گی اور اہم فیصلے کرے گی۔ یہ وہ دیرینہ مطالبہ ہے جو اس سے قبل علی امین گنڈاپور اور پھر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے تواتر سے سامنے آتا رہاکہ ٹارگٹڈ آپریشن صوبائی حکومت کی مشاورت سے کئے جائیں۔ ابتدا میں تو یہ ناممکن لگ رہا تھا لیکن اب ایسا میکینزم تشکیل دے دیا گیا ہے جو تمام سٹیک ہولڈرز کیلئے قابل قبول ہے۔ اب بال صوبائی حکومت کے کورٹ میں ہے کہ وہ کس طرح ان معاملات کو خوش اسلوبی کے ساتھ آگے بڑھاتی ہے۔بے گھر افراد کیلئے بھی اسی کمیٹی کے ذریعے اقدامات کئے جائیں گے۔
اجلاس میں غیر قانونی سم کارڈز،دھماکہ خیز مواد اوربھتہ خوری جیسے جرائم کے خلاف بھی سخت اقدامات کا فیصلہ کیاگیا۔ یہ اجلاس اس لئے بھی خوش آئند ہے کہ بالآخر خیبرپختونخوا حکومت امن وامان کے حوالے سے وفاق کے ساتھ بیٹھ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ بیٹھکیں یہیں تک محدود نہیں بیک گراؤنڈ میں بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے بھی مثبت پیشرفت کی توقع کی جارہی ہے۔ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے دور میں بھی اسی قسم کی مثبت پیشرفت ہوئی تھی تاہم پارٹی کے بعض رہنماؤں اور چند غیرمتعلقہ لوگوں کے غلط فیصلوں سے معاملہ الٹ گیا۔
افغانستان کے حوالے سے ریاستی پالیسی تشکیل دینے کیلئے خیبرپختونخوا حکومت اور عوام کی انتہائی اہمیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقتدرہ اس حوالے سے اتفاق رائے چاہتی ہے تاکہ یکسوئی کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی جاسکے۔ پاک افغان بارڈر کھولنے یا نہ کھولنے کے حوالے سے بھی متفقہ پالیسی کا امکان ہے۔ تاہم اس عمل کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پرپارٹی کے اندر اورباہر سے دباؤ کا امکان بھی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس حد تک یہ دباؤ برداشت کر تے ہیں۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے وہ کیا لائحہ عمل سامنے لاتے ہیں۔ بہرحال ماضی قریب کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس کیاجاسکتا ہے کہ ایسی تمام قربتیں بلاوجہ نہیں ہوتیں۔جہاں تک تحریک انصاف کی پہیہ جام اور شٹرڈاؤن کال کی بات ہے تو اسے مسترد کیاگیا۔ پشاورسمیت بیشتر اضلاع کے بازار کھلے رہے اورسڑکوں پر پہیہ چلتا رہا۔
بعض اضلاع میں تو یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ تاجروں نے زبردستی بند کروائی گئی دکانیں کھلوائیں۔ اگرچہ بیشتر اضلاع میں حکومتی مشینری یا طاقت کا استعمال نہیں کیاگیا اس کے باوجود چند علاقوں میں زورزبردستی دیکھنے کے واقعات سامنے آئے تاہم مجموعی طورپر یہ ہڑتال پرامن رہی، لیکن اس سے جو توقعات پارٹی لیڈر شپ نے وابستہ کررکھی تھیں وہ پوری نہ ہوسکیں۔ شٹرڈاؤن اور پہیہ جام کی کال کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ ایک روز پہلے پشاور میں کچھ وزرا نے تاجرتنظیموں اور ٹرانسپورٹرز سے ملاقاتیں کیں اوران کی جانب سے یقین دہانیوں کے اعلانات کئے جو بعدازاں غلط ثابت ہوئے۔ خیبرپختونخوا چیمبر آف کامرس نے پہلے ہی ہڑتال کا حصہ بننے سے انکار کردیاتھا، ٹرانسپورٹرز نے بھی پہیہ روکنے میں ساتھ نہ دینے کا اعلان کیا،وجہ یہی بنی کہ خیبرپختونخوا ویسے بھی دہشت گردی کا شکار ہے، کاروبار تباہ ہیں، نوکریاں نہیں، آئے روز کی ہڑتالوں اور مظاہروں نے معیشت کی مزید کمر توڑ دی ہے۔ ایسے میں کوئی تاجر یا ٹرانسپورٹر اس بات پر تیار نہیں تھا کہ وہ اپنا مزید مالی نقصان کروائے۔
سیاستدانوں کو اب یہ سمجھنا ہوگاکہ موجودہ معاشی صورتحال میں ایسی ہڑتالوں کی کوئی بھی کال کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اس ناکام ہڑتال پر پی ٹی آئی کے اندر سے بھی شدید قسم کی تنقید سامنے آرہی ہے، مزید دھڑے اور اختلافات کی خبریں میڈیا کی زینت بن رہی ہیں، ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے بذات خود اس دن کسی بھی ریلی کی قیادت نہیں کی۔ دیکھاجائے تو یہ ایک دانشمندانہ فیصلہ تھا، وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ان کی شرکت کوئی اچھا تاثر نہ دیتی، لیکن پارٹی کارکن یا رہنما کی حیثیت سے البتہ ان پر یہ دباؤ برقرار ہے۔ یہی دباؤ کم کرنے کیلئے گزشتہ روز آزادی یا موت جیسے بینر سے سجے کنٹینر کی ویڈیووائرل کی گئی۔